روس اور چین ایک دوسرے کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اکٹھے کھڑے ہیں: پوتن

ماسکو: (شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روس اور چین کے تعلقات تاریخ کی غیر معمولی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، ریاستی وحدت اور بنیادی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل تعاون اور حمایت کے لیے تیار ہیں۔

چین کے دورے سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں صدر پوتن نے کہا کہ وہ اپنے دیرینہ اور قریبی دوست چینی صدر شی جن پنگ کی دعوت پر دوبارہ بیجنگ جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور مسلسل رابطے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے اور ان کی لامحدود صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، 25 برس قبل روس اور چین کے درمیان معاہدۂ حسنِ ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون پر دستخط کیے گئے تھے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی سٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے کہا کہ آج روس اور چین کے تعلقات واقعی ایک غیر معمولی سطح تک پہنچ چکے ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات کی خاص بات باہمی اعتماد، احترام، مساوی تعاون اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کی حمایت ہے، جس میں خودمختاری اور ریاستی اتحاد کا تحفظ بھی شامل ہے۔

پوتن نے کہا کہ وہ صدر شی جن پنگ کے روس کے ساتھ طویل المدتی تعاون کے عزم کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، روس چین کی صدیوں پرانی تاریخ، ثقافت، فنون اور سائنسی ترقی کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں اور باہمی تفہیم کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ سیاست، معیشت، دفاع، انسانی تعاون اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل تعاون بڑھا رہے ہیں، دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا اور دونوں ریاستوں کی ترقی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

پوتن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس اور چین کے درمیان گرمجوش اور دوستانہ تعلقات دونوں ممالک کو بڑے اہداف طے کرنے اور انہیں عملی شکل دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اقتصادی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، دونوں ممالک نے باہمی تجارت میں تقریباً مکمل طور پر روبل اور یوان کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

صدر پوتن نے روس اور چین کے درمیان ویزا فری نظام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاحت، کاروباری روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں