گاچنی ملتانی مٹی کے فوائد

تحریر : تحریم نیازی


ڈیرہ غازی خان میں واقع پہاڑوں میں انتہائی قیمتی معدنیات کے ساتھ ساتھ طب دوست پتھر اور ایسے پہاڑی تودے بھی ہیں جو دیکھنے میں مٹی کے ڈھیر مگر طبی فوائد سے مالا مال ہوتے ہیں۔ ان میں ایک ملتانی مٹی (جبکہ اس کا ملتان سے دور کا بھی واسطہ نہیں) یا گاچنی مٹی کا بھی ہوتا ہے۔

ملتانی مٹی(گاچنی)پنسار اور کریانہ سٹوروں پر مل جاتی ہے۔ یہ مٹی بچوں کی تختی پر لیپ کرانے کا کام بھی دیتی ہے۔ پہلے اس مٹی کی خوبصورت ٹکیاں بھی کتب فروشوں کے ہاں ملتی تھیں۔ یہ سفید زردی مائل پرت دار مٹی ہے۔ ذائقہ قابل استعمال پھیکا ہوتا ہے۔ یہ مٹی عموماً خواتین بطور عادت کھاتی ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال نقصان کا باعث بنتا ہے۔ 

 اکثر خواتین و حضرات اس کا لیپ سر پر کرتے ہیں جس سے بالوں پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ ملتانی مٹی شیمپو کا بدل نہیں بلکہ یہ حقیقی ہربل شیمپو ہے۔ ملتانی مٹی کا لیپ سرکی خشکی دور کرکے بالوں کو بڑھاتا اور مضبوط کرتا ہے۔ ٹوٹتے بالوں کو روکتا ہے۔بالوں میں چمک اور رونق پیدا کرتا ہے۔

نسخہ: ملتانی مٹی 20گرام، دہی کا پانی 100ملی لٹرمکس کر کے رکھیں کچھ دیر بعد مٹی پانی اور دہی میں حل ہو جائے گی۔ اچھی طرح ہاتھوں سے مل کر بالوں میں لیپ کریں۔ گھنٹہ بعدنہا لیں،بالوں میں نکھار پیدا ہوگا۔

موسم گرما میں بدن پر دانے ہو جاتے ہیں مختلف ادویات کا استعمال اس تکلیف کو جب ختم نہ کرے تو ملتانی مٹی 50گرام، کشنیر50 گرام باریک کرکے پانی میں حل کریں اور تمام بدن پر لیپ کر لیں۔ ایک گھنٹہ بعد غسل کریں۔ تکلیف دور بدن صاف شفاف ہو جائے گا۔

برسات کے موسم میں بدن پر شدید خارش، کھجلی اور جلن ہوتی ہے اس تکلیف دہ حالت کو صحیح کرنے کیلئے صرف ملتانی مٹی پانی میں حل کرکے صبح شام بدن پر لیپ کریں۔ گھنٹہ بعد تازہ پانی سے غسل کرتے رہیں۔ انشاء اللہ افاقہ ہوگا۔ موسم گرما میں اکثر بچوں کو بعض اوقات بڑوں کو بھی نکسیر کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں فوری طر پر ٹھنڈا پانی سر پر ڈالیں۔ علاج کے طور پر مندرجہ ذیل نسخہ جات استعمال کرائیں۔

نسخہ: ملتانی مٹی 10گرام اور مصری 50گرام لے کر 200گرام پانی میںحل کرلیں۔ جب مٹی نیچے بیٹھ جائے تو نتھار کر  صبح ، دوپہر، شام پئیں۔ ایک ہفتہ میں نکسیر ختم اور خون کی حدت دور ہو گی۔

گاچنی مٹی بالکل بے ضرر دوا ہے۔ بلاوجہ مسلسل استعمال نقصان دہ ہے۔ جو خواتین اس کو عادتاً کھاتی ہیں وہ اس کی جگہ سونف منہ میں رکھیں۔ رفتہ رفتہ عادت ختم ہو جائے گی۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سید ضمیر جعفری اُردوادب کا چھتناور درخت

آ ج27ویں برسی:اُنہوں نے مزاح سے زیادہ سنجیدہ ادب لکھا مگر شہرت مزاحیہ کلام کی وجہ سے حاصل ہوئی :یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر جعفری نے اپنی آخری سانس تک قوم کو ہنسایا بھی ، گرمایا بھی اور اسے سنجیدگی سے سوچنے پر بھی آمادہ کیا، وہ ادب میں ہمیشہ نیا پن لے کر آتے رہے‘ پرانے پنجابی پوٹھوہاری الفاظ کو موتیوں کی طرح جڑتے تھے اور لفظ کو معنی کو وقت کی قید سے آزاد کر دیتے تھے

پاکستانی ادب کا اختصاص

اردو ادب میں پاکستانیت کے اظہار کی بات کی جائے تو نظم میں ان اثرات کا ذکر ضروری ہو جاتا ہے۔

معرکہ حق: تاریخی فتح کا ایک سال مکمل

پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا:مئی 2025 کا وہ تاریخی معرکہ جس میں پاک فضائیہ نے دشمن کے نام نہاد ناقابل تسخیر طیاروں کو ملبے کا ڈھیر بنا کر فضائی برتری کا لوہا منوایا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت نے پوری قوم کو’’ایک پیج‘‘پر لا کر دفاعِ وطن کو ناقابل تسخیر بنادیا۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان خطے میں صرف ایک عسکری قوت ہی نہیں بلکہ امن و ثالثی کا وہ محور بن چکا ہے جس کی مرضی کے بغیر جنوبی ایشیا کا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔

وطن کی عزت ہمارے ہاتھ!

ہم پاکستانی ہر معاملہ میں اپنا ثانی آپ ہیں، ہونا بھی چاہئے کیونکہ دل ہے پاکستانی۔ ہمارے تمام تر معاملات عجیب بھی ہوتے ہیں اور بھرپور بھی۔ ہر معاملے میں ہمارا رویہ منفرد بھی ہوتا ہے اور نرالا بھی۔

پرندوں کا دوست ببلو

ایک سرسبز جنگل کے پاس گاؤں میں بَبلو نام کا ایک خوش مزاج اور ذہین بچہ رہتا تھا۔

انمول باتیں

بچے معاشرے کا قیمتی سرمایہ