آپسی میل ملاقات کے آداب

تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع


اسلام انسانی زندگی کی حفاظت اور اُس کی بقاء کا سب سے بڑا ضامن ہے وہ پوری انسانیت کو معاشرے میں ایک دوسرے کی جان ومال کی حفاظت اور حرمت کا پابند بناتا ہے اور جزا وسزا کے اُصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے متوازن انداز میں تنبیہ کرتا ہے: ’’اور جس جاندار کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی شریعت کے فتویٰ کی رُو سے) اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتح یاب ہے‘‘(سورۃ الاسراء:33)۔

دوسری جگہ فرمایا: ’’اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں، اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کیلئے عاقبت کا گھر ہے‘‘(سورۃ الرعد:21-22) ۔

دُنیا میں کوئی بھی انسان اپنی معاشرتی و اجتماعی زندگی میں دوسرے انسان سے کبھی مستغنی و بے نیاز نہیں ہو سکتا بلکہ اسے زندگی کے مختلف مراحل، متعدد شعبوں اور دیگر بیسیوں مسائل میں کسی نہ کسی انسان ضرورت و احتیاج لازمی پڑتی ہے۔ شادی و بیاہ کے مواقع ہوں یا فوتگی و غمی کے، انفرادی زندگی کے مسائل ہوں یا اجتماعی زندگی کے، گھریلو زند گی کی اُلجھنیں ہوں یا باہر کی زندگی کے لانجھے، اسلام نے ہمہ قسم کے معاملات و مسائل اور تمام قسم کے مواقع و حالات میں اپنے ماننے والوں کیلئے انتہائی عمدہ اور نہایت ہی زریں اُصول مقرر کئے ہیں۔

معاشرتی زندگی میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو برائی کا بدلہ اچھائی سے دینے، نیک اور اچھے کاموں میں باہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و نصرت کرنے اور برے اور غلط قسم کے کاموں سے بچنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دُشمنی کہ اُنہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا تمہیں اِس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (اُن پر) زیادتی کرنے لگو، اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے‘‘ (سورۃ المائدہ: 02)۔

اسی طرح دیانت داری سے کام کرنے اور خیانت سے بچنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بے شک ہم نے حق پر مشتمل کتاب تم پر اِس لئے اُتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اُس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو سمجھایا ہے اور تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنو‘‘ (سورۃ النساء: 105)

اسی طرح انصاف و احسان، رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے بچنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’بے شک اللہ انصاف کا، احسان کا اور رشتہ داروں کو (اُن کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، بدی اور ظلم سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو‘‘ (سورۃ النحل: 90)

اس آیت مبارکہ میں معاشرتی زندگی کی جو روح کارفرما نظر آرہی ہے، پوری دنیائے انسانیت کیلئے اس میں ایک لائحہ عمل ہے جو کامیاب زندگی کی طرف آپ کی راہنمائی کرتا ہے اگر معاشرے میں عدل وانصاف عام ہو جائے لوگوں میں احسان کرنے کا جذبہ پیدا ہوجائے تو معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ صلہ رحمی یعنی عزیز و اقارت کے ساتھ نیک سلوک اور حاجت مندوں کی مدد کرنے سے معاشرہ عیوب سے پاک ہو سکتا ہے اور انسانی زندگی کا دامن خوشیوں سے بھرسکتا ہے۔ 

معاشرتی زندگی میں پاکیزہ روایات کے فروغ اور شرم و حیا کی پاسداری کے احساس کو اُجاگر کرنے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت وآرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح سے رخصت کردوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کیلئے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب:28,29)

ان آیات میں واضح کیا جا رہا ہے کہ دنیاوی زندگی اور گھریلو زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔دنیاوی زندگی طمع، حرص و ہوس اور خواہشات نفسانی کی طرف مائل کرتی ہے۔ دین کی پیروی پر مشتمل زندگی شرم و حیاء، صبر و قناعت اور ایثار و قربانی کی خصوصیت پیدا کرتی ہے جو معاشرتی زندگی کا جوہر ہے۔ قرآن مجید معاشرتی زندگی کے اسی پہلو کو اُجاگر کرتا ہے۔ خاتون خانہ پر سب سے زیادہ گھریلو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ قرآن ان کی تعلیم وتربیت پر خاص طور سے زور دیتا ہے۔ معاشرتی زندگی میں روحانی اقدار کی بڑی اہمیت ہے۔ دنیاوی آلائشوں سے پاک زندگی ہی اسلامی طرز حیات اور اسلامی روایات کی پاسدار ہے۔ لہٰذا قرآن اس زندگی میں پاکیزہ حصار قائم کرنے پر زور دیتا ہے اور ان میں غیر محسوس طور پر در آنے والی خرابیوں سے بچنے کی تنبیہ کرتا ہے۔

جیسا کے ارشاد ہے: ’’اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (چہروں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کیلئے موجب شناخت (و امتیاز) ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا،اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (سورۃ الاحزاب: 59)۔ اس آیت مبارکہ کا مقصد معاشرے کو یہ بات باور کرانا ہے کے عورتیں پردے میں رہ کر محفوظ رہ سکتی ہیں، لہٰذا روز مرہ زندگی میں انہیں محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

گھریلو زندگی میں قریب ترین و مستحکم ترین رشتہ میاں کا بیوی کا ہے۔ گھریلو زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں لہٰذا میاں بیوی میں اگر کسی قسم کی ناچاقی ہو جائے تو فساد برپا کرنے کی بجائے قرآن پرُ امن اور شریفانہ راہ دکھاتا ہے جو معاشرتی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں، اور صلح خوب (چیز) ہے،اور اگر تم نیکو کاری اور پرہیز گاری کرو گے تو اللہ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے‘‘ (سورۃ النساء: 128)

معاشرتی زندگی کے استحکام و انضباط میں اولاد کی اہمیت مسلم ہے۔ اولاد کی تربیت کی ذمہ داری والدین پر عائد کی گئی ہے۔ مگر والدین کے حقوق اولاد پر مقدم قرار دیئے گئے ہیں اور اولاد کو تنبیہ کی گئی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا (سورہ بنی اسرائیل:23)

انسانی معاشرے کی تشکیل و اخلاقی اقدار کی ترویج کے سلسلے میں قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ انسان کیلئے اخلاقی منشور کی اہمیت رکھتی ہے۔ اولاد کا ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک ہی معاشرتی استحکام کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انسانی برادری میں امن کا شعور اور امن کی ترغیب احترام انسانیت اور تسلیم ورضا کی روح پیدا ہوتی ہے، جس معاشرے میں بزرگوں کو مرکزی حیثیت دی جائے، ان کی بڑائی، بزرگی اور عظمت کو تسلیم کیا جائے، ان کے سامنے جھک کر انہیں میٹھی زبان میں مخاطب کیا جائے، وہ معاشرہ حقیقی معنوں میں انسانی معاشرہ کہلانے کا مستحق ہے۔ قرآن ایسے ہی مثالی معاشرے کی تشکیل چاتا ہے۔

حضورﷺنے فرمایا ہے: ’’اللہ کے نزدیک سب سے برا عمل اُس کے ساتھ شرک کرناہے اور پھر رشتہ داری توڑنا ہے‘‘(الجامع الصغیر:166)۔

حضور ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب اس سے فراغت ہوئی تو رشتہ داری اور صلہ رحمی کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: ہاں! یہ اس کا مقام ہے جو توڑنے سے تیری پناہ چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ جو کوئی تجھ کو ملائے اسے میں بھی ملوں گا اور جو کوئی تجھے توڑے میں بھی اس سے قطع کروں گا؟ صلہ رحمی نے عرض کی: میں اس پر راضی ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ مقام تجھ کو دے دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں پڑھ لو: ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ (سورۃ محمد: 22)، (صحیح بخاری:5987)

حضورﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے رشتے داروں کا خیال رکھنا چاہیے‘‘(صحیح بخاری: 6138)

حضور ﷺنے فرمایا: ’’جو چاہتا ہو کہ اس کی روزی میں کشادگی ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو تو اسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا چاہیے‘‘(صحیح بخاری: 5986، صحیح مسلم: 2557)۔

حضرت ابوایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: ’’ اے اللہ کے رسولﷺ! کوئی ایسا عمل مجھے بتایئے کہ اس کے ذریعہ جنت حاصل کر لوں، آپ ﷺنے جواب میں فرمایا: ’’اللہ کی خالص بندگی کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو‘‘ (صحیح بخاری 5983، صحیح مسلم :13)

حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اس کا کرنے والا دنیا میں ہی اس کا زیادہ سزا وار ہو اور آخرت میں بھی یہ سزا اسے ملے گی سوائے ظلم اور رشتہ توڑنے کے‘‘ (سنن ابی دائود: 4902 ، سنن ابن ماجہ:3413)

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’اولاد آدم کے اعمال جمعرات کی شام اور جمعہ کو اللہ تعالیٰ کو پیش کیے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رشتہ توڑنے والے شخص کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا‘‘ (الترغیب و الترہیب: 2538)۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’رشتہ عرش الٰہی سے آویزاں ہے،  وہ پکار پکار کر کہتا ہے جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے اور جس نے مجھے توڑ دیا، اللہ اسے توڑ دے‘‘ (صحیح مسلم: 2555)۔

حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جنت میں رشتہ توڑنے اور کاٹنے والا نہ جائے گا‘‘(صحیح مسلم: 2556)۔

رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ کے طور پر صلہ رحمی کرتا ہے، بلکہ اصل میں صلہ رحمی تو یہ ہے کہ جب کوئی قطع رحمی کرے تووہ اسے جوڑے‘‘ (صحیح بخاری : 5991)۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت اقرع بن حابسؓ نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ اپنے نواسے حضرت حسن بن علی ؓ کا بوسہ لے رہے تھے تو اُنہوں نے کہا: ’’ میرے دس لڑکے ہیں مگر میں کسی کا بھی بوسہ نہیں لیتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا‘‘ (صحیح بخاری: 7995، صحیح مسلم: 8132)۔

حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے بیٹے)حضرت ابراہیم ؓ کو (گود میں) لیا اور اس کا بوسہ لیا(اور پیار سے) اس کی خوشبو لی (صحیح بخاری: 1303، صحیح مسلم:5132)۔

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک اعرابی (دیہاتی) آیا اورکہنے لگا: کیا آپ ﷺ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ ہم تو بچوں کا بوسہ نہیں لیتے! حضور ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت نکال دی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں‘‘ (صحیح بخاری : 8995، صحیح مسلم: 7132)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺاٹھ کر ان کے پاس جاتے، اُن کا ہاتھ پکڑ لیتے ،پھر ان کا بوسہ لیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے(سنن ابی داؤد: 7125، جامع ترمذی:2783)

دین اسلام میں ہمسائیوں، پڑوسیوں کے بڑے حقوق ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی چیز میں شرک نہ کرو، والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتہ دار پڑوسیوں، اجنبی پڑوسیوں، پہلو کے ساتھ (یعنی بیوی)، مسافر اور غلاموں سے اچھا سلوک کرو‘‘(سورۃ النساء:63)

حضورﷺنے فرمایا: ’’مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام لگاتارپڑوسی کے ساتھ (اچھے سلوک کا) حکم دیتے رہے، یہاں تک کہ میں نے یہ خیال کیا کہ وہ اسے (پڑوسی کو)وراثت کا حق دار قرار دیں گے‘‘(صحیح بخاری:5102، صحیح مسلم: 5262)

الغرض انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشرتی زندگی کے تمام مسائل اور حالات و واقعات میں اس طرح سے زندگی گزارنے کا عزم اور پختہ تحیہ کرے کہ اُس کی ذات سے کسی دوسرے انسان حتیٰ کہ کسی جانور کو بھی تکلیف نہ پہنچے۔ کسی بھی شخص کا کوئی مالی و جانی حق اُس کے ذمہ نہ ہو۔ کسی کو اپنے اعضاء و جوارح سے اُس نے کسی قسم کی تکلیف نہ دی ہو۔ اُس کی زبان اور ہاتھ پاؤں کی برائی سے دوسرے تمام انسان محفوظ و مامون ہوں۔ یہی زندگی گزارنے کا ایک بہترین اسلامی طریقہ ہے اور اسی عمدہ سلیقے کے اندر انسان کی دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی کا راز پوشیدہ ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔