حق کی فتح
فتح مکہ میں اسلامی شوکت کا ایسا اظہار ہوا کہ عالم عرب پر اسلام کی دھاک بیٹھ گئی
فتح مکہ سرکار دوعالم ﷺکی مدنی زندگی کا ایک اہم ترین غزوہ ہے۔عہد نبویؐ کے تمام غزوات کی ایک الگ اہمیت ہے۔ لیکن مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ فتح مکہ میں اسلامی شوکت کا ایسا اظہار ہوا کہ عالم عرب پر اسلام کی دھاک بیٹھ گئی۔مسلمانوں کو بیت اللہ میں داخل ہوکر طواف کا موقع ملا۔ کعبۃ اللہ کو بتوں اور تصویروں سے پاک کردیا گیا۔ اور ایک طویل عرصہ کے بعد اللہ کی وحدانیت کا علم کعبہ کی چھت پر لہرایا گیا۔
غزوہ فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل مسلمانوں اور قریش کے مابین صلح حدیبیہ کے نام سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ جس نے خاص طور پر امن و امان کی ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ اس معاہدہ میں تمام قبائل کو اختیار دیا گیا تھا جس کے ساتھ ان کی مرضی ہے انکے ساتھ اپنا الحاق کر سکتے ہیں۔ قبائل مکہ کے دو بڑے قبیلے جنکے نام بنو بکر اور بنو خزاعہ تھے۔ ان کی جنگ و جدل اورباہمی دشمنی کی اپنی ایک الگ تاریخ تھی لیکن صلح حدیبیہ کے سبب ایک بار تمام دشمنیاں دب گئیں تھیں۔چونکہ معاہدہ میں یہ شق شامل تھی کہ جوقبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہوگا وہ اسی کا حصہ تصور کیا جائے گا۔ اس پر حملہ اس فریق پر حملہ تصور ہوگا اس معاہدہ کے تحت بنو خزاعہ آقائے دو عالمؐ کے گروہ میں شامل ہوگئے۔ جبکہ بنوبکر قریش مکہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔ کچھ عرصہ فریقین پرامن رہے۔اس صلح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام کی ترقی میں تیزی آگئی۔تاہم شعبان 8 ہجری630ء میں بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کردیا۔ اس وقت بنوں خزاعہ ایک چشمہ پر موجود تھے۔اس موقع پر قریش مکہ نے معاہدہ کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف ان کو ہتھیار فراہم کیے بلکہ قریش مکہ کے کئی لوگ نقاب اوڑھ کر ان کے ساتھ حملہ میں شامل ہو گئے ۔ یہاں تک کہ بنو خزاعہ حرم تک پہنچ گئے۔اور ان سے امن کی درخواست کی لیکن حرم کا بھی لحاظ نہ رکھا۔اس واقعہ کے بعد عمرو بن سالم خزاعی نے مدینہ منورہ کارخ کیااور دربار رسالتؐ میں اپنی عرضداشت پیش کی ۔رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہا’’ عمرو بن سالم تمہاری مدد کی گئی( یعنی تمہاری مدد کی جائے گی) ‘‘اس کے بعد بدیل بن ورقاء کی سربراہی میں ایک وفد بارگاہ رسالتؐ میں حاضر ہوا۔ تفصیلات عرض کی اورساتھ یہ بھی عرض کیا مکہ کے کون سے لوگ اس میں ملوث پائے گئے تھے۔یوں صلح حدیبیہ ٹوٹ گئی اور مسلمانوں نے کفار سے بدلہ لینے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ ایک اور روایت میں موجود ہے کہ اس واقعہ سے3 دن قبل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کو تیاری کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ اس تیاری کی بابت کسی کو معلوم نہ ہو یہاں تک حضرت ابوبکرصدیقؓتشریف لائے اورتیاری دیکھ کر پوچھا تو ام المومنین حضرت عائشہؓ نے ان کو بتانے سے معذرت فرمائی۔
قریش مکہ کو اس بدعہدی کا جلد احساس ہوگیا۔ان کو اس بات کا بھی ادراک ہوگیا کہ اب مسلمان کمزور نہیں رہے۔ 10 رمضان 8 ہجری کو 10 ہزار صحابہ کرامؓ کا لشکر لے کر حضو اکرم ؐنے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کارخ فرمایا۔حضور اکرم ﷺپیش قدمی کرتے ہوئے مکہ مکرمہ سے محض ایک منزل کے فاصلے پر ایک مقام پر قیام فرمایا۔ آپؐ نے سارے اسلامی لشکر کو پورے میدان میں پھیلا دیا۔ ہر صحابی کو کہا کہ اپنا الگ الگ چولہا روشن کریں۔ رات کے وقت ابوسفیان خبر گیری کے لیے مکہ سے باہر نکلا تو آگ کا اتنا بڑا الاؤ دیکھ کر پریشان ہو گیا۔حضور اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں مختلف راستوں سے داخل ہونے کی حکمت عملی اختیار فرمائی۔ حضرت خالد بن ولید ؓکو حکم دیا کہ وہ مکہ مکرمہ کے زیریں حصے کی طرف سے داخل ہوں۔ انکو راستے میں کچھ مزاحمت ہوئی جس کو حضرت خالد بن ولیدؓ نے کچل دیا۔ حضرت زبیر بن عوامؓ کو حکم دیا کہ وہ مکہ کے بالائی حصہ کی طرف سے داخل ہوں۔ اورمقام حجون میں انتظار کریں۔ حضرت ابوعبیدہ ؓکو حکم دیا کہ وہ وسطی راستے سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوں۔ یہ تمام لشکر اپنے اپنے مقررہ راستوں سے ہو کر مقررہ مقام پر پہنچ گئے۔اور آقائے دو عالمﷺ کی تشریف آوری کا انتظار کرنے لگے۔
اللہ کے آخری نبیؐ آج اپنے اس آبائی شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہو رہے تھے۔جہاں سے رات کی تاریکی میں نکلنا پڑا تھا جہاں پر آپؐ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔ جہاں پر مکہ کی وسعتیں آپؐ پر تنگ کر دی گئی تھیں۔ جہاں آپؐ کو طواف کرنے سے روک دیا جاتا تھا۔جہاں آپ ؐپر اوجھڑی ڈال دی جاتی تھی۔جہاں آپؐ پر پتھر برسائے جاتے تھے۔ آج اس شہر میں لشکر کے ساتھ داخل ہو رہے تھے۔ آپ ؐنے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا ایک اونٹنی پر سوار تھے۔ جو نہی آپﷺ کی نظر بیت اللہ شریف پر پڑی آپؐ کا سر اقدس اللہ کریم کی بارگاہ میں جھک گیا۔ آپؐ نے اپنا سر اس قدر جھکایا کہ عمامہ شریف کی سلوٹیں ڈھلیں پڑ گئی۔ اونٹنی پر ہی آپؐ نے طواف فرمایا۔مختلف کتب سیرت میں حضور اکرم ﷺ کا خطبہ درج ہے اس کا مفہوم عرض کر رہا ہوں آپؐ نے فرمایا ’’اے قریشیو اللہ نے تم سے جاہلیت کے غرور کو ختم کردیا۔ سب آدم ؑکی اولاد ہیں اورآدم ؑمٹی سے بنے تھے۔تم میں سے بہتر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ اے قریش بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟‘‘ سب نے کہاآپؐ شریف بھائی ہیں۔ شریف بھائی کے بیٹے ہیں آپؐ جو کریں گے اچھا کریں گے۔ آپ ؐنے فرمایا’’ جاؤ تمہیں آزاد کیا سب کو معاف کیا۔‘‘ یہ جرأت انگیز حوصلہ صرف آپ ؐ کاہی ہوسکتا ہے ورنہ اس موقع پر انسان کہاں قابو میں رہتا ہے۔ آپؐ کی اس کیفیت کو علامہ اقبال ؒنے یوں بیان کیا۔
آنکہ بر اعدا در رحمت کشاد
مکہ راہ پیغام لا تثریف داد
وقت ھیجا تیغ او آھن گداز
دیدہ او اشک بار اندر نماز
ترجمہ ’’جس نے دشمنوں پر رحمت کا دروازہ کھولا۔ جس نے مکہ کے لوگوں کیلئے لا تثریب کا پیغام دیا۔ میدان جنگ میں آپکی تلوار لوہے کو پگھلا دیتی ہے۔ لیکن آنکھوں سے اشک جاری ہورہے ہوں گے۔‘‘فتح مکہ کا سب سے اہم مرحلہ بیت اللہ شریف کو بتوں سے پاک کرنا تھا۔ اللہ ہمیں سیرت رسولؐ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین