زبان کی آفتیں

تحریر : ڈاکٹر علامہ محمد طاہر القادری


خاموشی اور کلام میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جس کی زبان درست ہو اس کے سارے اعمال اصلاح یافتہ ہوجائیں گے اور جس کی زبان میں خرابی ہو اس کے سارے اعمال میں خرابی ظاہر ہوگی۔ جو شخص اپنی زبان کو کھلی چھٹی دیتا ہے شیطان اسے ہلاکت کے کنارے پر لے جاتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :’’انسان کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے والی چیز اس سے اپنی زبان سے کاٹی ہوئی کھیتی ہے‘‘(جامع ترمذی : 2616)

حضرت طاؤس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ’’میری زبان ایک درندہ ہے اگر میں اسے کھلا چھوڑوں تو وہ مجھے کھا لے‘‘(غزالی، احیاء علوم الدین، 3 : 111)۔زبان کی آفات بیشمار ہیں مثلاً خطا، جھوٹ، غیبت، چغلی، ریاکاری، منافقت، فحش کلامی، جھگڑا اور خود سرائی وغیرہ۔ یہ وہ برے اعمال ہیں جن کا تعلق براہِ راست زبان سے ہے۔امام غزالی ؒ نے ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں زبان کی بیس آفات بیان کی ہیں۔ ان میں سے بعض درج ذ یل ہیں ۔

 بے مقصد گفتگو اور فضول کلام : ایسی گفتگو جس کی حاجت ہو اور نہ ہی اس سے کسی کو فائدہ حاصل ہو بے مقصد گفتگو کہلاتی ہے۔ وہ کلام جو فائدہ مند تو ہو لیکن بلا ضرورت ہو فضول کلام کہلاتا ہے۔ جو شخص فضول گوئی سے بچتا ہے اس کے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :’’کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جو بات کام کی نہ ہو اسے چھوڑ دے‘‘ ( بیہقی، شعب الایمان : 4986)

 باطل اُمور میں مشغولیت :بے فائدہ گفتگو کی بھرمار، خلافِ شرع ممنوع باتوں میں مشغولیت، بدعات اور مذاہبِ فاسدہ کا ذکر مثلًا عورتوں کے حالات، شراب کی مجالس، بدکاری کی مجالس، لوگوں کی عیاشی، مذموم رسموں اور ناپسندیدہ حالات کا ذکر کرنا یہ تمام امور باطل میں شامل ہیں۔ اکثر لوگ غم غلط کرنے کیلئے گفتگو کرتے ہیں لیکن ان کی گفتگو باطل اور بے ہودہ کلام پر مشتمل ہوتی ہے۔ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺنے فرمایا : ’’جس نے جھوٹ، جو کہ باطل ہے (جھگڑے کے وقت) چھوڑ دیا اس کیلئے بہشت کے کنارے پر مکان بنایا جائے گا اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کر دے اس کیلئے جنت کے درمیان مکان بنایا جائے گا اور جو اپنے اخلاق کو سنوار لے اس کیلئے جنت کے بلند ترین مقام پر محل تعمیر کیا جائے گا‘‘(جامع ترمذی : 1993)

 خصومت (جھگڑا کرنا) : دوسروں کے کلام پر طعن و تشنیع کرنا ان کے کام پر اعتراض کرنا، ارادے میں خلل ڈالنا، دوسروں کی تحقیر اور اپنی فضیلت ظاہر کرنا اور اپنے کلام پر ڈٹ جانا خصومت کہلاتا ہے۔ ایک متفق علیہ حدیثِ مبارکہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ کو سب سے ناپسند وہ شخص ہے جو بہت جھگڑالو ہو‘‘(صحیح مسلم : 2668)۔زبان کی یہ آفت انسان کو ہلاک کرنے والی ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ انسان دل سے تکبر کلیّتًا ختم کر دے، دوسروں پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا، دوسروں کو کمتر سمجھنا اور ایسی عادت کا بھی خاتمہ کر دے جو دوسروں کی عیب جوئی کا باعث بنے، کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کے سبب کو دور کرنے سے ہوتا ہے۔

 پُر تکلف کلام کرنا: منہ کھول کر بے تکلف  کلام کرنا اور اس میں مبالغہ آرائی کیلئے مقدمات اور تمہیدات شامل کرنا جیسا کہ عام خود ساختہ فصاحت کے دعویدار اور خطابت کے مدعی لوگوں کی عادت ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو غضب کو دعوت دیتا ہے۔ حضرت جابر ؓروایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ قابلِ نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور ہونے والے وہ لوگ ہیں جو بہت بولنے والے، لوگوں سے زبان درازی کرنے والے اور تکبر کرنے والے ہیں‘‘ (جامع ترمذی : 2018)

بد کلامی اور گالم گلوچ: اس سے مراد ایسی بات ظاہر کرنا ہے جس کے بیان سے انسان شرم و ندامت محسوس کرتا ہے۔ بد کلامی اور گالم گلوچ کی بنیاد باطنی اور ظاہری کمینگی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ کے پاس کچھ یہودی آئے، انہوں نے کہا: السام علیکم ، (سام کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں )،آپ ﷺ نے فرمایا :وعلیکم(اور تم پر بھی)، حضرت عائشہ صدیقہ ؓنے فرمایا : بلکہ تم پر سام اور ذام (موت اور ذلت) ہو۔ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا : ’’اے عائشہ! بد زبان مت بنو‘‘۔حضرت عائشہ ؓ نے کہا : آپ ﷺ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں نے ان کے قول کو ان کی طرف واپس نہیں کیا؟ (صحیح مسلم : 2165)۔ فحش کلامی کا سبب مخاطب کو ایذا پہنچانا ہوتا ہے  لہٰذا اس سے بچنا چاہئے۔

 لعنت بھیجنا: حیوانات، جمادات اور انسان سمیت کسی پر بھی لعنت بھیجنا قابلِ مذمت ہے۔حضرت عبد اللہ ؓروایت کرتے ہیں ، نبی کریم ﷺنے فرمایا : ’’مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘ (احمد بن حنبل، المسند، رقم : 3948)

 کثرتِ طنز و مزاح : مزاح اپنی اصل کے اعتبار سے مذموم ہے، البتہ تھوڑا سا ہو تو مستثنیٰ ہے۔مزاح کو وطیرہ بنا لینے میں خرابی ہے ۔ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے، جس سے دل میں بغض پیدا ہوتا  ہے،ہیبت اور وقار ختم ہو جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓروایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اے امتِ محمدیہ! بخدا! اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت زیادہ رویا کرتے اور بہت کم ہنسا کرتے‘‘ (صحیح بخاری : 6256)

تمسخر (مذاق اڑانا): تمسخر کا مطلب دوسرے آدمی کی توہین کرنا، اسے حقیر جاننا، اس کے عیوب و نقائص کو اس طرح ظاہر کرنا کہ اس کا مذاق اڑایا جائے۔حضرت حسن ؓسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : ’’مذاق اڑانے والے کیلئے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا آؤ، آؤ! وہ غم اور تکلیف کی حالت میں آئے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر دوسرا دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا آؤ، آؤ! وہ غم اور تکلیف کے ساتھ آئے گا، جب وہاں پہنچے گا تو اس پر وہ دروازہ بھی بند کر دیا جائے گا، مسلسل اسی طرح ہوتا رہے گا حتیٰ کہ اس کیلئے دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا آؤ، آؤ پس وہ مایوسی کی وجہ سے نہیں آئے گا‘‘(بیہقی، شعب الایمان: 6757)۔اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دنیا میں کسی کا مذاق اڑائے گا تو قیامت کے دن اس کا بھی مذاق اڑایا جائے گا۔

 کذب بیانی: جھوٹ بولنا نہایت قبیح قسم کے گناہوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ جبکہ سچ میں نجات ہے اور سچائی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سچ کو لازم پکڑو بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جو آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور اس کا قصد کرتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے،جھوٹ سے اجتناب کرو بے شک جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے‘‘ (طبرانی، معجم الاوسط : 7560)۔

 غیبت: کسی مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں ایسی برائی یا عیب بیان کرنا جو اسے ناپسند ہو خواہ وہ اس کے بدنی یا نسبی عیب کا ذکر ہو یا اخلاق اور عمل کے اعتبار سے کوتاہی کا بیان ہو، اس کی دنیوی خرابی کا ذکر ہو یا اخروی برائی کا حتیٰ کہ اس کے کپڑے، مکان اور جانور کے حوالے سے نقص بیان کرنا، سب غیبت میں شامل ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا! اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم اپنے بھائی کے اس عیب کا ذکر کرو جس کا ذکر اس کو ناپسند ہو‘‘،عرض کیاگیا : اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے کہ اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جس کاذکر میں کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اگر تم نے وہ عیب بیان کیا جو اس میں ہے تبھی تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر وہ عیب بیان کیا ہے جو اس میں نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے‘‘۔(صحیح مسلم : 2589)

 چغل خوری :کسی کی پوشیدہ بات سے پردہ اٹھا کر اسے ظاہر کرنا چغل خوری کہلاتا ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا‘‘ (صحیح مسلم : 105)

 دو غلہ پن :جو شخص ایسے دو آدمیوں کے پاس جائے جو ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور وہ ان میں سے ہر ایک کی بات دوسرے تک پہنچائے۔ ان کی ایک دوسرے سے دشمنی کو اچھا قرار دے۔ان میں سے ہر ایک کے سامنے اس کی تعریف کرے اور جب وہ موجود نہ ہو تو اس کی برائی بیان کرے۔ ایسا شخص دوغلہ یا دو باتوں والا کہلاتا ہے۔ حضرت عمار ؓ سے روایت ہے حضور نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’جو دنیا میں دومنہ رکھے یعنی دوغلہ ہو تو قیامت کے روز اس کی آگ کی دو زبانیں ہونگی۔‘‘ (ابن ابی شیبۃ : 25454)

 خوشامد: امام غزالی علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں کہ تعریف کرنے میں چھ آفات (برائیاں) ہیں۔ چار آفات کا تعلق تعریف کرنے والے سے ہے اور دو کا اس سے جس کی تعریف کی گئی۔ جہاں تک تعریف کرنے والے کا تعلق ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ وہ حد سے بڑھ کر تعریف کرے یہاں تک کہ جھوٹ تک پہنچ جائے۔ دوسری آفت یہ ہے کہ وہ تعریف کرتے ہوئے محبت کا اظہار کرتا ہے لیکن جو کچھ وہ کہتا ہے اس کا اعتقاد نہیں رکھتا۔ گویا اس طرح وہ منافق ہوتا ہے۔ تیسری آفت یہ ہے کہ تحقیق کے بغیر گفتگو کرتا ہے ۔چوتھی آفت یہ ہے کہ وہ ممدوح کو خوش کرتا ہے حالانکہ وہ ظالم یا فاسق ہے اور یہ بات جائز نہیں ہے۔(غزالی، احیاء علوم الدین، 3 : 159)۔ حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جب فاسق کی تعریف کی جائے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور اس کے غضب سے عرش ہلتا ہے‘‘ (بیہقی، شعب الایمان: 4886)

دوسری بات یہ ہے کہ جب تعریف کرنے والا کسی کی بجا طور پر تعریف کرتا ہے تو جس کی تعریف کی جائے وہ خوش ہوتا ہے اور اپنے نفس پر راضی ہوتا ہے اور اس وجہ سے اس کی کوشش میں کمی آجاتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں کامل ہوچکا ہوں۔

جو شخص ان تمام باتوں پر غور کرے جو ہم نے زبان کی آفات کے سلسلے میں ذکر کی ہیں تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اگر وہ زبان کو کھلی چھٹی دے گا تووہ اس کی آفات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ یہ تمام آفات ہلاک اور تباہ کرنے والی ہیں اور اگر وہ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرے تو وہ ان تمام آفات و بلیّات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ البتہ جب زبان فصیح اور علم زیادہ ہو تو انسان تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ زبان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ ورنہ ان سب باتوں کے باوجود وہ خطرات سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ جل شانہ سے زبان کی آفات سے محفوظ رہنے کی توفیق مانگتے رہنا چاہئے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔