فلسفئہ معراج ،سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیٰ ﷺ سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
مسجد الحرام مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک کے سفر کے ’’اسراء‘‘ اور بیت المقدس سے عرش تک کے سفر کو ’’معراج‘‘ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس اور وہاں سے عرش معلی تک کی سیر کرائی۔ پیش آنے والے چند واقعات پیش ہیں:
سفر اسراء و معراج کی ابتداء:ایک شب حضرت ام ہانی ؓکے دولت کدے پر آپﷺ آرام فرما تھے کہ یکایک مکان کی چھت پھٹی، ملائکہ کے جھرمٹ میں جبرئیل امین ؑاترے اور آپ ﷺکو نیم خوابی کے عالم سے بیداری کے عالم میں لائے۔آپ ﷺیہاں سے مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے،وہاں آپ ﷺ حطیم کعبہ میں آرام فرما ہوئے،آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’ راستے میں میرا گزر ایک ایسی زمین پر ہوا جس میں کھجور کے درخت بکثرت تھے جبرئیل امین ؑنے عرض کی کہ یہاں اتر کر دو رکعات نماز(نفل) پڑھ لیجیے اس جگہ کے بارے میں بتایا کہ یہ یثرب (مدینہ منورہ) ہے، جہاں آپﷺ نے ہجرت کر کے آنا ہے ۔ آگے وادی سینا میں پہنچے ۔یہاں آپ ﷺ کا گزر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک پرسے بھی ہوا‘‘،آپ ﷺ فرماتے ہیں ’’جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا، میں سرخ ٹیلے کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے قریب سے گزرا حضرت موسیٰ علیہ السلام قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے‘‘۔
غیبت کرنے والوں کا انجام بد:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب دیا گیا کہ یہ وہ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے (غیبت کرتے ) ہیں‘‘۔
سود خوروں کی سزا:آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میرا گزر ایسے لوگوں پر سے بھی ہوا جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے (انسانوں کے رہنے کے) گھر ہوتے ہیں ان میں سانپ تھے جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آرہے تھے۔ میں نے کہا کہ اے جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں‘‘۔
زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سزا:آپ ﷺ کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے اور کانٹے دار و خبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے تھے،پوچھا یہ کون ہیں؟ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ہیں۔
ڈاکہ ڈالنے والوں کی سزا:آپﷺ نے اس سفر میں ایک لکڑی دیکھی جو گزرنے والوں کے کپڑوں کو پھاڑ ڈالتی ہے۔ اس کے بارے میں حضرت جبرئیل امین ؑ نے بتایا کہ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو راستوں میں چھپ کر بیٹھتے ہیں اور ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
خیانت کرنے والوں کی سزا: آپ ؐکا گزر ایسے شخص پر سے ہوا جس نے لکڑیوں کا بھاری گٹھا جمع کر رکھا تھااور اس میں اُٹھانے کی ہمت نہیں تھی پھر بھی لکڑیاں جمع کر کر کے گٹھے کو بڑھا رہا تھا، پوچھنے پر جبرئیل علیہ السلام نے بتایا یہ وہ شخص ہے جو صحیح طور پر امانت ادا نہیں کرتا۔
جنت و جہنم: آپؐ کا گزر خوشبو والی جگہ سے ہوا ۔ حضرت جبرئیل ؑ نے بتایا کہ یہ جنت ہے اور بدبو والی جگہ جہنم سے بھی گزر ہوا۔حضرت ابن عباسؓ کی روایت میں ہے ،آپ ﷺنے دجال اور داروغہ جہنم کو بھی دیکھا ۔
بوڑھے مرد و عورت اور جماعت انبیائؑ:آپؐ کا گزر ایک بڑھیا پر سے ہوا اس نے آپؐ کو آواز دی، حضرت جبرائیل ؑنے عرض کی کہ آگے چلیے! پھر آپؐ کا گزر ایک بوڑھے شخص پر سے ہوا اس نے بھی آپؐ کو آواز دی، جبرائیل ؑ نے کہا آگے چلیے!پھر ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے آپ ؐکو سلام کیا۔ جبرائیل امین ؑ نے کہا کہ ان کے سلام کا جواب دیجیے۔ عرض کی کہ بوڑھی عورت دنیا اور بوڑھا مرد شیطان ہے دونوں کا مقصد آپؐ کو اپنی طرف مائل کرنا تھا اور جس جماعت نے آپؐ کو سلام کیا وہ حضرت ابراہیم ؑ، موسیٰ ؑ اور عیسیؑ ٰ ہیں۔
ماشاطہ فرعون:آپ ﷺ کو خوشبو آئی‘آپ ؐنے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے؟ جبرائیل امین ؑ نے کہا کہ یہ کنگھی کرنے والی(ماشاطہ)اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ پھر اس کا مکمل واقعہ آپؐ کو سنایا کہ ایک عورت ماشاطہ(کنگھی کرنے والی کو کہتے ہیں) فرعون اور اس کی اولاد کو کنگھی کیا کرتی تھی۔ ایک بارجب وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی اچانک اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی تو اس نے کہا:بسم اللہ۔ فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میرے باپ کے بارے میں کہہ رہی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ جو میرا اور تیرے باپ کا رب ہے یعنی اللہ رب العزت۔ فرعون کی بیٹی نے معاملہ اپنے باپ کے دربار تک پہنچا دیا۔ فرعون نے کہا کہ کیا تو میرے علاوہ کسی اور کو بھی رب مانتی ہے؟ اس عورت نے بڑی دلیری سے جواب دیا کہ ہاں جو میرا اور تیرا رب ہے۔ چنانچہ فرعون نے طیش میں آ کر ایک تانبے کے بڑے برتن میں پانی گرم کرایا اور حکم دیا کہ اس ماشاطہ اور اس کی اولاد کو اس کھولتے ہوئے گرم پانی میں پھینک دیا جائے۔ اس دوران فرعون نے پوچھا تیری کوئی خواہش ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں میری اور میری اولاد کی ہڈیاں اکٹھی کر کے ایک جگہ دفنا دینا۔فرعون نے اس کی یہ بات مان لی۔ چنانچہ اس کی اولاد کو ایک ایک کر کے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دیا گیا جب اس کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو خاتون کی ممتا نے جوش مارا اور وہ ذرا پیچھے ہٹی تو اس شیر خوار بچے نے کہا: اماں جان بے خوف و خطر اس میں کود جاؤ! آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔چنانچہ وہ ماشاطہ اس کھولتے ہوئے پانی میں کود گئی۔
مجاہدین اسلام کا اعزاز:آپ ؐنے چند اہل جنت کے احوال بھی مشاہدہ فرمائے۔ آپ ؐکا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو ایک ہی دن میں بیج بوتے اور فصل کاشت کر رہے تھے ان کے بارے میں جبرائیل ؑ نے بتایا کہ یہ آپ ؐکی امت کے مجاہدین ہیں ان کی ایک نیکی سات سو نیکیوں سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ ان کو اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔
انبیاء کرام ؑ کی امامت:آپ ﷺبیت المقدس پہنچے جہاں پہلے سے انبیاء کر ام علیہم السلام اور ملائکہ آپ ؐکے انتظار میں تھے‘ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ ؐکا ہاتھ پکڑا اور مصلیٰ امامت پر کھڑا کردیا۔آپ ؐنے ان سب کو دو رکعات نماز پڑھائی اور’’امام الانبیاء‘‘کے شرف سے مشرف ہوئے۔پھر بعض انبیاء کرام علیہم السلام سے آپؐ نے اللہ کی حمد سنی اور آخر میں خود آپؐ نے بھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔
بیت المقدس سے عرش معلی تک کا سفر شروع ہوا۔ بالترتیب پہلے تا ساتویں آسمان پر آپ ؐنے حضرت آدم ؑ، حضرت عیسیٰؑ،حضرت یوسف ؑ، حضرت ادریس ؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات فرمائی۔
سدرۃ المنتہیٰ:آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ ’’سدرہ‘‘ بیری کا نام ہے اور منتہی ٰ کہتے ہیں اختتام کو۔یہ وہ مقام ہے کہ جہاں نیچے والے اعمال پہنچتے ہیں تو اوپر والے فرشتے یہاں سے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں اور اوپر والے احکام وہاں آتے ہیں تو نیچے والے فرشتے وہاں سے نیچے لاتے ہیں۔آپؐ کے لیے ایک سواری رفرف آئی وہاں سے اوپر گئے ،آپؐ عرش معلی تک پہنچے۔
زیارت کا شرف:آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عرش پر گئے ہیں، خدا سے بات بھی کی اور دیدار بھی کیا، اللہ کی بات کو سنا بھی، اللہ کی ذات کو دیکھا بھی۔ حضرت ابن عباسؓسے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: رَاَیتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’میں نے نور اعظم (اللہ) کو دیکھا ہے۔ ‘‘
بارگاہ خداوندی میں ہدیہ نبویؐ:اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پوچھا: میرے پیغمبرؐ آپ مہمان بن کر آئے ہیں، ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں؟ آپﷺ نے عرض کی: اے اللہ! التَّحِیّاتُ لِلہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطیِّبَاتُ میری زبانی، بدنی اور مالی عبادت آپ کے لیے ہیں۔
بارگاہ الٰہی سے ملنے والے انعامات:اللہ رب العزت نے اس کے بدلے میں تین انعامات عطا فرمائے، فرمایا ’’اے نبیؐ! اگر آپ کی زبانی عبادت میرے لیے ہے تو پھر: ’’اَلسَّلَام عَلیک ایھا النبیُ‘‘میرا زبانی سلام بھی آپ ؐکے لیے‘اگر آپؐ کی بدنی عبادت میرے لیے ہے تو: وَرَحمَۃُ اللّہِ،میری رحمتیں بھی آپؐ کے لیے۔اگر آپ ؐکا مال میرے لیے ہے تو وَبَرکاتُہ: اس مال میں برکات میری طرف سے ہیں‘‘۔
نمازیں اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات: اسی موقع پر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم بھی ہوا۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ البقرہ کی آخری چند آیات بھی اسی سفر معراج میں بطور تحفہ آپؐ کو عنایت کی گئیں۔
طویل ترین سفر مختصر ترین وقت میں:آپؐ نے رات کے مختصر وقت میں تاریخ انسانی کا سب سے طویل سفر طے کیا۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، انبیاء کرام ؑو ملائکہ کی امامت، پھر وہاں سے آسمانوں تک تشریف لے جانا، انبیاء کرام ؑ سے ملاقات اور سدرۃ المنتہیٰ، صریف الاقلام، قاب قوسین تک رسائی اور اللہ جل شانہ کی ذا ت بے مثل کی زیارت، جنت ودوزخ کا مشاہدہ کر کے واپس تشریف لائے۔