جاوید منزل :حضرت علامہ اقبال ؒ نے ذاتی گھر کب اور کیسے بنایا؟

تحریر : فیضان عباس نقوی


لاہور ایک طلسمی شہر ہے ۔اس کی کشش لوگوں کو ُدور ُدور سے کھینچ کر یہاں لےآ تی ہے۔یہاں بڑے بڑے عظیم لوگوں نے اپنا کریئر کا آغاز کیا اور اوجِ کمال کوپہنچے۔ انہی شخصیات میں حضرت علامہ اقبال ؒ بھی ہیں۔جو ایک بار لاہور آئے پھر لاہور سے جدا نہ ہوئے یہاں تک کہ ان کی آخری آرام گاہ بھی یہاں بادشاہی مسجد کے باہر بنی، جہاںکسی زمانے میں درختوں کے نیچے چارپائی ڈال کر گرمیوں میں آرام کیا کرتے تھے۔

 جب وہ اورینٹل کالج کے ہاسٹل میں بطور ہاسٹل وارڈن کی نوکری کرتے تھے ۔ان دنوں ہاسٹل کی تعمیر کی وجہ سے ہاسٹل کی رہائش کو بادشاہی مسجد کے باہربنے حجروں میں منتقل کیا گیا تھا ۔

 لاہور میںاقبالؒ کی زندگی کا بیشتر حصہ کرائے کے مکانوں میں گزرا ۔ان کی خواہش تھی کہ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو چھت مہیا کر جائیں، جنوری1934 ء میں جن دنوں آپ میکلوڈ روڈ کی کوٹھی میں مقیم تھے ، معلوم ہوا کہ میو روڈ (موضع گڑھی شاہو ) میں ریلوے کی اراضی نیلام ہو رہی ہے۔ جگہ کی موزینت دیکھتے ہوئے علامہ صاحب نے جگہ کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

 23 جنوری 1934 ء کو نزول لینڈ آفیسر پنڈت کرتا کشن کی موجودگی میں ہونے والی نیلامی میں سب سے بڑ ی بولی علامہ اقبالؒ کے بیٹے جاوید اقبال کے نام سے لگائی گئی جسے ضابطے کی کارروائی کے بعد منظور کر لیا گیا ۔اس جگہ کی کل قیمت 25025 روپے بنتی تھی جو علامہ نے ادا کی۔ 18 دسمبر 1934 ء کو لاہور میونسپلٹی کی جانب سے علامہ اقبالؒ کو اجازت دی گئی کہ اس پلاٹ پر وہ اپنا گھر تعمیر کر لیں۔علامہ کے اپنے ہاتھ سے لکھے گئے وثیقے کے مطابق اس پلاٹ کا رقبہ متوازی سات کنال ہے۔ ضروری خط و کتابت کی تکمیل کے بعد جب زمین کا داخل خارج علامہ کے بیٹے جاوید اقبال کے نام ہو گیا تو یہاں مکان کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہو ا جسے جلد مکمل کر لیا گیا ۔کوٹھی کی تعمیر کیلئے علامہ کی اہلیہ سردار بیگم نے 4000 ہزار روپے اور علامہ نے 1700 روپے خرچ کئے۔ اس طرح علامہ کے ذاتی گھر کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس مکان کی تعمیر میں علامہ کی بیگم کی پس انداز کی ہوئی رقم اور زیوارات بھی کام آئے۔کوٹھی کی تعمیر پر کُل 16000 ہزار روپے خرچ ہوئے ،اس طرح ٹوٹل 42025 روپے کی لاگت سے جاوید منزل تیار ہوئی۔

 علامہ کی اہلیہ نے یہ جائیداد اپنے بیٹے جاوید اقبال کے نام ہبہ کر دی اور علامہ اقبال ؒ کو جاوید اقبال کے بالغ ہونے تک بحیثیت ولی اور کرایہ  دار مقرر رکھا۔  علامہ اقبالؒ نے اپنے پہلے ذاتی گھر کا نام اپنے بیٹے کے نام سے جاوید منزل رکھا اور مئی 1935 ء میں اس گھر میں منتقل ہو گئے ،دس سالہ جاوید اقبال اور سات سالہ منیرہ اقبال اپنے والدین اور اپنے قدیمی خادم علی بخش کے ہمراہ یہاں قیام پذ یر ہوئے ۔علامہ کی اہلیہ کا خواب تھا کہ اپنا ذاتی گھر ہو مگر جب یہاں آئیں تو شدید بیمار تھیں یہاں تک کہ اپنا نو تعمیر شدہ گھر چل پھر کر دیکھ بھی نہ پائیں۔  چند ہی روز بعد اُن کا انتقال ہو گیا ۔ یوں اس گھر میں آنے کے بعدعلامہ کو ایک بڑا صدمہ دیکھنا پڑا۔دو معصوم بچوں کی پرورش بہت بڑا مسئلہ تھا، علامہ وکالت ترک کر کے زیادہ وقت گھر  پررہنے لگے ۔ایک جرمن خاتون مسز ڈورس کی خدمات حاصل کرنے کے بعد علامہ کی باقی زندگی ایک راہ پر متوازن ہوئی۔ جاوید منزل سے اقبال کی یہ رفاقت آخری دم تک قائم رہی۔ اس عرصے میں علامہ کے پاس جتنے بھی سیاسی اور غیر سیاسی لوگ ملنے کو آتے وہ علامہ صاحب سے یہیں پر ملاقات کرتے۔ یہ گھرشعراء و ادباء کا مرکز بنا رہتا۔علامہ اقبال نے اسی گھر میں 21 اپریل 1938 ء کو صبح فجر کے وقت وفات پائی۔ نماز جنازہ پہلے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، پھر بادشاہی مسجد میں پڑھانے کے بعد مسجد کے دروازے کے باہر آپ کی تدفین ہوئی۔ علامہ اقبالؒ کی وفات کے بعد بھی ان کا کنبہ 38 سال تک اس گھر میں مقیم رہا ۔اقبالؒ کے بچوں کی اتالیق مسز ڈورس منیرہ اقبال کی شادی ہو جانے کے بعد واپس جرمنی چلی گئیں۔

1977 ء میں جب علامہ اقبالؒ کا سو سالہ جشن ولادت منایا جا رہا تھا ۔اقبال منزل سیالکوٹ اور جاوید منزل لاہور کو محفوظ کرنے کی ٖغرض سے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ۔صدر ضیاء الحق نے 9 نومبر 1977ء کو مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھا کر جشن کی تقریبات کا آغاز کیا، اس موقع پر جاوید منزل کو علامہ اقبالؒ کی آخری یادگار کے طور پر اقبال میوزیم میںتبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا ۔     چنانچہ عمارت کی قیمت ادا کر کے اسے مکینوں سے خالی کرا دیا گیا۔ اس کے بعد یہاں میوزیم کی تعمیر کا آغاز کیا ۔اس کام کیلئے کراچی میوزیم کے تکنیکی ماہر قمر الدین اور شاہی قلعے کے کسٹوڈین کی نگرانی میں عمارت کی ضروری مرمت کروا کہ اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ۔نو کمروں کے اس میوزیم میں نمائش میں رکھنے کیلئے علامہ کی یادگاری اشیا جمع کی گئیں جو خاندان کے مختلف افراد اور احباب کے پاس تھیں۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس میوزیم کیلئے علامہ کی تین سو یادگاری اشیاء ہدیہ کیں جوکہ علامہ کے استعمال میں رہی تھیں۔ اس میں علامہ کی جانب سے والدہ کی قبر کیلئے خریدی جانے والی زمین کی رجسٹری بھی شامل تھی ۔جاوید منزل کی خریداری کی دستاویزات منیرہ اقبال کے بیٹے یوسف صلاح الدین کے پاس تھیں جو انھوں نے اقبال میوزیم کو ہدیہ کیں ۔اس میوزیم کے قیام کے سلسلے میں جاپان کے ثقافتی فنڈ نے 54 لاکھ روپے کی رقم امداد میں دی جس سے یہ سارا کام انجام کو پہنچا۔

اقبال میوزیم کا افتتاح 26 ستمبر  1977 ء کو صدر جنرل ضیاء الحق نے کیا۔علامہ اقبالؒ کی یہ آخری یادگار لاہور میں ریلوے اسٹیشن سے آتے ہوئے میو روڈ موجودہ علامہ اقبال روڈ پر ریلوے ہیڈ کورٹر کے سامنے واقع ہے۔ہر روز اس سڑک سے گزرنے والے ہزاروں لوگوں میں سے بہت کم لوگ اس مقام اور اس کی اہمیت کے بارے میں جانتے ہیں۔ یہ گھر جہاں علامہ اقبال ؒکی زندگی کے لمحات گزرے ہمیں علامہ کی تاریخ اور ان کی شخصیت سے روشناس کروانے کا بہترین جگہ ہے۔نو گیلریوں پر مشتمل اقبال میوزیم حیات اقبالؒ کا امین ہے ۔اقبال میوزیم میں یا جاوید منزل میں داخلے کیلئے بغلی راستہ ہے، یہیں سے پہلی گیلری شروع ہوتی ہے ۔اندر داخل ہو ں توں سب سے پہلے علامہ کے استعمال میں رہنے والے قالین نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ خود بھی قالینوں کے بہت شوقین تھے مگر خود کم ہی کوئی قالین خریدا، اس وقت گیارہ قالین محفوظ کئے گئے ہیں۔ان میں سے دو قالین افغان بادشاہ نے بطور تحفہ دیے، ایک قالین ترکی اور ایک ایران سے تحفے میں آیا تھا  جسے دیواروں پر آویزاں کیا گیا ہے ۔

دوسری گیلری میں علامہ اقبال کا تعلیمی ریکارڈ رکھا گیا ہے ۔ اقبالؒ کا تعلیمی ریکارڈ بہت اچھا تھا۔ ان کی یہ تمام ڈگریاں اور اسناد دیکھی جا سکتی ہے۔ تیسری گیلری میں علامہ اقبالؒ کے خطوط محفوظ کئے گئے ہیں۔یہ وہ خطوط ہیں جوعلامہ صاحب نے مولوی محمد دین فوق ،نواب یار جنگ، مولانا غلام رسول مہر ،صوفی تبسم ،مولانا ظفر علی خان اورمولوی عبد الحق کو لکھے تھے۔چوتھی گیلری میں علامہ اقبالؒ کی کتب کے اصل مسودے اور بعض کتابوں کے اوّلین ایڈیشن رکھے گئے ہیں۔ان میں بالِ جبریل ،پیام مشرق ،جاوید نامہ ،ارمغان حجاز ،پس چہ باید کرد اوراسرارِ خودی کے اصل مسودات رکھے ہیں۔ان مسودات میں علامہ کا وہ کلام بھی شامل ہے جوکہ مطبوعہ حالت میں دستیاب نہیں ہے ۔اس کلام کو علامہ نے خود اپنے قلم سے حذف کر دیا تھا۔ کلام اقبال کے محققین کیلئے یہ گیلری خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

پانچویں گیلری میں پلاسٹر آف پیرس کے بنے تین ماڈل (اقبال منزل سیالکوٹ ،مشن کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور ) رکھے ہوئے ہیں جسے کراچی کے ایک آرٹسٹ صغیر احمد نے تیار کیا۔ چھٹی گیلری میں علامہ صاحب کے ملبوسات اور استعمال کی اشیاء بڑے سلیقے سے رکھی گئی ہیں۔علامہ اقبال مختلف مواقع کی مناسبت سے لباس پہنا کرتے تھے گھر میں عموما ًبنیان اور تہمندمیں ہوتے تھے ،تھری پیس سوٹ بھی پہن لیتے تھے مگر تقریبات میں انہیں شیروانی اور ترکی ٹوپی میں جانا پسند تھا ۔یہ سب ملبوسات اس میوزیم میں محفوظ ہیںجو کہ حضر ت اقبال کی سادہ زندگی پر دلالت کرتے ہیں۔میوزیم کی ساتویں گیلری سے نویں گیلری اقبال منزل کے رہائشی کمروں پر مشتمل ہے ۔ کار پورچ کے سامنے ہی تینوں کمرے اقبالؒ کے استعمال میں تھے۔ ان میں سب سے اہم خواب گاہ ہے جہاں اقبال کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔

 ایک دلچسپ بات یہ کہ علامہ نے جہاں ساری زندگی کرایے کے مکانوں میں گزاری۔ جاوید منزل میں آنے کے بعد بھی یہاں اپنے زیر استعمال کمروں کا کرایہ بنام جاوید اقبال دیتے تھے۔ کرایہ دینے کی تاریخ 20 مقرر تھی،اپنی وفات سے ایک روز پہلے ہی گھر کا کرایہ ادا کر چکے تھے ۔ علامہ کی خواب گاہ کو ویسا ہی رکھا گیا ہے جیسا وہ ان کی زندگی میں تھی ۔ یہاں علامہ کے استعمال کی چیزیں ادویات، کتابیں، لیمپ، حقہ، تکیہ، شیونگ کا سامان،قلمدان ،جوتے اور روزمرہ کی دوسری چیزیں بھی رکھی ہیں۔علامہ کے سرہانے آبنوسی الماری رکھی ہوئی تھی جو اَب بھی اسی جگہ موجود ہے۔ الماری میں علامہ کے زیر مطالعہ رہنے والی کتابیں ہیں جن میں قرآن پاک کا وہ نسخہ بھی شامل ہے جو اکثر اقبال کے زیر مطالعہ رہتا تھا۔ یہیں کھانے کا کمرہ ہے جس کے پہلو میں باورچی خانہ ہے ۔کمرے کے درمیان میں بیضوی شکل کی کھانے کی میز رکھی ہے ۔ڈرائنگ روم بھی سادگی کے باوجود نفاست کا نمونہ ہے۔ علامہ کے زیر تصرف رہنے والا یہ گھر نہ صرف ایک میوزیم ہے بلکہ جاوید منزل میں حیات اقبال کے کئی اہم راز پوشیدہ ہیں۔

شام و فلسطین

رندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت 

پُر ہے مئے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا 

ہے خاکِ فلسطیں پہ  یہودی کا اگر حق 

ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا 

مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور 

قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا 

فلسطینی عرب سے

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ

میں جانتا ہوں وہ آتش تیرے وجودمیں ہے

تِری دَوَا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے

سنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات

خودی کی پرورش و لَذتِ نمُود میں ہے

  دامِ تہذیب

جلتاہے مگر شام و فلسطیں پہ میرا دِل

تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہِ دْشوار

ترکانِ ’’جفاپیشہ‘ ‘کے پنجے سے نکل کر

بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار

شمع اور شاعر

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش 

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی 

اس قدر ہوگی ترنم آفریں بادِ بہار 

نگہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی 

آ ملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک 

بزمِ گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی 

شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز 

اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی 

دیکھ لو گے سطوتِ رفتارِ دریا کا مآل 

موجِ مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی 

پھر دِلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود 

پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی 

نالہ صیاد سے ہوں گے نوا سامان طیور 

خونِ گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی 

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں 

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی 

شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے 

یہ چمن معمور ہو گا نغمہِ توحید سے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

یادرفتگاں: علامہ نیازفتح پوری کی ذہنی و فکری وسعت

وہ ایک جدید صوفی کے روپ میں نظر آتے ہیںجس نے اسلام کی رُوح تلاش کرنے کی دیانتداری کیساتھ کوشش کی ادب کی مختلف اصناف پر طبع آزمائی کرکے انہوں نے ہر پہلو کو سجایا اوراپنے آ پ کو کسی ایک خاص صنف کا پابند نہیں کیا

تنقید اور کہانی کی منطق

کہانی کا خاتمہ یا انجام قابل قبول بھی اور موثر ہونا چاہئے ،بڑی بات یہ ہے کہ وہ دلوں میں اپنے سنج ہونے کا یقین پیدا کر سکے کہانی کی منطق ہر موقع اور محل پر ضرورت اور اہمیت کے پیش نظر نئی صورتیں اختیار کرتی ہے

پاکستان کا مشن ورلڈ کپ!

آئی سی سی مینز ٹی 20ورلڈکپ شروع ہونے میں صرف 13روز باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف چار میچز پر مشتمل انٹرنیشنل ٹی 20 سیریز بھی کھیلنی ہے۔ امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں مشن ورلڈکپ سے قبل گرین شرٹس کو 3 انٹرنیشنل سیریز کھیلنے کا موقع ملا، ہوم گرائونڈ پر نیوزی لینڈ کیخلاف پانچ میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز کھیلی۔

بہادر گلفام اور مون پری

گلفام کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔وہ بہت ہی رحمدل اور بہادر لڑکا تھا اور ہمہ وقت دوسروں کی مدد کرنے کیلئے تیار رہتا تھا۔

چھپائی کی ایجاد

چھپائی کی ایجاد سے پہلے کتابیں ایک بہت ہی بیش قیمت اور کم نظر آنے والی شے تھیں۔تب کتاب کو ہاتھوں سے لکھا جاتا تھا اور ایک کتاب کو مکمل کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے،لیکن آج چھپائی کی مدد سے ہم صرف چند گھنٹوں میں ہزاروں کتابیں چھاپ سکتے ہیں۔

ذرامسکرائیے

پولیس’’ تمہیں کل صبح پانچ بجے پھانسی دی جائے گی‘‘ سردار: ’’ہا… ہا… ہا… ہا…‘‘ پولیس: ’’ ہنس کیوں رہے ہو‘‘؟سردار : ’’ میں تو اٹھتا ہی صبح نو بجے ہوں‘‘۔٭٭٭