مشرقِ وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے: روسی وزیرِ خارجہ
ماسکو: (دنیا نیوز) روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
سرگئی لاروف نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کے پاس مضبوط فوجی اور جدید دفاعی صلاحیت موجود ہے، جبکہ دنیا ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف واپس جا رہی ہے۔
انہوں نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے اور تیل کے لیے وینزویلا اور ایران میں دلچسپی رکھتا ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یورپ کو سستی توانائی سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ ہنگری اور سلوواکیہ سستی توانائی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین معاملے پر امریکا مزید رعایتیں چاہتا ہے، جبکہ یورپ نوآبادیاتی طرز کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا نقصان بالآخر کمزور ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے۔
سرگئی لاروف کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی بین الاقوامی نظام کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔