نئی حکومت لمبی اننگز کھیلنے کیلئے تیار

تحریر : عدیل وڑائچ


وفاق اور چاروں صوبوں میں نئی حکومتیں بن چکی ہیں ، ملک سے غیر یقینی سیاسی صورتحال کے بادل چھٹتے جا رہے ہیں۔ 8 فروری کے انتخابات کے بعد ایک سوال جو زبان زد عام تھا کہ کیا نئی مخلوط حکومت چل پائے گی ؟ اگر چل بھی پڑی تو کتنا عرصہ ؟ خواجہ آصف جیسے( ن) لیگی رہنما نے ٹی وی انٹرویو میں مڈٹرم الیکشن کا عندیہ دے دیا۔

 میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بحث ہونے لگی کہ نئی حکومت بیساکھیوں پر قائم ایسی حکومت ہے جس میں16 ماہ کی پی ڈی ایم حکومت کے شراکت دار بھی کابینہ میں بیٹھنے سے گریز کر رہے ہیں ، ملک ایک مشکل ترین معاشی دور سے گزر رہا ہے، تلخ اور مشکل فیصلے کرنے ہیں،پارلیمنٹ میں ایک تگڑی ترین اپوزیشن نے اسمبلی اجلاسوں کے آغاز میں ہی ناکوں چنے چبوانے شروع کر دیئے ہیں۔مگر کیا واقعی ایسا ہے کہ نئی مخلوط حکومت کی کشتی ہچکولے کھاتی رہے گی اور اپنی بقا کی جنگ لڑتی رہے گی؟

پاکستان کی سیاست کے محرکات ، مقتدرہ کی ترجیحات اور ( ن) لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کا طرزِ سیاست اور موجودہ صورتحال میں سیاسی مجبوریاں دیکھیں تو کہا جاسکتا ہے کہ اس حکومت کا کمزور ہونا ہی در اصل اس کی انشورنس ہے۔ ( ن)  لیگ کو اتنا نقصان تو شاید اپوزیشن میں رہ کرنہ پہنچا ہو جتنا دو تہائی اکثریت یا سادہ اکثریت والی حکومتوں کے دوران پہنچا۔ میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت والی حکومت کے دوران پرویز مشرف سے تصادم کر بیٹھے اور نتیجے میں عمر قید کی سزا اور اس کے بعد جلا وطنی کاٹنی پڑی۔ اس کے بعد 2013 ء میں ایک بہترین سادہ اکثریت والی حکومت میں ان کے کچھ فیصلوں کے باعث انہیں اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑگیا، چاربرس بعد معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ انہیں نا اہلی کے ساتھ ساتھ اپنی صاحبزادی کے ساتھ جیل بھی کاٹنا پڑی اور ایک مرتبہ پھر وطن سے دور جانا پڑا۔ میاں نواز شریف اب بھی ایسی ہی حکومت چاہتے تھے جس میں انہیں کم از کم سادہ اکثریت حاصل ہو،جس کا اظہار انہوں نے انتخابات سے قبل اور پولنگ ڈے پر بھی کیا، مگر 8 فروری کے انتخابات کے بعد ایسی صورتحال بن گئی کہ میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ لینے سے انکار کر نا پڑا اور قرعہ شہباز شریف کے نام نکلا۔اب جائزہ لیتے ہیں کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ موجودہ حکومت قیاس آرائیوں کے بر عکس طویل عرصہ چلتی دکھائی دے رہی ہے۔

پاکستان میں حکومتیں اپوزیشن نہیں مقتدرہ کے ساتھ لڑائی کے باعث گھر جاتی رہی ہیں۔ پارلیمان میں اپوزیشن کا شور شر ا با ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کی زینت توبن رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نئی حکومت کیلئے درد ِسر بھی ہے،ایونوں میں ہونے والے شور شرابے سے حکومتیںسیاسی دباؤ میں تو ضرور رہتی ہیں مگر اپوزیشن کے پاس انہیں اقتدار سے نکالنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے تحریک عدم اعتماد۔مگر پاکستان تحریک انصاف کے پاس نہ تو اتنے نمبرز ہیں کہ وہ تحریک عدم  اعتماد کا سوچ بھی سکے اور نہ ہی کوئی دوسری جماعت اس کے ساتھ چلنے کی متحمل ہو سکتی ہے۔قومی اسمبلی میںاپوزیشن کی بڑی آوازوں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جو ایک حد میں رہ کر ہی احتجاج کرتے رہیں گے۔ پنجاب سے کوئی بڑا نام ایوان میں اپوزیشن کرتا دکھائی نہیں دیتا ،بلکہ پنجاب میں تو نہ صرف اپوزیشن بلکہ تحریک انصاف کے ہارنے والے آزاد امیدوار بھی ایسے دبک کر بیٹھ گئے ہیں جیسے پنجاب میں سب اچھا ہے۔ پنجاب میں نہ تو کوئی سڑکوں پر ہے اور نہ ہی ایوان میں شور مچاتا دکھائی دیتا ہے۔ حیران کن طور پر پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے ہارنے والے آزاد امید واروں کی جانب سے انتخابی عذر داریوں کی پیروی کرنے میں بھی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ماضی میں مسلم لیگ ( ن) کو اتنا خطرہ اپوزیشن سے نہیں رہا جتنا اپنے سیاسی فیصلوں سے۔اس مرتبہ مخلوط حکومت ایسی حالت میں ملی ہے کہ( ن) لیگ کسی بھی قسم کا مس ایڈونچر کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کے پلر پر کھڑی ہے، اگر یہ پلر نکل جائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔بڑے ملکی فیصلے شہباز شریف ،ان کے بھائی اور قائد میاں نواز شریف تنہا نہیں کر سکتے۔( ن) لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سسٹم میںstakes بڑھ چکے ہیں کہ اس وقت وہ ایک دوسرے کو غیر مستحکم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مسلم لیگ ( ن) کی وفاق کے علاوہ پنجاب میں حکومت، پیپلز پارٹی کے پاس صدر ،دو گورنرز، چیئرمین سینیٹ کے عہدے اور دو صوبوں میں حکومتیں ہیں۔دونوں جماعتیں کوئی ایسی مہم جوئی کرنے کے قابل نہیں کہ ملک میںآئندہ دو سے تین برس میں مڈ ٹرم انتخابات کا سوچا جا سکے۔ 

رہی سہی کسر مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے سے نکل گئی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے بعد خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو باقی پارلیمانی جماعتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس کے بعد حکومتی اتحاد کو  قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ملنے جا رہی ہے۔ یہ عددی طاقت تو عمران خان کی حکومت کے پاس نہیں تھی۔ اب آنے والے دنوں میں حکومتی اتحاد اپوزیشن کی مزاحمت کے بغیر آئین میں ترامیم بھی کر سکے گا۔

وفاقی حکومت مقتدرہ کی ترجیحات کے مطابق خود کو ڈھالنے کیلئے نہ صرف پوری طرح تیار ہے بلکہ اس نے وزارت خزانہ جیسی اہم ترین وزارت کی سربراہی میاں نواز شریف کے سب سے قریبی ساتھی اسحاق ڈار کو نہ دے کر اورمعاشی گراؤنڈ میں ایک ٹیکنوکریٹ کھلاڑی کواتار کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ معیشت سمیت تمام قومی اور ریاستی امور میں سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلے کئے جائیں گے۔ کچھ حلقے یہ بھی توقع کر رہے تھے کہ انتخابی شفافیت کے معاملے پر عالمی میڈیا کی رپورٹنگ کے بعدمغرب سے کوئی رد عمل آسکتا ہے مگر نہ تو کوئی رد عمل آیا بلکہ مغرب سمیت دوست ممالک کی جانب سے شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی حکومت کے سا تھ چلنے کا عندیہ دیا گیا۔ 

263 ویں کور کمانڈر کانفرنس میں پاک فوج نے بحیثیت ادارہ مرکز اور صوبوں میں اقتدار کی جمہوری انداز میں منتقلی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ انتخابات کے بعد کا ماحول پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام لائے گا جس کے نتیجے میں امن اور خوشحالی آئے گی۔ کور کمانڈر کانفرنس کے فورم سے پیغام دیا گیا کہ معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینے میں حکومت کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ایسے میں واضح نظر آرہا ہے کہ قیاس آرائیوں اور تبصروں کے برعکس موجودہ حکومت ایک لمبی اننگز کھیلنے کیلئے تیار ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔