ایک انسان کتنی توانائی خرچ کرتا ہے؟

تحریر : روزنامہ دنیا


کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے جسم میں توانائی کی جو مقدار ہوتی ہے اس کے ذریعہ سے سو واٹ کا بجلی کا بلب روشن کیا جا سکتا ہے۔ ہم سو واٹ توانائی کی مقدار استعمال کرتے ہوئے اپنے تمام کام انجام دیتے ہیں۔ ہمارے گھروں اور دفتروں میں کام کرنے والے لوگوں کے جسم سے جو گرمی خارج ہوتی ہے اس کی وجہ سے ہم اپنے کاموں کے دوران زیادہ توانائی خرچ کرنے سے بچ جاتے ہیںاور کم سے کم توانائی میں زیادہ سے زیادہ کام کر لیتے ہیں، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جس قدر کم توانائی میں ہم جتنا زیادہ کام انجام دے لیتے ہیں وہ حیرت انگیز حد تک بہت ہی کم ہے۔

 صحیح طور پر تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر ہم اپنے روز مرہ کام انجام دینے کیلئے کوئی مصنوعی مشین استعمال کریں، مثلاً کوئی ایسی مشین بنائی جائے جو ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک چل سکتی ہو، چیزیں ادھر سے اُدھر لے جا سکتی ہو اور اسی قسم کے دوسرے کام انجام دے سکتی ہو تو اس میں بہرحال سو واٹ سے زیادہ برقی طاقت صرف ہوگی۔ یقیناً ایسی کوئی مشین نہیں ہے جو انسانی کام انجام دے سکتی ہو۔ انسانی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتی ہو مثلاً سننا، محسوس کرنا،بولنا، دیکھنا اور سوچنا وغیرہ۔

ہمارے جسم کی توانائی کا بیشتر حصہ جگر اور تلی میںاستعمال ہوتا ہے۔ جگر ایسا عضو ہے جو جسم کی تمام کیمیائی اور استحالائی تجربے انتہائی باریک بینی اور نفاست سے انجام دیتا ہے۔ جگرمیں چینی ذخیرہ کی صورت میں جمع رہتی ہے وہ جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ ہمارے جسم کا درجۂ حرارت37 ڈگری سینٹی گریڈ ہے جو ہمیشہ جگر کے فعل کی وجہ سے یکساں رہتا ہے۔

 جب انسان آرام کی حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت توانائی کا ایک چوتھائی حصہ جسم کے ان ہی اعضا میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی حصہ عضلات میں جن میں قلب کے عضلات بھی شامل  ہیں اور پانچواں حصہ دماغ میں کام کرنے کیلئے منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ جسم کے عضلات سے زیادہ کام لیں گے یعنی جلدی جلدی کام کریں گے تو اعضلات زیادہ توانائی صرف کریں گے، لیکن دماغ کے ساتھ یہ صورتحال نہیں ہے اور اگر آپ بیٹھے بیٹھے یکا یک کسی نکتے پر بھرپور توجہ کے ساتھ سوچنا شروع کر دیں گے تب بھی دماغ کی توانائی کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔