مسجد کی تعمیر کیلئے چندہ اکٹھا کرنے پر کورین یوٹیوبر مشکل میں پڑ گیا

سیئول: (ویب ڈیسک) جنوبی کوریا میں مسجد کی تعمیر کیلئے چندہ اکٹھا کرنے پر معروف نوجوان کورین یوٹیوبر مشکل میں پڑ گیا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019ء میں اسلام قبول کرنے والے داؤد کیم پر جنوبی کوریا میں الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ مسجد تعمیر کرنے کیلئے چندے کے نام پر مسلمانوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے پیسے بٹور رہا ہے اس حوالے سے کورین مسلمان یوٹیوبر کا مساجد کی تعمیر کیلئے چندہ نجی اکاؤنٹس میں اکھٹا کرنے کے سکینڈل نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

کورین مسلم داؤد کیم یوٹیوب پر 5 ملین اور انسٹا گرام پر 3 ملین سے زیادہ فالوورز کے ساتھ غیر کوریائی مسلمانوں میں خاصہ مقبول ہے، داؤد کیم کا حال ہی میں جنوبی کوریا میں سرکاری اسلامی حکام کے ساتھ اس بات پر تنازع کھڑا ہو گیا کہ وہ ڈایگو شہر میں ایک مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی مالی اعانت کیلئے اپنے فالوورز سے چندہ اکھٹا کر رہے ہیں۔

مسجد کی تعمیر کے امکان پر حکام اور علاقے کے رہائشیوں کے درمیان چار سال سے تنازع چل رہا ہے، اس دوران داؤد کیم کو اپنے یوٹیوب چینل کیلئے مواد ملتا رہا، حکومت کی طرف سے تعمیراتی عمل کو درست قرار دیے جانے کے باوجود علاقے کے مکینوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔

داؤد کیم نے 5 ماہ قبل اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے اپنے غیر ملکی فالوورز سے عطیات جمع کرانے کیلئے کہا اور اپنا پے پال کا ذاتی اکاؤنٹ بھی شیئر کیا، داؤد نے یوٹیوب ویڈیو میں کہا کہ اگر آپ کوریا میں اسلام کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو براہ کرم چندہ دیں۔

یوٹیوبر داؤد کیم نے ایک سال قبل بھی ویڈیو پوسٹ کی جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے پاس جنوبی کوریا میں مساجد کی تعمیر کے دو منصوبے ہیں، پہلا ڈیگو میں اور دوسرا دارالحکومت سیئول میں، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مداحوں سے بطور عطیات 50 ہزار ڈالر اکٹھا کر چکے اور ان عطیات کی وجہ سے وہ ڈیگو مسجد کی تعمیر کا عمل دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔

داؤد کیم کی جانب سے ویڈیو جاری ہونے کے بعد کوریا میں سرکاری اسلامی تنظیم کے این یو نے وضاحتی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیوبر داؤد کیم نے مسجد کیلئے جمع ہونے والی رقم کو عطیہ نہیں کیا، اس نے 2022ء میں صرف ایک بار 2 ہزار امریکی ڈالر بطور عطیہ دیئے، جس کے بعد داؤد کیم سے پوچھا جانے لگا کہ 2 ہزار جمع کرانے کے بعد باقی عطیہ کردہ رقم کہاں گئی؟۔

کورین اسلامک یونین نے بھی سوشل میڈیا پر وضاحتی بیان میں کہا کہ ہماری تنظیم جنوبی کوریا کی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ واحد باضابطہ اسلامی ادارہ ہے اور ملک میں مساجد کی تعمیر اور ان کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کا مجاز ہے، داؤد کیم کو جنوبی کوریا میں مسجد بنانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ داؤد کیم کے ملک میں مسجد کی تعمیر کے دعوؤں کا یونین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں