حملوں کیخلاف کارروائی کا اختیار صرف حکومت کے پاس ہے: عراقی وزیراعظم
بغداد: (ویب ڈیسک) عراق میں امریکی اور سعودی افواج کی کارروائیوں کے بعد عراقی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ عراقی سرزمین سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا حملوں سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار صرف عراقی حکومت کے پاس ہے۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق عراقی سیکیورٹی کونسل نے امریکی اور سعودی حملوں کے معاملے پر ضروری سفارتی اقدامات کے لیے وزارتِ خارجہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
بیان میں تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
عراقی حکومت نے واضح کیا کہ وہ عراق کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور ملکی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔
دوسری جانب عراقی ملیشیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی اور سعودی افواج نے مبینہ ایرانی حمایت یافتہ مراکز کو نشانہ بنایا، جس میں 20 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے، ملیشیا کے مطابق حملے ان کے ہیڈکوارٹرز پر کیے گئے، جبکہ سب سے بڑا حملہ صوبہ نینوا میں ہوا جہاں 10 افراد مارے گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ کارروائی سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر کی گئی۔
ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملے ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے خلاف کیے گئے، جن پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی تیاری کا الزام تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments