9 مئی : روس کی تاریخ، قربانی اور قومی وقار کا دن

ماسکو: (شاہد گھمن) 9 مئی روس کی تاریخ کا صرف ایک قومی دن نہیں بلکہ یہ جذبۂ قربانی، قومی استقامت اور فاشزم کے خلاف عظیم انسانی جدوجہد کی علامت ہے۔ روس میں اس دن کو “یومِ فتح” کے طور پر منایا جاتا ہے، جب 1945 میں سوویت یونین نے نازی جرمنی کو شکست دے کر دوسری جنگِ عظیم کے یورپی محاذ کا خاتمہ کیا تھا۔

ماسکو کی فضا میں ہر سال 9 مئی کو ایک خاص کیفیت محسوس ہوتی ہے، ریڈ اسکوائر پر فوجی پریڈ، جنگی نغمے، سابق فوجیوں کے سینوں پر سجے تمغے، اور لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں اپنے شہداء کی تصاویر ، یہ سب اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ روسی قوم اپنی تاریخ اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔

روس میں دوسری جنگِ عظیم کو “گریٹ پیٹریاٹک وار” یعنی عظیم محبِ وطن جنگ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں سوویت یونین نے تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ جانوں کی قربانی دی۔ یہ تعداد صرف ایک اعداد و شمار نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے اجڑے گھر، یتیم بچے، تباہ شہر اور قربانیوں کی داستانیں ہیں۔

اس جنگ کا سب سے خونریز باب اسٹالن گراڈ کی جنگ تھی، جسے آج کا روسی شہر وولگوگراد کہا جاتا ہے۔ وہاں لاکھوں افراد نے جانیں قربان کیں، مگر نازی افواج کو آگے بڑھنے نہ دیا۔ آج بھی اس شہر کی فضاؤں میں تاریخ کی گونج سنائی دیتی ہے۔ “مدر لینڈ کالز” کا عظیم مجسمہ، اجتماعی قبریں، ابدی شعلہ، اور مارشل چوئیکوف و مشہور سنائپر واسیلی زائیتسیف کی قبریں اس جنگ کی خاموش مگر طاقتور گواہی دیتی ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پوتن ہر سال ریڈ اسکوائر میں ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہیں، جسے نہ صرف روس بلکہ پوری دنیا میں توجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے خطابات میں جنگِ عظیم دوم کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ عالمی صورتحال، قومی سلامتی، حب الوطنی اور روسی خودمختاری کا ذکر نمایاں ہوتا ہے۔

صدر پوتن بارہا یہ کہتے آئے ہیں کہ روس اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گا اور نہ ہی دنیا کو تاریخ مسخ کرنے کی اجازت دے گا۔ ان کے مطابق دوسری جنگِ عظیم میں سوویت عوام کی قربانی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قربانیوں میں شمار ہوتی ہے، جسے کمزور کرنے یا نظر انداز کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

ہر سال ان کے خطاب میں یہ پیغام بھی نمایاں ہوتا ہے کہ روس اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یومِ فتح روسی قوم کے لیے صرف ایک تاریخی تقریب نہیں بلکہ قومی طاقت، اتحاد اور عسکری وقار کی علامت بن چکا ہے۔

اس سال یومِ فتح کی تقریبات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ یوکرین تنازع، پابندیاں، نیٹو کی سرگرمیاں اور عالمی سیاسی تقسیم نے اس دن کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ریڈ اسکوائر کی پریڈ میں اس بار فوجی دستوں کی مارچ پاسٹ اور فضائی مظاہرے تو ہوں گے، مگر بھاری عسکری سازوسامان کی نمائش محدود رکھی گئی ہے۔ اس کے باوجود روسی عوام کے جذبات میں کوئی کمی نہیں۔ لوگ اپنے بزرگوں کی تصاویر اٹھائے “Immortal Regiment” مارچ میں شریک ہوتے ہیں، گویا وہ اپنے شہداء کو آج بھی اپنے ساتھ زندہ محسوس کرتے ہیں۔

روس میں 9 مئی صرف سرکاری سطح کی تقریب نہیں بلکہ ایک عوامی جذبہ ہے۔ گھروں، سڑکوں، سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں پر فتح کی علامتیں نمایاں ہوتی ہیں۔ بزرگ فوجیوں کو خصوصی عزت دی جاتی ہے، بچے جنگی گیت گاتے ہیں، جبکہ پورا ملک اپنے شہداء کو یاد کرتا ہے۔

روس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بھی یومِ فتح کی اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہے۔ پاکستانی عوام خود بھی قربانی، آزادی اور دفاعِ وطن کی تاریخ رکھتے ہیں، اسی لیے روس کے اس قومی دن کے جذبات کو قریب سے محسوس کرتے ہیں۔

9 مئی ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قوموں کے حوصلے، اتحاد اور قربانی سے جیتی جاتی ہیں۔ روس آج بھی اسی تاریخی بیانیے کو اپنی قومی طاقت کا محور سمجھتا ہے۔

ماسکو کی سڑکوں پر لہراتے سرخ جھنڈے، جنگی ترانے، آتش بازی اور بزرگ فوجیوں کی آنکھوں میں چمکتے آنسو یہ پیغام دیتے ہیں کہ قومیں اپنی تاریخ سے طاقت حاصل کرتی ہیں اور روس کے لیے 9 مئی اسی طاقت، وقار اور قربانی کی علامت ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں