برائی کا انجام برا۔۔
فرحان اور شاہد کو ملازمت تلاش کرتے ہوئے ایک ماہ ہو چکا تھا۔ دونوں نے ایم اے کر رکھا تھا اور اب تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا کیونکہ گھر کے مالی حالات مزید پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
فرحان اپنے پانچ بہن بھائیوں اور شاہد سات بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ ایک کچی آبادی میں رہائش پذیر تھا۔ دونوں نے نہ جانے کس طرح ایم اے کرلیا تھا ورنہ اس بستی میں شاید ہی کوئی مڈل یا میٹرک پاس تھا۔
شاہد اور فرحان سکول کے زمانے سے ہی مستقبل کے خواب اور ارادے ایک دوسرے سے بیان کرتے رہتے تھے۔ دونوں کو اس بات کا جنون تھا کہ جلد از جلد پڑھ لکھ کر اپنے پائوں پر کھڑے ہو جائیں۔ اسی تگ و دو اور جذبے نے انہیں منزل کی جانب متوجہ کر رکھا تھا۔ آخر کار سکول اور کالج کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد دونوں کا مقصد اور خواب پورا ہونے کے قریب تھا۔
ان دونوں کا خیال تھا کہ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ کسی اچھی سی کمپنی میں افسر لگ جائیں گے، مگر شاید انہیں پتہ نہیں تھا کہ پڑھے لکھے انسان کو نوکری مل جانا غنیمت سے کم نہیں ہوتا۔
روزانہ صبح دونوں اکٹھے گھر سے ایک نئی امید اور ہمت کے ساتھ قریبی شہر میں تلاش معاش کے سلسلے میں نکلتے لیکن شام کو تھکے ہارے اور ناامید خالی ہاتھ لوٹتے۔ ماں باپ بھی پورے دن کے انتظار کے بعد خوشخبری سننے کو بے چین ہوتے مگر جب دونوں نگاہیں نیچے کئے گھر میں داخل ہوتے تو ان کے چہروں پر بھی گہری مایوسی واضح ہو جاتی۔
آج پورا مہینہ ہو گیا تھا مگر دونوں نوکری ڈھونڈنے میں ناکام رہے تھے۔ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہونا چاہتے تھے لیکن انہیں تو کوئی چھوٹی موٹی ملازمت بھی نہیں مل رہی تھی۔
بالآخر جب وہ در د رکی ٹھوکریں کھاتے تھک گئے تو ناچار شہر میں معمولی سیلز مین کی آفر قبول کرلی۔ آج ان کا کام پر جانے کا پہلا دن تھا۔ دونوں نے صبح اٹھ کر نماز ادا کی اور ناشتہ کرکے والدین اور بہن بھائیوں کی دعائوں سمیت اپنے ٹھکانے کا رخ کیا۔ چونکہ آمدورفت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ دونوں دوست مسافروں سے بھری ایک بس میں بیٹھ گئے۔
ڈرائیور نے بس چلانا شروع کی اور سب ہچکولے کھاتے منزل کی جانب بڑھنے لگے۔ بس میں گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر سوار تھے اور کئی بے چارے تو مجبوراً کھڑے بھی تھے۔ یکا یک فرحان کی نظر ایک شخص پر پڑی جو بڑی ہوشیاری سے اپنے ساتھ کھڑے مسافر کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا تھا۔ اس نے شاہد کی توجہ اس طرف مبذول کروائی۔ دونوں اس کی اتنی خاموشی اور چالاکی سے کرنے والی اس حرکت پر بڑے حیران ہوئے۔
اس دوران اس شخص نے بھی انہیں اپنی جانب تکتے دیکھ لیا تھا۔ وہ ڈر گیا اور جان گیا کہ اب اس کی خیر نہیں لہٰذا فوراً ان کے پاس پہنچا اور انہیں دس روپے والے نوٹوں کی ایک موٹی گڈی تھماتے ہوئے نہایت آہستہ آواز میں بولا ’’چپ رہنا دوستو! یہ رکھ لو‘‘۔ دونوں نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس سے پیسے لے لئے۔ اتنے میں ان کا مطلوبہ مقام بھی آ گیا تھا۔ وہ اس سے اترے تو جیب کترے نے ان سے جاتے کہا ’’دوستو! اگر تم بھی چاہو تو یہ کاروبار سٹارٹ کر لو، بہت منافع ہوگا‘‘۔ یہ کہہ کر وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
’’یار بات تو اس کی ٹھیک ہے‘‘ شاہد نے فرحان سے سرگوشی کے انداز میں کہا۔
’’ ہاں یار ! محنت مزدوری کرنے سے تو بہتر ہے کہ ہم اسی طریقے پر عمل کریں‘‘ فرحان نے بھی اس کی تائید کی۔ دونوں دوستوں نے اس دن بہت موج مستی کی، سینما میں فلم دیکھنے گئے اور طرح طرح کی چیزیں کھائیں۔
شام کو گھر واپس پہنچ کر انہوں نے باقی رقم والدین کے ہاتھ پر رکھی تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اب وہ دونوں روزانہ مختلف بسوں اور ویگنوں پر سوار ہو کر درجنوں مسافروں کی جیبیں صاف کرنے لگے۔ کبھی ان کے ہاتھ مہنگے موبائل، کبھی قیمتی گھڑیاں تو کبھی خطیر رقم لگ جاتی۔ وہ اس ناجائز کمائی پر خوب عیش کرنے لگے۔ گھر والوں نے پوچھنے کی کوشش کی تو وہ ٹال گئے۔
اس لامتناہی اور مجرمانہ فعل میں جلد ہی وہ ماہر اور پیشہ ور جیب کترے بن چکے تھے۔ پیسے کی طمع میں انسان اندھا ہو جاتا ہے اور بھول بیٹھتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے اپنے کئے کی سزا ضرور بھگتنا پڑے گی۔
اس دن فرحان اور شاہد ایک امیر آدمی کی جیب پر ہاتھ پھیر رہے تھے کہ ایک پولیس انسپکٹر نے انہیں دیکھ لیا اور اس نے فوراً انہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا۔
ان دونوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن اس طرح رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں گے۔ پولیس والوں نے ان کی خوب ٹھکائی کی اور پھر گھر والوں نے بڑی مشکل سے ان کی ضمانت کرائی۔
دونوں نے آئندہ ایسا کرنے سے توبہ کر لی اور کچھ رقم سے ایک کاروبار شروع کیا جس میں خدا نے برکت ڈالی اور وہ دونوں ایک خوشحال اور سکون بھری زندگی بسر کر رہے ہیں۔