ٹرمپ نے بارہا غلط اندازہ لگایا اور ایرانی اقدامات پر حیران ہوتے رہے، راس ہیریسن
واشنگٹن: (دنیا نیوز) مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو راس ہیریسن نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ردعمل کا بارہا غلط اندازہ لگایا ہے اور وہ جنگ سے پہلے اور اس کے دوران بھی ایرانی اقدامات پر حیران ہوتے رہے۔
الجزیرہ سے گفتگو میں راس ہیریسن نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ٹرمپ کو توقع تھی کہ ایران ہتھیار ڈال دے گا مگر ایسا نہیں ہوا، جب امریکا و اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت بھی شامل تھی، تب بھی ٹرمپ کو حیرت ہوئی کہ ایرانی نظام نہیں گرا۔
راس ہیریسن کے مطابق ٹرمپ کے غلط اندازے آئندہ مزید خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایران نہایت حکمت عملی کے ساتھ پیچیدہ انداز میں کھیل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں کشیدگی کا تعلق اسرائیل یا امریکی اڈوں پر حملوں سے تھا مگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور ایران نے خود کھیل کے اصول طے کر لیے ہیں، جہاں اصل دباؤ کا مرکز آبنائے ہرمز بن چکی ہے، جو اس وقت ایران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔