وزیراعلیٰ بلوچستان کی عید کے دوسرے روز کھلی کچہری، عوامی مسائل سنے
اپر ڈیرہ بگٹی: (ویب ڈیسک) اپر ڈیرہ بگٹی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عید کے دوسرے دن کو بھی عوام کے نام کرتے ہوئے پاکستان ہاؤس میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جہاں انہوں نے مختلف اضلاع کے عمائدین اور شہریوں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی حل کے لیے احکامات جاری کیے۔
پاکستان ہاؤس میں منعقدہ عید ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عمائدین اور شہریوں کے ساتھ روایتی قبائلی انداز میں حال احوال معلوم کیا اور ان کے مسائل بغور سنے، اس موقع پر کوہلو، بارکھان، ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر اضلاع سے آئے ہوئے قبائلی عمائدین اور عوام نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔
عید کا دوسرا دن ایک عوامی کھلی کچہری میں تبدیل ہو گیا، جہاں وزیر اعلیٰ نے شہریوں کے مسائل سننے کے بعد موقع پر ہی ان کے حل کے لیے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔ وزیر اعلیٰ تقریباً 5 گھنٹے سے زائد وقت تک عوامی مجمع میں موجود رہے اور شہریوں سے براہِ راست گفتگو کرتے رہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوامی مسائل کا حل ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان، جو ملک کے 46 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، میں بکھری ہوئی آبادی تک بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی مواصلاتی ڈھانچے سے لے کر دیگر تمام سہولیات کی فراہمی ایک منظم حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ہے اور دستیاب وسائل کو عوامی فلاح کے اجتماعی منصوبوں پر بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں بھی عوامی بہبود کے قابلِ عمل منصوبے شامل کیے جائیں گے، جبکہ تمام منظور شدہ ترقیاتی منصوبے بجٹ کا حصہ ہوں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی امانت ہے اور وہ خود ان منصوبوں کی تشکیل سے لے کر تکمیل تک نگرانی کریں گے۔ اس موقع پر عمائدین اور عوام نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور مسائل کے حل کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔