پنجاب کابینہ کی تشکیل اور خصوصی رمضان پیکیج

تحریر : سلمان غنی


پنجاب کی اٹھارہ رکنی کابینہ عمل میں آچکی ہے۔ گزشتہ روزگورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے وزرا سے ان کے عہدوں کا حلف لیا اور حلف برداری کی تقریب کے بعد وزرا اپنے اپنے محاذ پر سرگرم ہو گئے ہیں۔

 کابینہ میں سینئر وزیر کی ذمہ داری مریم اورنگ زیب کے پاس ہو گی جبکہ دیگر وزرا میں خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر،مجتبیٰ شجاع الرحمن، بلال یٰسین، رانا سکندرحیات، ذیشان رفیق، عظمیٰ بخاری، فیصل ایوب کھوکھر، خلیل طاہر سندھو، چوہدری شافع حسین، سہیل شوکت بٹ، شعیب احمد ملک، رمیش سنگھ آڑورا، عاشق حسین کرمانی، بلال اکبر، شیر علی گورچانی اورصہیب برتھ کے نام شامل ہیں۔

 کابینہ میں شامل وزرا کی فہرست پر نظر دوڑائی جائے تو اسے پرانے اور نئے وزرا کا امتزاج قرار دیا جا سکتا ہے۔ ویسے تو حکومتوں کی کارکردگی کا انحصار وزرائے اعلیٰ کے ویژن اور ان کی ترجیحات پر ہوتا ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز اس معاملے میں خوش قسمت ہیں کہ عوام دوست اور ملکی و قومی مفاد پر مبنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے انہیں اپنے والدِ محترم میاں نوازشریف اور اپنے چچا وزیراعظم شہبازشریف کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) کے دونوں بڑے قائدین کو پنجاب کے کامیاب ترین وزرائے اعلیٰ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور پنجاب کے محاذ پر ان کی حکومتی کارکردگی پالیسیز اور اقدامات کی بدولت ہے۔ انہیں پنجاب کے بعد وفاق میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع بھی ملا اور موجودہ وزیراعلیٰ یقیناً اپنے بزرگوں کی رہنمائی اور سرپرستی میں کامیابی کے جوہر دکھا سکتی ہیں۔ تاہم زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو وزیراعلیٰ مریم نواز کو مشکل حالات میں یہ عہدہ ملا ہے۔ ان کو ایک جانب جہاں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا چیلنج درپیش ہوگا تو دوسری جانب پارٹی کی چیف آرگنائزر ہونے کی حیثیت سے انہیں اپنی جماعت کی مقبولیت کی بحالی اور اس کی مؤثر اور مضبوط سیاسی پوزیشن بحال کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا ،اوریہ ان کی حکومتی کارکردگی سے بڑی حد تک مشروط ہو گا۔

 مریم نواز اپنے عہدہ کا حلف اٹھانے کے بعد سے دن رات متحرک اور فعال نظر آ رہی ہیں۔ ان کی جانب سے اعلانات ، بیانات اور ہدایات کا سلسلہ جاری ہے مگر اصل کام اقدامات اور ان کی نتیجہ خیزی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کو بیورو کریسی کے طرز عمل پر بھی گہری نظر رکھنا پڑے گی۔ اگر وہ وزیر اعظم شہبازشریف کی طرح بیورو کریسی اور انتظامی مشینری کو فعال اور متحرک کرنے میں کامیاب ہو گئیں تو ان کی حکومت پوری قوت سے ٹیک آف کر ے گی اور سیاسی محاذ پر بھی مسلم لیگ (ن) کی اہمیت میں اضافہ ہو گا۔ البتہ انہیں کابینہ میں شامل نوجوان وزرا کی کارکردگی کے حوالے سے خصوصی چیک بھی رکھنا ہو گا، اور اس کیلئے اپنی جماعت کے سینئر لوگوں کو ذمہ داری دینا ہوگی۔

 مخالفین کا موجودہ صورتحال میں اصل ہدف وزیراعظم شہبازشریف سے زیادہ وزیراعلیٰ مریم نواز ہوں گی کیونکہ مخالفین یہ  سمجھتے ہیں کہ مستقل کی سیاست میں ان کا واسطہ مریم نوازشریف سے پڑنا ہے ؛چنانچہ ان کی کوشش ہو گی کہ وہ ان کی حکومتی  کارکردگی پر نظر رکھیں اور کسی بھی منفی بات یا اقدام کو پکڑ کر ان پر تنقید کریں اور ان کی حکومت کے قدم مضبوط نہ ہونے دیں۔ لہٰذا اس حوالے سے پنجاب حکومت کو اپنی کارکردگی بارے محتاط رہنا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے کہ عوامی سطح پر محسوس ہو کہ حکومت موجود ہے اور ڈیلیور بھی کر رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں ان کے لیے ریلیف کا بندوبست ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے خصوصی رمضان پیکیج ایک اچھا اقدام ہے مگر اسے مستحقین تک پہچانا بھی ایک چیلنج ہے۔ اس کارِ خیر میں اس امر کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہئے کہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور یہ احساس بھی نہ ہونے پائے کہ یہ مستحقین پر حکومت کا کوئی احسان ہے ۔ رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ خصوصاً دودھ، دہی ، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں  کو اعتدال پر رکھنا اور کوالٹی کو کنٹرول کرنا انتظامی مشینری کے لیے ٹیسٹ کیس ہے کیونکہ منافع خور اور ذخیرہ اندوز انتظامی مشینری کی مدد و معاونت اور سرپرستی کے بغیر اپنا دھندا جاری نہیں رکھ سکتے ۔ اگر انتظامی مشینری انہیں عوام کی جیبیں کاٹنے کی اجازت نہیں دے گی تو اس سے نہ صرف خود پنجاب حکومت کی کارکردگی بڑھے گی بلکہ عوام کے دلوں میں حکومت کے حوالے سے اچھے جذبات بھی پیدا ہوں گے اور ان کی زندگیوں میں اطمینان آئے گا اوریہ عمل حکومت کو خدا اور پنجاب کے عوام کی عدالت میں سرخرو کرے گا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے خصوصی رمضان پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے واضح کہا ہے کہ پنجاب کے سوا تین کروڑ لوگوں کو ان کی دہلیز پر ان کا حق ملے گا ۔بلاشبہ ان کا یہ اعلان غریب عوام اور مستحقین کے لیے اطمینان کا باعث ہوگا۔ مذکورہ پیکیج کے حوالے سے مریم نوازشریف اور ان کی ٹیم نے زبردست مشق کی ہے اور مذکورہ عمل کے حوالے سے حکومت خصوصاً پولیس اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داران کو شامل کیا گیا ہے اور اس حوالے سے جمع شدہ ڈیٹا کے مطابق مستحقین تک پہنچایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مستحقین کا ڈیٹا آنے والی حکومتوں کے لیے بھی سہولت کا سبب بنے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے مستحقین کی مدد کے لیے رمضان المبارک میں رمضان نگہبان پیکیج پر ان کے احکامات کے تحت بھر پور طریقے سے عمل کر لیاگیا تو یہ ان کی ایک بڑی کامیابی ہو گی جو رمضان جیسے مقدس مہینے میں انہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی سرخرو کرے گی۔ ان کے احساسات جذبات اپنی جگہ لیکن اس کے لیے مانیٹرنگ سسٹم اہمیت کا حامل ہوگا۔

 وزیراعظم شہبازشریف نے بھی گزشتہ رمضان المبارک کے دوران غریب عوام کے ریلیف اور رمضان المبارک میں ان کی سہولت کے لیے مفت آٹے کی فراہمی کا عمل شروع کیا تھا۔ ان کی کوشش اور کاوش اپنی جگہ لیکن مذکورہ آٹے کی تقسیم کے عمل بارے بے ضابطگیوں اور لوٹ مار کی خبریں آئیں اور اس میں انتظامی مشینری کا غیر ذمہ دارانہ عمل بھی سامنے آیا، لہٰذا اب پنجاب حکومت جس جوش و جذبہ اور خدا ترس جذبہ کے تحت رمضان المبارک کے دوران خلق خدا کے لیے جو نیک عمل شروع کر رہی ہے قوی امکان ہے کہ یہ کامیاب ہوگا۔ البتہ اس میں شفافیت کا عمل حکومت کے لیے چیلنج بنے گا جس کے لیے خود وزیراعلیٰ مریم نواز کو متحرک اور الرٹ رہنا پڑے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔