اردوشعریات میں خیال بندی

تحریر : نیئر مسعود


معنی آفرینی اور نازک خیالی کی طرح خیال بندی کی بھی جامع و مانع تعریف ہماری شعریات میں شاید موجود نہیں ہے اور ان تینوں اصطلاحوں میں کوئی واضح امتیاز نہیں کیا گیا ہے۔ مثلاً آزاد، ناسخ کے کلام پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فارسی میں بھی جلال امیر، قاسم مشہدی، بیدل اور ناصر علی وغیرہ استاد ہو گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نازک خیالوں کی بدولت خیال بند اور معنی یاب لقب حاصل کیا ہے‘‘۔یہاں نازک خیالی، خیال بندی اور معنی آفرینی کو تقریباً ایک قرار دیا گیا ہے لیکن نازک خیالی کی تنقیص میں آزاد کا جو بیان اس سے پہلے دیا گیا اس کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے خیال بندی کی ایک عمدہ تعریف کردی ہے: لکھتے ہیں:

’’ان خیالی رنگینیوں اور فرضی لطافتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو باتیں بدیہی ہیں اور محسوسات بھی عیاں ہیں، ہماری تشبیہوں اور استعاروں کے پیچ در پیچ خیالوں میں آکر وہ بھی عالم تصور میں جا پڑتی ہیں‘‘۔

مولوی عبدالرحمن نے ’’ مرآۃ الشعر‘‘ میں خیال بندی کی وضاحت اس طرح کی ہے۔

’’کبھی خیال عالم حقیقت کی سیر سے سیر ہو کر ذہن کی موجودہ صورتوں میں اپنی طرف سے نئی ترکیب و ترتیب شروع کردیتا ہے، کسی کا سر لیتا ہے اور کسی کا پائوں اور ایک نئی مخلوق بنا کر کھڑی کر دیتا ہے اور ایسی ایسی صورتیں سامنے لاتا ہے جو نہ آنکھوں نے دیکھی ہوں نہ کانوں نے سنی۔ اسی طلسم کاری کو دیکھ کر شعر تخیلی کہلاتا ہے اور یہی وہ شاعری ہے جسے خیال بندانہ اور تخیلانہ کہتے ہیں‘‘۔

حقیقت کا بالواسطہ اظہار شاعری کا خاص وصف ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ جس واسطے کی مدد سے حقیقت کو ظاہر کیا جاتا ہے اگر مبینہ حقیقت سے اس کا تعلق بہت نازک ہو تو شعر میں نازک خیالی کا وصف پیدا ہو جاتا ہے، اگر اس واسطے ہی کو شعر کے اصل موضوع کی طرح برتا جائے اور متعلقہ بنیادی حقیقت کی حیثیت ضمنی یا صفر رہ جائے تو شعر خیال بندی کے ذیل میں آ جائے گا۔ وضاحت کیلئے چند شعروں پر غور کیا جائے!

چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرواز ہے

سرمہ تُو کہوے کہ دودِ شعلۂ آواز ہے

(غالب)

شعر کی بنیاد اس بات پر ہے کہ حسینوں کی آنکھیں بولتی ہیں، ظاہر ہے کہ آنکھوں کا بولنا حقیقت نہیں محض ہمارا ایک خیال ہے، پہلے مصرع میں اس خیال کو ایک حقیقت کے طور پربیان کر دیا گیا۔ دوسرے مصرع میں آواز کو شعلہ قرار دیا گیا۔ شعلے کے ساتھ دھویں کا بھی خیال آتا ہے۔ آنکھوں کی آواز کے شعلے کے ساتھ سرمے کا وہی ربط ہے جو عام شعلے کے ساتھ دھویں کا ہوتا ہے۔ دھویں سے شعلہ چھپ جاتا ہے اور دکھائی نہیں دیتا۔ سرمہ کھانے سے آواز بیٹھ جاتی ہے اور سنائی نہیں دیتی۔ سرمہ چشم خوباں کے شعلہ آواز کا دھواں ہے۔ یعنی اگر چشم خوباں کی نوا پردازی ہم کو سنائی نہیں دیتی، تو اس کا سبب یہ ہے کہ چشم خوباں سرمہ آلود ہے اور سرمے نے اس کی آواز دبا دی ہے۔ یہ انتہائی درجے کی معنی آفرینی اور نازک خیالی تو ہے ہی لیکن شعر کا سارا زور اس خیال کے تلازموں پر ہے کہ حسینوں کی آنکھ بولتی ہے، چنانچہ سرمہ، آواز، شعلہ، دور اس شعر میں اصل موضوع کی طرح ہوتے جا رہے ہیںحالانکہ شعر کا اصل موضوع ( آنکھ کا نوا پرداز ہونا) بھی خیالی ہے۔ اس طرح یہ شعر خیال بندی کی عمدہ مثال ہو گیا۔ اس خیال بندی کو اپنے شعری ذوق کے تحت اچھا یا برُا کہا جا سکتا ہے لیکن نثری استدلال کی روشنی میں اسے پرکھنا شاعری کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ مثلاً اسی شعر کو نثری استدلال کی روشنی میں دیکھیں تو نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ اگر خوبان سرمہ لگانا چھوڑ دیں تو ان کی آنکھوں کی آواز واقعی سنائی دینے لگے۔

اس شعر کے باطن میں ایک بدیہی اور مسلمہ حقیقت کام کر رہی ہے، وہ یہ کہ انسان کی آنکھیں قوت ناطقہ سے محروم ہونے کے باوجود جذبات اور تاثرات کا اظہار اس طرح کر دیتی ہیں جس طرح آواز اور الفاظ کرتے ہیں، لیکن شاعر نے اس حقیقت کا راست اظہار نہیں کیا ۔اس طرح اس شعر پر آزاد کا یہ قول صادق آ جاتا ہے کہ خیال بندی کے نتیجہ میں’ ’ جو باتیں بدیہی ہیں… وہ بھی عالم تصور میں جا پڑتی ہیں‘‘۔اسی غزل کا ایک اور مطلع ہے:

پیکرِ عشاق سازِ طالع ناساز ہے

نالہ گویا گردشِ سیارہ کی آواز ہے

شعر کی بنیاد اس بات پر ہے کہ عاشقوں کا مقدر بُرا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس خیال میں بدلی کہ عاشقوں کا ستارہ گردش میں رہتا ہے اور اس خیال کی بنیاد پر پورا شعر قائم کیا گیا ہے۔ قسمت کا ناساز گار ستارہ عشاق کے وجود پر متصرف ہے۔ عشاق نالہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ وہ آواز ہ جو کسی چیز کے بہت تیزی کے ساتھ گھومنے سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ چیز عشاق کی قسمت کا ستارہ ہے جو پوری رفتار سے گردش میں ہے۔ یہاں بھی شعر کے باطن میں (شعریات کی حد تک سہی) ایک مسلمہ حقیقت کار فرما ہے کہ عاشقوں کی قسمت خراب ہوتی ہے، لیکن شعر کی تعمیر اس حقیقت کے اس خیال روپ پر ہوتی ہے کہ عاشقوں کا ستارہ گردش میں رہتا ہے۔

غالب ہی کا ایک اور شعر ہے:

خیالِ سادگی ہائے تصور نقشِ حیرت ہے

پر عنقا پہ رنگِ رفتہ سے کھینچی ہیں تصویریں

موضوع وہ نادر کیفیت ہے جب تصور میں کچھ نہیں ہوتا اور ذہن ایک سادہ ورق کی طرح محسوس ہوتا ہے، بلکہ خود ذہن کا وجود غیر محسوس ہو جاتا ہے۔ عالم حیرت میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ نہ کوئی جذبہ باقی رہتا ہے، نہ ردعمل ، نہ تاثر، نہ خیال، اس لئے حیرت کی تصویر (نقشِ حیرت) میں کچھ نہیں بنایا جا سکتا۔ شاید تصور میں کچھ نہ ہونے کا تصور کرتا ہے تو اس کے سامنے حیرت کی تصویر آتی ہے جس میں کچھ نہیں ہے، اس کیفیت میں اس کا خیال پرعنقا پراس رنگ سے جو نہیں ہے (رنگِ رفتہ) تصویریں بنا رہا ہے یعنی جس چیز پر تصویریں بنائی جا رہی ہیں وہ بھی معدوم ہے، (پرعنقا) جس چیز سے بنائی جا رہی ہیں وہ بھی معدوم ہے ( رنگ رفتہ)اور جس چیز کی تصویریں بنائی جا رہی ہیں وہ بھی کچھ نہیں ہے(سادگی ہائے تصور) اگر خیال بندی کی تنقیص مقصود ہو تو اس شعر سے بہتر الفاظ نہیں ملیں گے، اگر خیال بندی کی توضیح کرنا ہو تو بھی اور اگر خیال بندی کا نمونہ مطلوب ہو تو بھی اس سے مناسب تر شعر نہیں ملے گا۔

خیال بندی شعر کا مشکل ترین اور پیچیدہ ترین عمل ہے، تذکروں میں کئی اردو شاعروں کو خیال بند کہا گیا ہے، لیکن ان کا نمونہ کلام اس کی تائید نہیں کرتا یا بہت کم زور تائید کرتا ہے، درحقیقت خیال بند شاعر اردو میں غالب سے بڑا کوئی نہیں گزرا ہے۔ غالب کے یہاں خیال بندی کی پیچیدہ سے پیچیدہ مثالیں تو ملتی ہیں لیکن سہل ممتنع میں خیال بندی کی مثال بھی غالب ہی کے یہاں ملتی ہے، مندرجہ ذیل شعر سادگی کے ساتھ خیال بندی کا نمونہ ہے۔ اتفاق سے اس میں بھی مندرجہ بالا شعر کی طرح خیال کا لفظ موجود ہے اور اس شعر کی طرح اس شعر کا موضوع بھی خیال بندی ہی قرار پاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

T-20 کرکٹ کا سنسنی خیز فارمیٹ

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ 2024ء کے آغاز میں 6 روز باقی رہ گئے،انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یکم جون2024ء سے کیریبین اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مردوں کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے نویں ایڈیشن کی میزبانی کر رہی ہے۔ٹی 20، کرکٹ کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز فارمیٹ ہے، قارئین کیلئے ٹی 20ورلڈکپ کی مختصر تاریخ پیش خدمت ہے۔

بھیڑ اور بھیڑیا

بھیڑیا اپنے گھر میں بیٹھا آرام کر رہا تھا جب اسے باہر سے اونچی ،اونچی آوازیں آئیں۔پہلے تو وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا لیکن جب شور مسلسل بڑھنے لگا تو اس نے سوچا باہر نکل کر دیکھناتو چاہیے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔گھر سے باہر جا کر دیکھا تو سامنے 2 بھیڑیں کھڑی آپس میں لڑ رہی تھیں۔

سچی توبہ

خالد بہت شرارتی بچہ تھا۔ سکول اور محلے کا ہر چھوٹا بڑا اس کی شرارتوں سے تنگ تھا۔ وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا رہتا ، امی ابو اسے سمجھاتے مگر خالد باز نہ آتا۔

ذرامسکرائیے

اُستاد(شاگرد سے) انڈے اور ڈنڈے میں کیا فرق ہے؟ شاگرد: ’’کوئی فرق نہیں‘‘۔ اُستاد: ’’وہ کیسے‘‘؟شاگرد: ’’دونوں ہی کھانے کی چیزیں ہیں‘‘۔٭٭٭٭

پہیلیاں

مٹی سے نکلی اک گوری سر پر لیے پتوں کی بوری جواب :مولی٭٭٭٭

ادائیگی حقوق پڑوسی ایمان کا حصہ

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک۔ اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق ملتے ہیں، اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں۔