ملت کا پاسباں
مِلّت کا پاسباں ہے محمد علی جناح مِلّت ہے جسم، جاں ہے محمد علی جناح
صد شکر پھر ہے گرمِ سفر اپنا کارواں
اور میرِ کارواں ہے محمد علی جناح
تصویرِ عزم، جانِ وفا، روحِ حریت
ہے کون ؟ بے گماں ہے محمد علی جناح
لگتا ہے ٹھیک جا کے نشانے پہ اُس کا تیر
ایسی کڑی کماں ہے محمد علی جناح
مِلّت ہوئی ہے زندہ پھر اُس کی پکار سے
تقدیر کی اذاں ہے محمد علی جناح
قائدِاعظمؒ: مُحسنِ ملّت
محسن فارانی
قائدِاعظم، ہمارے محسنِ والا تبار
ان سے قائد کا ہمیں تھا مُدّتوں سے انتظار
جانبِ عرشِ بریں اُٹھتی نگاہیں بار بار
دِل حزیں اور جامہء عقل و خِرد تھا تار تار
تھی غلامی اور ہر فرد و بشر رنجور تھا
ہر مسلماں بے کس و بے بس تھا اور مجبور تھا
تھا یہاں برطانیہ کی حکمرانی کا چلن!
اور ہندو کا ہمیں گھیرے ہوئے تھا مکر و فن
چھیدتی تھی رُوح کو دُہری غلامی کی ُچبھن
نہ کسی رہبر میں تھی سچّی قیادت کی لگن
کشتیِ ملّت کا کھیون ہار نہ پتوار تھی
قوم رہبر کو ترستی تھی، بڑی لاچار تھی
تھی صدی اُنیسویں اور سن چھہتّر کا عمل
رحمت حق جوش میں آئی، گئی قسمت بدل
پونجا جناح کو دیا بیٹا خدا نے برمحل
اُس کا قانون و سیاست میں بجا ایسا طبل
اک طرف انگریز شاطر ہو رہا تھا شرمسار
اور برہمن ِپیستا تھا دانت اپنے بار بار
وہ محمد علی جینا قوم کے رہبر ہُوئے
ہوگئے جب منتخب وہ صدر مسلم لیگ کے
قائدِاعظم ہوئے، اندوہ کے بادل چَھٹے
قوم نے لُوٹے بہُت اُن کی قیادت کے مزے
اُن کی کوشش سے ہمیں آزاد پاکستان مِلا
قوم نے قربانیوں کا خوب پایا ہے صِلا
قائدِاعظم! تِری محنت پہ ہم ممنون ہیں
تیرے پاکستان میں آزاد ہیں، مصئون ہیں
ہم تِری خدماتِ ملّی پہ تِرے مرہون ہیں
ہر زباں پر تیری تعریفوں کے سو مضمون ہیں
دے نہیں سکتے صلہ تیری حسیں خدمات کا
تیرے فرقِ ناز پہ سہرا عُلُوِّ ذات کا
قائدِاعظم! تِرا فکر و عمل ہے راہبر
ہے تِرے کِردار کی لَو تیز تر، تابندہ تر !
تیرے ارشادات کی ضَو سُرخیِ خبر و نظر
تیری نسبت سے ہُوئے ہم اس جہاں میں معتبر
’’آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے‘‘
اے قائدِاعظمؒ
دُنیا میں کہاں ہوگا تِرا عزمِ مصمّم
اے قائدِاعظمؒ!
تھا تیرا ہر اِک فیصلہ مُستحسن و مُحکم
اے قائدِاعظمؒ!
روندی ہُوئی مِلّت کو دیا تُو نے سہارا
اور پار اُتارا
کیوں سامنے عظمت کے تِری سر نہ کریں خم
اے قائدِاعظمؒ!
سچ مچ تِرا کِردار تھا اِسلام کا کِردار
اے رہبرِ خوددار
لاریب تِری زِیست تھی اِیثارِ مُجسّم
اے قائدِاعظمؒ!
تو نے ہمیں مایوسی کے محبس سے نِکالا
جذبوں کو اُجالا
لہرا دِیے ہر سمت ترِے عزم نے پرچم
اے قائدِاعظمؒ!
مضبوطی سے اللہ کی رسّی کو سنبھالا
بِگڑی کو بنایا
ہم سے ہے تقاضا یہ تِری رُوح کا پیہم
اے قائدِاعظمؒ!
زاہدالحسن زاہد