نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- واشنگٹن:کورونا کا خطرہ،صدر بائیڈن کا تمام وفاقی ملازمین کو ماسک پہننے کا حکم
  • بریکنگ :- واشنگٹن:وفاقی دفاتر آنےوالے مہمانوں کےلیے بھی ماسک لازمی قرار
  • بریکنگ :- وفاقی ملازمین ویکسین لگوائیں یا باقاعدگی سے کوویڈ ٹیسٹنگ کیلئے تیاررہیں،بائیڈن
Coronavirus Updates

عیدالاضحیٰ اور فلسفۃ قربانی

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی


قربانی کا مسئلہ متفق علیہ مسائل میں سے ہے ۔ پہلی صدی ہجری کے آغاز سے آج تک مسلمان اس پر متفق رہے ہیں ۔ اسلامی تاریخ کی پوری چودہ صدیوں میں آج تک اس کے مشروع اور مسنون ہونے میں اختلاف نہیں پایا گیا۔اس میں آئمہ اربع اور اہل حدیث متفق ہیں ۔ اس میں شیعہ اور سنی متفق ہیں ۔ اس میں قدیم زمانے کے مجتہدین بھی متفق تھے اور آج کے سب گروہ بھی متفق ہیں ۔

 قربانی کا پس منظر

قربانی کیلئے حضورنبی اکرم ﷺنے اس خاص دن کا انتخاب فرمایا جس دن تاریخ اسلام کا سب سے زیادہ زریں کارنامہ حضرت ابراہیم ؑ وحضرت اسماعیل ؑ نے انجام دیا تھا ، یعنی یہ کہ بوڑھا باپ اپنے رب کا ایک اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کر دینے کیلئے ٹھنڈے دل سے آمادہ ہوگیا اور بیٹا بھی یہ سن کر کہ مالک اس کی جان کی قربانی چاہتاہے چھری تلے گردن رکھ دینے پر بخوشی راضی ہوگیا ۔ اس طرح یہ محض قربانی عبادت ہی نہ رہی بلکہ ایک بڑے تاریخی واقعہ کی یاد گار بھی بن گئی جو ایمانی زندگی کے اس منتہائے مقصود ، اس کے آئیڈیل مثل اعلیٰ کو مسلمانوں کے سامنے تازہ کرتی ہے کہ انہیں اللہ کی رضا پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کیلئے تیار رہنا چاہیے ۔ قربانی کا حکم بجا لانے اور عید کا تہوار منانے کیلئے سال کا کوئی دن بھی مقرر کیا جاسکتاتھا اس سے دوسرے تمام فوائد حاصل ہو جاتے مگر یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا اس کیلئے اس خاص تاریخ کا انتخاب ’’بیک کرشمہ دوکار ‘‘کامصداق ہے ۔ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺنے خود اس انتخاب کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے ۔ آپ ؐسے پوچھا گیا ’’ما ھذہ الاضاحی ‘‘ یہ قربانیاں کیسی ہیں ؟ تو آپ ؐ نے فرمایا ’’سنۃ ابیکم ابراھیم ‘‘ یہ تمہارے باپ ابراہیم ؑکی سنت ہے ۔‘‘(مسند احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ) اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ابراہیم ؑاس واقعہ کے بعد ہر سال اسی تاریخ کو جانور قربان فرمایا کرتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺنے اس سنت کو زندہ کیا اور اپنی امت کو ہدایت فرمائی کہ قرآن میں قربانی کا جو عام حکم دیاگیاہے ، اس کی تکمیل خصوصیت کے ساتھ اس روز کریں جس روز حضرت ابراہیمؑ اپنی اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کیا کرتے تھے ۔ 

قربانی کو عالمگیر بنانے میں مصلحت

 قربانی کیلئے اس دن کے انتخاب میں ایک اور مصلحت بھی تھی ۔ ہجرت کے بعد پہلے ہی سال جب حج کا زمانہ آیا تو مسلمانوں کو یہ بات بری طرح کھل رہی تھی کہ کفار نے ان پر حرم کے دروازے بند کر رکھے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس غم کی تلافی اس طرح فرمائی کہ ایام حج کو مدینے میں ان کیلئے ایام عید بنادیا ۔ آپﷺ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ 9 ذی الحج( یعنی یوم الحج) کی صبح سے جبکہ حاجی عرفات کیلئے روانہ ہوتے ہیں ، وہ ہر نماز کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد ۔ کا ورد شروع کریں اور 13 ذی الحج  (یعنی جب تک حجاج منیٰ میں ایام تشریق گزارتے ہیں ) اس کا سلسلہ جاری رکھیں ۔ نیز 10 ذی الحجہ کو جبکہ حجاج مزدلفہ سے منیٰ کی طرف پلٹتے ہیں اور قربانی اور طواف کی سعادت حاصل کرتے ہیں ، وہ بھی دوگانہ نماز ادا کر کے قربانی کریں ۔

قربانی کی اصل روح 

قربانی کا جو طریقہ حضوراکرم ﷺ نے سکھایا وہ یہ تھاکہ عید الاضحی کی دوگانہ نماز ادا کرنے کے بعد قربانی کی جائے اور جانور ذبح کرتے وقت یہ کہا جائے ۔ انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ۔ ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین ۔ لاشریک لہ وبذالک امرت وانا اول المسلمون ۔ اللھم منک ولک ۔ 

ترجمہ ’’ میں نے یک سو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ بے شک میری نماز اور قربانی اور میرا مرنا اور جینا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیاہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں خدایا یہ تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے ۔‘‘

ان الفاظ میں وہ تمام وجوہ شامل ہیں جن کی بنیاد پر قرآن مجید میں قربانی کا حکم دیا گیاہے ۔ ان میں اس بات کا اعلان ہے کہ دیوتائوں کے لیے قربانیاں کرنے والے مشرکین کے برعکس ہم صرف خدائے وحدہ لاشریک کیلئے قربانی کی عبادت بجا لارہے ہیں ۔ ان میں اس بات کا اعلان بھی ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی جو نعمت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بخشی ہے اس کا شکریہ ادا کرنے کیلئے یہ نذر ہم اس کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ ان میں یہ اعلان بھی ہے کہ اس مال کے اصل مالک ہم نہیں بلکہ یہ جانور اللہ کی مخلوق ہیں جن پر اس نے ہمیں تصرف کا اختیار بخشا ہے اور اس کی کبریائی کے اعتراف میں یہ نذرانہ ہم اس کے حضور پیش کر رہے ہیں ۔ اس میں یہ بھی اظہار ہے کہ جس طرح ہمیں حکم دیا گیا تھا ٹھیک اسی طرح ہم ابھی صرف اللہ کیلئے نماز ادا کر کے آئے ہیں اور اب خالصتاً اسی کیلئے قربانی کر رہے ہیں ۔ پھر ان سب سے بڑھ کر ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد و پیمان بھی ہے کہ ہماری نماز اور قربانی ہی نہیں ہمارا مرنا اور جینا بھی صرف اسی کی ذات پاک کیلئے ہے اور یہ عہد و پیمان اس تاریخی دن میں کیا جاتا ہے جس دن اللہ کے دو بندوں نے اپنے عمل سے بتایا تھا کہ جینا اور مرنا اللہ کیلئے ہونے کا مطلب کیاہے ۔ 

قربانی کے قرآنی احکام اور ان کی حکمت 

عبادت کی تمام وہ صورتیں جو انسان نے غیر اللہ کیلئے اختیار کی ہیں ، دین حق میں وہ سب غیر اللہ کیلئے حرام اور خالصتاً اللہ تعالیٰ کیلئے واجب کر دی گئی ہیں ۔زمانۂ جہالت میں انسان غیر اللہ کے آگے جھکتا اور سجدے کرتا تھا دین حق نے اسے اللہ کیلئے مخصوص کر دیا اور اس کیلئے نماز کی صورت مقرر کر دی ۔ انسان غیر اللہ کے سامنے مالی نذر انے پیش کرتا تھا دین حق نے اسے اللہ کیلئے خاص کر دیا اور اس کی عملی صورت زکوٰۃ مقرر کر دی ۔ انسان غیر اللہ کے نام پر روزے رکھتا تھا دینِ حق نے اسے بھی اللہ کیلئے مختص کردیا اور اس غرض کیلئے رمضان کے روز ے فرض کر دیئے انسان غیر اللہ کیلئے تیرتھ یاترا کرتا اور استھانوں کے طواف کرتا تھا ، دینِ حق نے اس کیلئے ایک بیت اللہ بنایا اوراس کا حج اور طواف فرض کردیا اسی طرح انسان قدیم ترین زمانے سے آج تک غیر اللہ کیلئے قربانی کرتا آیا ہے ، دینِ حق نے اسے بھی غیر اللہ کیلئے حرام کر دیا اور حکم دیا کہ یہ چیزبھی صرف اللہ کیلئے ہونی چاہیے ۔ 

انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں پر جو اقتدار اور تصرف کا اختیار بخشا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بالادستی اور حاکمیت و مالکیت کا اعتراف کرتا رہے تاکہ اسے کبھی یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ سب کچھ میرا ہے اور میں ہی اس کاخود مختار ہوں  اس بالاتری کے اعتراف کی مختلف شکلیں اللہ کے مختلف عطیوں کے معاملے میں رکھی گئی ہیں ۔ جانوروں کے معاملے میں اس کی شکل یہ ہے کہ انہیں اللہ کے نام پر قربان کیا جائے ۔ سورہ حج ہی میں فرمایا  ’’ اسی طرح اللہ نے انہیں تمہارے لیے مسخر کیا ہے تاکہ تم اس کی بڑائی کا اظہار کرو اس ہدایت پر جو اس نے تمہیں بخشی ۔‘‘یہی 3 وجوہ ہیں جن کی بناء پر قرآن مجید ہمیں بتاتاہے کہ ہمیشہ سے تمام شرائع الٰہیہ میں تمام امتوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے قربانی کا طریقہ مقرر کیاہے : ’’اور ہر امت کیلئے ہم نے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے تمہیں بخشے ہیں ۔‘‘اور یہ طریقہ جس طرح دوسری امتوں کیلئے تھا اسی طرح شریعت محمدیؐ میں امت محمدی کیلئے بھی مقرر کیا گیاہے : ’’ اے محمدؐ ، کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کیلئے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کامجھے حکم دیاگیاہے اور سب سے پہلے میں سرِ اطاعت جھکانے والا ہوں ۔پس اپنے رب کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘

یہ حکم عام تھا جو قربانی کیلئے قرآن میں دیا گیااس میں یہ نہیں بتایا گیا تھاکہ یہ قربانی کب کی جائے ، کہاں کی جائے ، کس پر واجب ہے اور اس حکم پر عملدرآمد کرنے کی دوسری تفصیلات کیا ہیں ۔ ان چیزوں کو بیان کرنے اور ان پر عمل کر کے بتانے کا کام اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر چھوڑ دیا کیونکہ رسول ؐ اس نے  بلاضرورت نہیں بھیجا تھا کتاب کے ساتھ رسول ؐ بھیجنے کی غرض یہی تھی کہ وہ لوگوں کو کتاب کے مقصد و منشا ء کے مطابق کام کرنا سکھائے ۔

حضور اکرم ﷺنے یہ بات لوگوں کی مرضی پر نہیں چھوڑ دی کہ فرداً فرداً جس مسلمان کا جب جی چاہے اللہ تعالیٰ کیلئے کوئی جانور قربان کر دے بلکہ آپ ﷺنے تمام امت کیلئے 3 دن مقرر فرما دئیے تاکہ تمام دنیا کے مسلمان ہر سال انہی خاص دنوں میں اپنی اپنی قربانیاں ادا کریں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

آزاد کشمیر میں کامیابی پر بحث کیوں ۔۔۔؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔ ماضی کے بر عکس اس بار کشمیر میں انتخابات سے پہلے پاکستان کی تمام بڑی جماعتوں نے بھرپور الیکشن مہم چلائی۔ بے شک سب سے زور دار مہم(ن )لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے چلائی بھر پور جلسے کیے اور اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کو پر زور انداز میں اپنے ووٹرز اور سپورٹرز تک پہنچایا۔ بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے لائو لشکر کے ساتھ کشمیر کے مختلف اضلاع میں گئے اور اپنی پیپلزپارٹی کی تاریخ اور اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں لوگوں کو بتایا۔اسی دوران کچھ عرصے کیلئے بلاول کو ذاتی مصروفیات کیلئے امریکہ جانا پڑا تو ان کی جگہ آصفہ بھٹو میدان میں موجود رہیں۔ شروع میں حکومتی جماعت کے وزرا ء خاص طور پر علی امین گنڈا پور اور مراد سعید بھی میدان میں موجود رہے۔ انتخابات سے چند دن پہلے وزیراعظم آزادکشمیر گئے اور بھر پور جلسے کیے۔

مسلم لیگ(ن)کا سیاسی بیانیہ ۔۔۔؟

آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت یقینی تھی کیونکہ کہا یہی جاتا ہے کہ جس کی بھی اسلام آباد میں حکومت ہوگی وہی جماعت عملًا آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے ۔لیکن اس انتخاب کی اہم بات مسلم لیگ( ن) جس کی آزاد کشمیر میں حکومت تھی اس کا تیسری پوزیشن پر آنا ہے ۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی حیران کن طور پر 11نشستیں حاصل کرگئی ہے اور سب ہی اس بات پر حیران ہیں کہ مسلم لیگ( ن) جس نے وہاں مریم نواز کی قیادت میں نہ صرف بھرپور انتخابی مہم چلائی بلکہ سب سے بڑے عوامی جلسے بھی کیے مگر ان کو انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ( ن )میں کافی مایوسی پائی جاتی ہے ۔ اگرچہ مسلم لیگ( ن) کی قیادت نے آزاد کشمیر میں انتخابی شکست کو ایک بڑی انتخابی دھاندلی سے جوڑا ہے اور ان کے بقول ہمیں خاص سازش کے تحت انتخابی میدان میں دیوار سے لگایا گیا ہے ۔

سندھ میں اپوزیشن ’’ایک پیج‘‘ پر۔۔۔؟

کیا اگلے عام انتخابات میں سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل حکومت کا خاتمہ ہوجائیگا۔۔؟یہ وہ سوال ہے جو اب کراچی کی ہر سیاسی اور سماجی بیٹھک کا موضوع بن چکا ہے۔مبصرین اس امکان کو خاص اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت کا خاتمہ ممکن بنانے کیلئے بہت سے سیاسی مخالفین ایک پیج پر جمع ہورہے ہیں۔ اس ایک پیج پر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کے علاوہ ہ پاک سرزمین پارٹی بھی شامل ہوگئی ہے۔چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ’’صوبے کو پیپلزپارٹی کی جاگیر بنا دیا گیا ہے، سندھ ریاست کے اندر ریاست بن چکاہے۔‘‘

خیبر پختونخوا کابینہ میں پھر اکھاڑ پچھاڑ

خیبرپختونخوا میں اختیارات کی کشمکش پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے آغاز سے ہی چل رہی ہے ۔گورنر شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان بظاہر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اختیارات کا منبع گورنر ہائوس ہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی پہلا تنازعہ سابق آئی جی پولیس صلاح الدین محسود کے تبادلے کے وقت پیش آیا۔ ایک شخصیت تبادلہ نہیں چاہتی تھی لیکن دوسری شخصیت کا پلڑا بھاری نکلا اسی طرح کابینہ سے دیگر افراد بھی ایک شخصیت کی پسند وناپسند سے باہر کئے گئے۔ دوسری جانب گورنر شاہ فرمان نے ثالثی کا کردار بھی بخوبی ادا کیا۔

دعوے ، کامیابی اور سیاست کے بدلتے رنگ

آزاد کشمیر کے انتخابات کی گہما گہمی پہلی مرتبہ ملک بھر میں محسوس کی گئی،صر ف جلسے ہی لوگوں کو نہیں گرما رہے تھے بلکہ سیاسی رہنما جہاں جہاں موجود تھے وہ آزادکشمیر کے انتخابات پر بات کررہے تھے ، دعوے کیے جارہے تھے اورایک دوسرے پر تنقید ہو رہی تھی۔مہاجرین کی نشستوں پر انتخابات کے لیے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی پولنگ سٹیشن بنے تھے ان انتخابات میں مقامی سیاستدان متحرک تھے اور اپنی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی متحر ک رکھے ہوئے تھے، سیاسی جماعتوں خصوصاً اپوزیشن جماعتوں نے اتنی بھر پور مہم چلائی کہ لوگوں نے محسوس کیا کہ شاید آزاد کشمیر کے انتخابات میں روایت بدلنے جارہی ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کوئی مخلوط سیٹ اپ لانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ایسا نہ ہو سکا البتہ اب آزادکشمیر کے انتخابی نتائج بھی ملک پر اثر انداز ہو رہے ہیں ۔

شہادت حضرت عثمان غنیؓ

رسول اللہﷺ کے تمام اصحاب پیکرِ صدق و وفا ،ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمتوں کے اندھیرے میں روشنی کا وہ عظیم مینارہیں جن سے جہان ہدایت پاتاہے ،وہ قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کیلئے پیکرِرُشدوہدایت ہیں۔حضرت عثمان غنیؓ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم صفات سے متصف فرمایا حیاکا ایساپیکر تھے کہ فرشتے بھی آپؓ سے حیا کرتے تھے۔آپؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی۔حضرت حسان بن عطیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ اے عثمان !اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے اور پچھلے کام بخش دیئے اور وہ کام جو تم نے پوشیدہ کیے اورجو ظاہر کیے اوروہ جو قیامت تک ہونے والے ہیں ‘‘۔