یادرفتگاں: اصغر سودائی: شہرہ آفاق نعرے کے خالق

تحریر : محمدارشدلئیق


تعارف 1926ء کو سیالکوٹ میں جنم لینے والے اصغر سودائی ممتاز ماہر تعلیم اور معروف شاعر تھے۔ ان کا اصل نام محمد اصغر تھا اور تخلص سودائی تھا۔وہ مرے کالج میں بھی زیر تعلیم رہے ،یہ وہی درس گاہ ہے جس میں علامہ اقبالؒ اور فیض احمدفیض جیسی قد آور شخصیات نے اپنی علمی پیاس بجھائی۔اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کی اور پنجاب یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ایم اے کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے شعبہ تعلیم کو اپنا پیشہ بنایا، اسلامیہ کالج سیالکوٹ اور علامہ اقبال کالج سیالکوٹ کے پرنسپل کے طور پر کام کرتے رہے اور ڈائریکٹر ایجوکیشن پنجاب بھی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیالکوٹ کالج آف کامرس اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایڈوائزی کونسل کے رکن بھی رہے۔ زمانہ طالب علمی میںتحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن کا کردار ادا کیا۔ان کانعتیہ مجموعہ ’’کلام شہ دوسرا‘‘ اور شعری مجموعے ’’کرن گھٹا کی طرح‘‘، ’’چلن صبا کی طرح‘‘ اور ’’بدن حنا کی طرح‘‘ اشاعت پذیر ہوئے۔ انہیں ’’تمغۂ حسنِ کارکردگی‘‘ سے نوازا گیا۔

تحریکِ پاکستان کے ممتاز اراکین کی فہرست میں ایک نام پروفیسر اصغر سودائی کا بھی ہے، جن کا نعرہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ ابھی تک زندۂ جاوید ہے۔1944ء میں اپنے طالب علمی کے دور میں تحریک پاکستان کے دوران انہوں نے ایک نظم ’’ترانہ پاکستان‘‘کہی تھی اور یہ بے مثال مصرع اسی نظم کا ہے۔ مذکورہ بالا نعرہ مسلم لیگ کیلئے نعرہ زبردست اہمیت کا حامل بن گیا۔ پاکستان کی مذہبی جماعتیں آج بھی اپنے جلسوں میں یہی نعرہ استعمال کرتی ہیں۔

اصغر سودائی ایک ہمہ پہلو شخصیت کے مالک تھے۔وہ ادیب، شاعر اور ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار بھی تھے۔ طالب علمی کے دور میں انہوں نے تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن کے طور پر کام کیا، گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور ان دنوں تحریک پاکستان کا سب سے بڑا مرکز تھا جہاں وہ زیرتعلیم تھے۔ اسلامیہ کالج کے جلسوں میں اصغر سودائی اپنے ولولہ انگیز کلام سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے۔ انہیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔انہیں  قائد اعظمؒ سے بے پناہ محبت تھی۔ ایک بار قائد اعظم ؒنے خود یہ کہا تھا کہ تحریکِ پاکستان میں 25فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔

انہیں سیالکوٹ کی ادبی فضا میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ انہیں سیالکوٹ کی ادبی محفلوں کی جان سمجھا جاتا تھا۔ عمر بھر شعر و ادب سے وابستہ رہے۔ ہمعصروں سے ہمیشہ محبت اور جونیئرز سے شفقت سے پیش آتے۔ اصغر سودائی سیالکوٹ کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں اکثر جایا کرتے تھے، یہ لاہور کے پاک ٹی ہائوس کی طرز کا ریسٹورنٹ ہے،جہاں عموماًشعراء ، صحافی اورادب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات جمع ہوتے تھے۔ پروفیسر اصغر سودائی وہاں آنے والے لوگوں کو تحریک پاکستان،  قائداعظم ؒ کے سیالکوٹ کے دورے اور اپنے مصرعے کے متعلق دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے۔اسی وجہ سے لوگ انہیں تحریک پاکستان کا چلتا پھرتا ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ بھی کہتے تھے۔ ایک بار ان سے پوچھا گیا کہ یہ مصرع ’’پاکستان کا مطلب کیا‘‘ آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ جب لوگ پوچھتے تھے پاکستان کا مطلب کیا ہے تو میرے ذہن میں آیا کہ سب کو بتانا چاہئے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا ہے؟ اس نعرے نے بہت مقبولیت حاصل کی اور پھر سب کو تسلیم کرنا پڑا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہیں۔ 

 اصغر سودائی نے نعت گوئی بھی کی۔ان کی ایک نعت کے اشعار ملاحظہ ہوں ۔

سب لوگ تھے صحرا میں صدف ڈھونڈنے والے

دریائے معانی کا شناور نہیں آیا

ہے تیری نبوت کی صداقت کا کرشمہ 

ایسا تو کبھی رنگ سحر پر نہیں آیا

 کردار سازی اور انسان دوستی ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تھا وہ شرافت اور سادگی کا مجسمہ تھے۔ اکثر پیدل سفر کرتے تھے۔ پروفیسر اصغر سودائی کے شاگردوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔ ان شاگردوں میں زیادہ تر نے سودائی صاحب کا اسلوبِ حیات اپنایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اصغر سودائی نے اپنے بہت سے شاگردوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے درس و تدریس کے شعبے میں اعلیٰ روایات قائم کیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے زندگی کو نئے معانی دیئے اور فکر کے ایسے چراغ روشن کئے کہ بعد میں آنے والے لوگوں نے ان سے روشنی پائی۔

اصغر سودائی کی عادت تھی کہ وہ اپنی قمیض کا اوپر والا بٹن بھی بند رکھتے تھے۔ ان کا موقف تھا وضع داری کا تقاضا ہے کہ اساتذہ کے سامنے قمیص کے سارے بٹن بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ہمیشہ اس اصول کی پاسداری کی اور ان کے شاگرد بھی ان کی تقلید کرتے رہے۔ اصغر سودائی نے ساری زندگی تعلیم و ادب کی آبیاری میں گزاری۔انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے ’’تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا گیا۔

17مئی 2008ء کو اصغر سودائی اس جہانِ رنگ و بو سے کوچ کر گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر 81برس تھی۔وفات سے تقریباً چار پانچ سال پہلے ان پر فالج کا حملہ ہوا مگر اس حالت میں بھی اہل خانہ کے بقول انہوں نے ہمیشہ جرات و برداشت کا مظاہرہ کیا۔ اپنی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کی بدولت ان کا نام تادیر زندہ رہے گا اور ان کے شعر قارئین کی سماعتوں میںرس گھولتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے امین۔ اصغر سودائی کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔

اس کا انداز دلربا میں تھا

دیکھتا وہ تھا آئینہ میں تھا

رات دل کھول کر کئے ہیں سخن

ایک میں اور دوسرا میں تھا

……………

چلے تو آ گئی دیوار دشمنی یارو

یہ پیش رفت بھی کچھ کم نہیں ہوئی یارو

……………

اصغر سودائی کا لافانی ترانہ

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

شب ظلمت میں گزاری ہے

اٹھ وقت بیداری ہے

جنگ شجاعت جاری ہے

آتش و آہن سے لڑ جا

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

ہادی و رہبر سرور دیں

صاحب علم و عزم و یقیں

قرآن کی مانند حسیں

احمد مرسل صلی علی

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

چھوڑ تعلق داری چھوڑ

اٹھ محمود بتوں کو توڑ

جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ

غیر اللہ کا نام مٹا

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

جرات کی تصویر ہے تو

ہمت عالمگیر ہے تو

دنیا کی تقدیر ہے تو

آپ اپنی تقدیر بنا

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

نغموں کا اعجاز یہی

دل کا سوز و ساز یہی

وقت کی ہے آواز یہی

وقت کی یہ آواز سنا

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

پنجابی ہو یا افغان

مل جانا شرط ایمان 

ایک ہی جسم ہے ایک ہی جان

ایک رسولؐ اور ایک خدا

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

تجھ میں ہے خالد کا لہو

تجھ میں ہے طارق کی نمو

شیر کے بیٹے شیر ہے تو

شیر بن اور میدان میں آ

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

مذہب ہو تہذیب کہ فن

تیرا جداگانہ ہے چلن

اپنا وطن ہے اپنا وطن

غیر کی باتوں میں مت آ

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

اے اصغر اللہ کرے

ننھی کلی پروان چڑھے

پھول بنے خوشبو مہکے

وقت دعا ہے ہاتھ اٹھا

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بے وقت کی بھوک اور ڈائٹنگ

بہت سی لڑکیوں کو ہر وقت کچھ نا کچھ کھانے پینے اور منہ چلانے کی عادت ہوتی ہے، ایسی لڑکیاں اپنی بے وقت کی بھوک کو برداشت نہیں کر پاتیں اور اپنی ڈائٹنگ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانے لگ جاتی ہیں۔

سسرال کو اپنا ہمنوابنانا مشکل نہیں

جب بھی کوئی لڑکی بابل کا انگنا چھوڑ کر پیا دیس سدھارتی ہے تو جہاں زندگی کے اس نئے موڑ پر بہت سی خوشیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں وہیں کچھ مسائل اور الجھنیں بھی حصہ میں آتی ہیں۔ نئے گھر اور نئے ماحول میں خود کو ایڈجست کرنا آسان کام نہیں، کیونکہ لڑکی کی شادی تو محض ایک فرد سے ہوتی ہے لیکن مشرقی روایات کے مطابق گزارہ اسے پورے کنبے کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔

رہنمائے گھر داری

جلد میں جلن اکثر خواتین جلد میں جلن کی شکایت کرتی ہیں، ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے جلد جھلس گئی ہو، وہ کسی بھی قسم کی کریم بھی استعمال نہیں کر سکتیں۔ ایسی خواتین کیلئے ایک انتہائی مفید نسخہ بتانے جا رہی ہوں۔امرود پکا ہوا ایک عدد، دہی 2چمچ، Coca powerایک کھانے کا چمچہ، انڈا ایک عدد۔ امرود کو اچھی طرح میش کر لیں، پھر اس میں باقی اجزاء ملا کر پیسٹ بنا لیں۔ اگر جلد میں زیادہ جلن ہو تو اس میں پودینہ یا کافور بھی مکس کر سکتی ہیں۔ اس پیسٹ کو 1گھنٹہ لگا کر سادہ پانی سے واش کر لیں۔

آج کا پکوان: چکن جلفریزی

اجزاء:چکن اسٹرپس آدھا کلو، تیل ایک چوتھائی کپ، پیاز2عدد کٹی اور درمیانی، ادرک2کھانے کے چمچ جولین کٹا ہوا، لال مرچ ایک کھانے کا چمچ پسی ہوئی، ہلدی ایک چوتھائی چائے کا چمچ، کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ، گرم مصالحہ ایک چوتھائی چائے کا چمچ، مسٹرڈپائوڈر آدھا چائے کا چمچ، نمک 3چوتھائی چائے کا چمچ، سویا سوس ایک کھانے کا چمچ، کیچپ ایک چوتھائی کپ، ٹماٹر2عدد کیوبز میں کٹے ہوئے، شملہ مرچ ایک عدد اسٹرپس میں کٹی ہوئی، ہری مرچ 3عدد اسٹرپس میں کٹی ہوئی، ہرا دھنیا ایک کھانے کا چمچ کٹا ہوا۔

شاد عظیم آبادی اور جدید غزل

:تعارف اردو زبان کے ممتاز شاعر، نثر نویس اور محقق شاد عظیم آبادی 17جنوری 1846ء کو بھارتی صوبہ بہار کے دارالخلافہ پٹنہ میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا۔ ان کا اصل نام نواب سید علی محمد تھا۔ ابتدائی تعلیم شاہ ولایت حسین سے حاصل کی۔ وہ کل وقتی شاعر تھے اور شاعری کا تحفہ انہیں قدرت کی طرف سے ملا تھا۔ شاعری میں ان کے کئی استاد تھے لیکن شاہ الفت حسین فریاد کو صحیح معنوں میں ان کا استاد کہا جا سکتا ہے۔ شاد عظیم آبادی نے غزل اور مثنوی کے علاوہ مرثیے، قطعات ،رباعیات اور نظمیں بھی لکھیں۔ 1876ء میں ان کا پہلا ناول ’’صورت الخیال‘‘شائع ہوا۔ ان کی دیگر تصنیفات میں ’’حیات فریاد نوائے وطن، انٹکاب کلام شاد، میخانہ الہام، کلام شاد‘‘ شامل ہیں۔ کچھ حلقوں کے مطابق انہوں نے نظم و نثر کی 60 کتابیں چھوڑی ہیں۔ انہوں نے 1927ء میں 81برس کی عمر میں وفات پائی۔

مستنصر کے ناولوں میں المیوں کا تسلسل

مستنصر حسین تارڑ کے ناول اس شعر کی فکری تاریخی اور عمرانی توسیع و تفسیر معلوم ہوتے ہیں وقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتا