آسٹریلیا کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کی کمان خاتون جنرل کے سپرد
سڈنی: (دنیا نیوز) آسٹریلیا نے اپنی دفاعی قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی 125 سالہ عسکری تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو فوج کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
حکومتی بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سوسن کوائل جو اس وقت جوائنٹ کیپبلٹیز کی سربراہ ہیں، رواں برس جولائی میں لیفٹیننٹ جنرل سائمن سٹوارٹ کی جگہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالیں گی۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس فیصلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جولائی سے آسٹریلوی فوج کو اپنی تاریخ کی پہلی خاتون سربراہ میسر ہو گی جو ملک کے دفاعی نظام میں ایک نئی روایت کا آغاز ہے۔
وزیرِ دفاع ریچرڈ مارلس نے سوسن کوائل کی تقرری کو ایک انتہائی تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے ان کے اپنے الفاظ کا حوالہ دیا کہ ’جو چیز آپ کو سامنے نظر نہیں آتی، آپ وہ بن بھی نہیں سکتے۔‘
انہوں نے کہا کہ سوسن کی یہ کامیابی نہ صرف ان خواتین کے لیے گہرے معنی رکھتی ہے جو اس وقت آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں خدمات انجام دے رہی ہیں بلکہ ان خواتین کے لیے بھی ایک بڑی ترغیب ہے جو مستقبل میں فوج کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
55 سالہ سوسن کوائل نے 1987 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ اپنے طویل کیریئر کے دوران کئی اہم کمانڈ عہدوں پر فائز رہی ہیں، تاہم وہ آسٹریلوی فوج کی کسی بھی شاخ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بننے جا رہی ہیں، سوسن کوائل کی یہ تعیناتی ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب آسٹریلوی فوج اپنے صفوں میں خواتین افسران کی تعداد بڑھانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
اس وقت آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں خواتین کا مجموعی تناسب قریباً 21 فیصد ہے جبکہ اعلیٰ قیادت میں ان کی نمائندگی ساڑھے 18 فیصد ہے جسے حکومت 2030 تک بڑھا کر 25 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے، تاہم یہ پیش رفت ایک ایسے چیلنجنگ دور میں ہو رہی ہے جب فوج کو منظم جنسی ہراساں کیے جانے اور امتیازی سلوک کے سنگین الزامات کا سامنا ہے جس کے حوالے سے گزشتہ برس اکتوبر میں ایک بڑا قانونی مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا۔
دفاعی قیادت میں ہونے والی ان تبدیلیوں کے تحت دیگر اہم تقرریاں بھی کی گئی ہیں، جن میں موجودہ نیول چیف وائس ایڈمرل مارک ہیمنڈ کو ایڈمرل ڈیوڈ جانسٹن کی جگہ پوری آسٹریلوی ڈیفنس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، ان کی جگہ بحریہ کی کمان ریئر ایڈمرل میتھیو بکلی سنبھالیں گے جو اس وقت نائب سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد جہاں ملکی دفاع کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے وہاں عسکری قیادت میں صنفی تنوع کو فروغ دینا بھی حکومت کی اولین ترجیح نظر آتی ہے۔