رمضان کے بعد صحت مند خوراک

تحریر : تحریم نیازی


رمضان کا مقدس مہینہ اپنی رحمتوں کے ساتھ رخصت ہو چکا ہے۔ اس ایک مہینے میںہمارے جسم کو بھی فاسد مادوں اور مردہ خلیوں سے نجات مل گئی ہے۔

 سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ماہ رمضان میں جسم قبل از وقت بڑھاپے، سرطان، شوگر اور دل کے امراض کا باعث انتہائی نقصاندہ اور دائمی امراض پیدا کرنے والے مردہ خلیوں سے نجات پا لیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق رمضان المبارک میں یادداشت، نیند اور کسی نقطے پر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو مرتکز کرنے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اعصابی خلیوں کوبھی آرام ملنے سے جسمانی ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر پڑا۔ ذیل میں صحت مند رہنے کی چند ٹپس بتاتی ہوں۔

جسم سحری اور افطار کے دوکھانوں کا عادی ہو چکا ہے لہٰذا فوری طورپر دن میں کئی مرتبہ کھانے پینے سے گریز کیجئے، اس سے معدے اور نظام انہضام میں خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جنک فوڈز سے بھی گریز لازم ہے اور رہا پانی یہ ضرور پئیں ۔ کیونکہ ایک تو گرمی کا موسم سر پر ہے اور دوسرے یہ کہ ہماری جلد نازک حصوں میں شامل ہے ۔ یہ گرمی ہو یا سردی، حتیٰ کہ جذباتی کیفیت سے بھی متاثر ہو تی ہے اس لئے پانی مناسب مقدار میںیا پسینے کی مقدار کے مطابق پیتے رہیں اور پیاس لگنے پر تو ضرور پئیں۔

 چکنائی اور جسم میں پیدا ہونے والے فاسد مادوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے لہٰذا چینی اورچکنائی سے بھرپور غذائوں سے بھی گریز کریں۔ ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس سے توانائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوراک نہ ملنے کی صورت میں جسم 6گھنٹے بعد جسم توانائی کے دیگر ذرائع کو تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ 11، 12گھنٹے کے روزے کے باعث جسم نے توانائی کے دیگر ذرائع بھی استعمال کرنا شروع کر دئیے تھے اور توانائی کا یہ ذریعہ بنتی ہے جسم میں موجود اضافی چربی۔ چنانچہ اضافی چربی کے خاتمے سے جگر نے بھی سکھ کا سانس لیاہے۔رمضان المبارک کے بعد جونہی آپ نے چکنائی سے بھرپور ، چینی والی یا جنک فوڈز کا استعمال کرنا شروع کے دیئے ہیں تو ایک مہینے میں حاصل کردہ تمام فوائد رائیگاں ہو سکتے ہیں۔لہٰذا صبح اٹھتے ہی تین چار کھجوریں کھانے کے دوگھنٹے بعد ناشتہ کریں۔ مختلف طرح کی فائبر والی غذائوں کی بجائے چند ہفتوں تک ایک ہی نوعیت کی غذا پر گزارا کریں۔ مثلاً اگر ناشتے میں پراٹھا کھا لیا ہے تو پھر دلیہ یا  بسکٹ سے ہاتھ کھینچ لیں۔اگر آپ ناشتے میں مختلف طرح کی غذائیں کھانا ہی چاہتی ہیں تو تھوڑا سا چکھ لیں۔

 ہوٹلنگ سے گریز کریں، گھر میں 80:20کے فارمولے پر عمل کریں۔ یعنی پیٹ کا پانچواں حصہ خالی رکھیں۔یہ کلیہ میں نے ہر مرد و عورت کیلئے موزوں ترین پایا ہے۔ نشاستہ کی مقدار کو جسمانی ضروریات کے مطاق رکھنے کیلئے پھلوں کا استعمال کریں۔ یاد رکھیں جوس کی بجائے پھل بہتر ہیں۔ جوس بہت تھوڑے وقت میں انسولین کی بہت زیادہ مقدار استعمال کر لیتے ہیں لہٰذا صحتمندی کی حالت میں جوس کی بجائے پھلوں کو ترجیح دیں۔ اس سے جسم کو فائبر بھی میسر آجائیں گے ۔ 

پانی کا استعمال ضروریات کے مطابق کریں۔ تاہم اس کی مقدار کے بارے میں عالمی محققین کسی ایک نقطے پر متفق نہیں ہیں۔ اگر آپ ڈائٹ پر ہیں تو دوپہر کے کھانے سے پہلے پانی کے دو گلاس پی لیں۔ دیگر صورتحال میں کھانے سے 15منٹ پہلے پانی پینا زیادہ مفید ہے۔ پسینے کے بعد پانی پینے سے اوّل تو جلد تروتازہ رہے گی اور دوسرے فاسد مادے بھی خارج ہو جائیں گے۔ 

ہر کھانے کا آغاز کم چربی اور کیلوریز والی غذائوں سے کریں جیسا کہ سبز پتوں پر مشتمل سلاد یا سوپ۔ کیلوریز کو کم کرنے کیلئے ورزش لازمی کریں۔ کاربوہائیڈریٹس کی مقدار پر نظر رکھیں یہ ضرورت سے نہ بڑھنے پائیں ۔ اجناس پھلوں ، سبزیوں ، چینی اور مٹھائی میں کاربوہائیڈریٹس کی مناسب مقدار ہوتی ہے،ان کا زیادہ استعمال کریں ۔ 

پچھلے مہینے مجھے پیٹ کی خرابی کی متعدد شکایات ملیں ۔ بہت زیادہ تلی ہوئی ،ہائی فیٹ فوڈز اس کی وجہ تھے ، ان کے استعمال سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔ پانی اور خوراک میں دس منٹ کا وقفہ اس خرابی سے بچا سکتا ہے ۔ 

ناشتے اور دوپہر کے کھانے میں انڈا، گوشت، مچھلی یا چکن، سبزیوں کے بیج، دلیہ، چاول ، پھلیاں یا روٹی استعمال کریں۔ اس سے پٹھے بھی مضبوط ہوں گے اور نظام انہضام بھی ٹھیک رہے گا۔بہت سی خواتین اور بچے خوراک کو مناسب طور پر چبا ئے بغیر کھا لیتے ہیں۔ یاد رکھئے، معدے میں دانت نہیں ہوتے ۔ہر نوالے کو کم از کم 20سیکنڈ تک چبانا ضروری ہے، نوالے کا سائز بھی بڑا نہیں ہونا چاہئے۔

 اگر دوران رمضان کسی چھوٹی بچی نے محسوس کیا کہ اسے چکر آئے ہیں تو مائوں کو چاہئے کہ اس کی خوراک میں مائع خوراک کی مقدار بڑھادیں۔ فی کلو گرام 30سے 35لیٹر مائع خوراک ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر کسی بچی کا وزنپینتیس کلو گرام ہے تو اسے سوا لیٹر مائع خوراک لینا چاہئے۔ جیسا کہ تربوز، یاخربوزہ،لیمن جوس، گنے کا رس ، کوکونٹ واٹر وغیرہ۔ سوپ بھی اس میں شامل ہے۔ چہل قدمی کو معمول کاحصہ بنا لیں یا پھر جسم کو  ڈیڑھ سو سے تین سو منٹ تک کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں جیسا کہ کھانا پکانا، بچوں کو پڑھانا، گھر کی صفائی یا پردے اور بیڈ شیٹ سیدھی کرنا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

موسم گرما کے ملبوسات

موسم گرما اپنے جوبن پر ہے، جھلسا دینے والی دھوپ اور گرم لو کے تھپیڑوں نے باہر نکلنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس موسم میں خواتین کو شدید احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں چونکہ موسم گرما بہت طویل ہوتا ہے اس لیے خواتین کو چاہیے کہ وہ صرف موسم کی مناسبت کے ساتھ تیارکردہ ملبوسات زیب تن کریں۔ گرمیوں کا موسم ایسا ہے کہ کپڑوں کے انتخاب میں تنوع مل جاتا ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھیں کہ گرمیوں میں ہمیشہ ہلکے پھلکے ڈیزائن اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کریں۔

نامناسب کلینزنگ پراڈکٹس کا انتخاب خطرناک

ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی جلد کے بارے میں سب سے زیادہ ہم خو د جانتے ہیں لیکن یہ سوچ ہی انتہائی غلط ہے ۔کہ بنا کسی ماہر سے مشورہ لئے ہم اپنی جلد کی حساسیت سے واقف ہو سکتے ہیں۔کوئی اچھی بیوٹیشن یا سکن سپیشلسٹ ہی بہتر بتا سکتی ہے کہ ہمیں اپنی جلد کے بارے میں کیا جان لینا ضروری ہے اور کس قسم کی کاسمیٹکس ہمارے لئے فائدہ مند ہو سکتی ہیں اور کس قسم کی پراڈکٹس کا استعما ل ہماری سکن کی خوبصورتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔

مفید طبی مشورے

دانت سفید کرنے کا طریقہ لونگ کا تیل دو سے تین قطرے ٹوتھ برش پر ٹپکا کر اچھی طر ح برش کریں، پھر دیکھیں دانت کیسے موتیوں کی طر ح چمک اُٹھتے ہیں۔ ہفتے میں ایک بار بھی کرلیں تو کافی ہے ،یہ کرنے کے بعد آپ کو کسی اور ٹوٹکے کی ضرروت نہیں پڑے گی۔

آج کا پکوان

لاہوری پٹھورے پٹھورے کے اجزا: چاول کا آٹا ایک پیالی، مسور کی دال کا آٹا آدھی پیالی، نمک حسب ذائقہ، کوکنگ آئل دو کھانے کے چمچ۔

شاہد احمد دھلوی

دلچسپ انسان، فاضل مدیر، بہترین مترجم، صاحب زبان 57ویں برسی کے حوالے سے خصوصی تحریر ان کی دلکش اور شگفتہ عبارت میں محاوروں اور لفظوں کا اس قدر صحیح استعمال ہوتا ہے کہ ہر لفظ زندہ اور جیتا جاگتا نظر آتا ہے ان کی نثرمیں اُس خوشبو کا احساس ہوتا ہے جو عہد ِحاضر میں کمیاب ہو چکی ہے

شاعری اور موسیقی کا رشتہ؟

شاعری کا تخلیقی عمل ایک طلسماتی عمل ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا دشوار ہے لیکن جسے ذوقی اور وجدانی سطح پر محسوس کیا یا کروایا جا سکتا ہے۔ شاعری کے اسرار میں سے ایک شاعری کی موسیقیت اور نغمگی بھی ہے جو شاعری کی روح ہے۔شاعری کی موسیقیت کیوں کر پیدا ہوتی ہے اور شاعری اور موسیقی کا کیا رشتہ ہے۔