غزوہ احداسلام کا دوسرامعرکہ حق وباطل
جنگ شروع ہونے سے قبل نبی کریم ﷺ نے حضرت سعید بن جبیرؓ کی قیادت میں تیر اندازوں کا ایک دستہ پہاڑی درے پر متعین فرمایااورانھیں کسی بھی صورت میں درہ نہ چھوڑنے کا حکم دیا
اسلامی تاریخ میں غزوہ اُحد حق و باطل کا دوسرا معرکہ ہونے کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ غزوہ 3ہجری میں پیش آیا، اس کی تاریخ کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ کچھ کے نزدیک یہ واقع 3شوال، کچھ کے نزدیک 7 شوال، بعض کے مطابق 11 شوال اور بعض کے نزدیک 15شوال کو پیش آیا۔ البتہ اس کے دن پر سب متفق ہیں کہ یہ ہفتہ کے روز ہوا تھا۔
اُحد مدینہ منورہ کے ایک پہاڑ کا نام ہے، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ آقائے کائنات کا ارشاد گرامی ہے کہ اُحد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ غزوہ اُحد میں مسلمانوں کی تعداد 700 تھی، جس میں زرہ پوش صحابہ کرام 100 تھے۔ قریش کا لشکر تین ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا، جن میں سات سو افراد زرہ پوش تھے۔ اس معرکہ حق و صداقت میں جام شہادت نوش کرنے والے خوش نصیب صحابہ کرام کی تعدادستر تھی جبکہ 30 کافر واصل جہنم ہوئے۔
حق و باطل کے اس دوسرے بڑے معرکہ میں عرب کے رواج کے مطابق پہلے مبارزت ہوئی جس میں اہل اسلام کا پلہ بھاری رہا۔ بعدازاں عام لڑائی شروع ہوئی تو حضرت حمزہؓ ، حضرت علیؓ ، حضرت ابو دجانہؓ اور حضرت حنظلہؓ کے تابڑ توڑ حملوں سے کفار کا لشکر بھاگ کھڑا ہوا۔ جنگ شروع ہونے سے قبل اللہ کے رسول کریم ﷺ نے حضرت سعید بن جبیرؓ کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ پہاڑی درے پر متعین فرمایا اور انھیں یہ حکم دیا کہ وہ کسی صورت میں بھی درہ نہ چھوڑیں۔ جب کفار کو انھوں نے بھاگتے دیکھا تو مال غنیمت حاصل کرنے کیلئے یہ بھی دوڑ پڑے۔ کفار کے لشکر نے جب درہ خالی دیکھا تو وہ خالد بن ولید کی قیادت میں پلٹے اور مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ پیچھے سے ہونے والے اس ناگہانی حملے میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ جن میں سرکارِ دوعالم ﷺ کے پیارے چچا سیدنا حضرت امیر حمزہ ؓ بھی شامل تھے۔ یہ وقت مسلمانوں پر بہت کڑا تھا۔ ایسا لگا کہ کفار کو فتح مل گئی ہے۔ اس صورتحال میں نبی کریم ﷺ کو کچھ جانثاروں نے اپنے گھیرے میں لے لیا اور مسلمانوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا مگر اتنی دیر میں ستر صحابہ کرام شہادت کا جام پی چکے تھے۔ جب مسلمانوں کو اکٹھا ہوتے ہوئے دیکھا تو ابوسفیان نے وہیں سے آواز لگائی کہ آج بدر کا حساب برابر ہو گیا ہے، اب اگلے سال پھر بدر کے مقا م پر لڑائی ہوگی اور کفارواپس مکہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔
اس معرکہ میں بہت سے ایمان افروز واقعات پیش آئے۔ حضرت حنظلہؓ اس معرکہ میں باطل پرستوں سے اپنے ایمانی جذبے سے مقابلہ کرتے ہوئے قریشی لشکر کے وسط میں جا پہنچے اور قریش کے سردار ابوسفیان کا کام تمام کرنے ہی والے تھے کہ پیچھے سے ان پر شداد نامی بدبخت نے وار کر دیا اور آپؓ شہادت سے سرفراز ہوئے۔ جب میدان جنگ تھم گیا تو اللہ کے محبوبﷺ نے آپؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ حنظلہؓ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں۔
اہل اسلام کا پرچم سیدناحضرت معصبؓ بن عمیر کے ہاتھ میں تھا ،ایک بدبخت آپؓ پر حملہ آور ہوا اور آپؓ کے دائیں ہاتھ پر اس طرح وار کیا کہ آپؓ کا دایاں ہاتھ شہید ہو گیا۔ آپؓ نے پرچم اسلام کو دوسرے ہاتھ سے پکڑ لیا، اس بدبخت نے دوبارہ ضرب لگائی اور آپؓ کا دوسرا ہاتھ مبارک بھی تن سے جدا کر دیا۔ آپؓ نے پرچم اسلام کو اپنے سینے سے تھامے رکھا اور بلند آواز میں آیتِ مبارکہ پڑھی۔ آپؓ پر تیر سے وار کیا گیا اور آپؓ نے بھی جام شہادت نوش فرمایا۔
جب منافقوں نے حضور پاک ﷺ کے شہید ہونے کی افواہ پھیلائی تو ایک انصاری صحابیہ ؓمدینہ پاک سے اُحد کی طرف نکل پڑیں۔ راستے میں ان کے والد کے شہید ہونے کی انہیں خبر ملی تو اس عاشق رسول ﷺ صحابیہ نے کہا کہ مجھے رسول ﷺ کے بارے میں بتائیں۔ پھر ان صحابیہؓ کو ان کے شوہر اور بھائی کی شہادت کی خبر دی گئی تو انھوں نے یہی کہا مجھے اپنے رسول کریم ﷺ کے بارے میں جاننا ہے کہ وہ کس حال میں ہیں؟۔ جب انہیں بتایا گیا کہ رسول خدا ﷺ خیروعافیت سے ہیں تو عرض کرنے لگیں کہ مجھے حبیب کریم ﷺ کا دیدار کرنے دو۔ جب حضور پاک ﷺ کا دیدار نصیب ہوا تو انہیں سکون ہوا۔
غزوہ اُحد میں حضرت قتادہ بن نعمانؓ کی آنکھ تیر لگنے سے باہر نکل آئی۔ حضرت قتادہؓ اپنی آنکھ ہاتھ میں اٹھائے بارگاہ کونین ﷺ میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا اے قتادہؓ اگر تم چاہو تو صبر کر لو جنت تمہارے لئے ہے اور اگر تم چاہو تو آنکھ لوٹا دوں۔ حضرت قتادہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! یقیناً جنت بڑی جزا اور عظیم عطا الہٰی ہے۔ یارسول اللہ ﷺ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ آپﷺ جنت بھی عطا فرما دیں اور آنکھ بھی لوٹا دیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے دست رحمت سے ان کی آنکھ کو اس کی جگہ پر رکھ دیا اور اس آنکھ کی روشنی پہلے سے زیادہ ہو گئی۔ پھر آپﷺ نے ان کیلئے جنت کی دعا بھی فرمائی۔
معرکہ اُحد میں جب حضرت عبداللہ بن حجشؓ کی تلوار ٹوٹ گئی تو آپؓ نے عر ض کیا! یا رسول اللہ ﷺ! میری تلوار ٹوٹ گئی ہے تو اللہ کے محبوب کریم ﷺ نے انھیں کھجور کی چھڑی عطا فرمائی۔ جب انہوں نے کھجور کی چھڑی اپنے ہاتھ میں لی تو وہ فوراً ہی تلوار بن گئی۔ اللہ شہدائے اُحد کے صدقے امت مسلمہ کو اتحاد و اتفاق عطا فرمائے اور ہماری اجتماعی انفرادی مشکلات کو آسان فرمائے اور ان کے درجات کو مزید بلند فرمائے، آمین۔
صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی معروف عالم دین ہیں ، 25 سال سے مختلف جرائد کے لیے اسلامی موضوعات پر انتہائی پرُ اثر اور تحقیقی مضامین لکھ رہے ہیں