اپنے چہرے کی حفاظت کیجئے

تحریر : تحریم نیازی


موسم میں تبدیلی، فضائی آلودگی اور مضر صحت غذائوں کے منفی اثرات سب سے پہلے چہرے پر آتے ہیں جس کے نتیجے میں چہرے پر دانے، ایکنی، کیل مہاسے اور اُن کے سبب بد نما داغ دھبے بننے لگتے ہیں جن سے نہایت آسانی اور بغیر بھاری بھرکم رقم خرچ کیے جان چھڑائی جا سکتی ہے۔

ملتانی مٹی کا قدیم زمانے سے استعمال چلا آرہا ہے، خواتین چہرے کی خوبصوتی بڑھانے کیلئے اس کا استعال اپنے چہرے سمیت بالوں پر بھی کرتی ہیں جس کے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ملتانی مٹی تقریباً ہر قسم کی جلد اور جلد سے جڑی متعدد بیماریوں کا موزوں علاج ہے۔اگر اسے دوسرے اجزاء کے ساتھ ملا کر لگایا جائے تو اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور چہرے کی خوبصورتی میں ناصرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے استعمال سے دیر پا جِلدی بیماریوں سے بھی دور رہا جا سکتا ہے، یہ ناصرف جلد بلکہ سر کے بالوں کی صفائی اور سر کی جلد کی صحت کیلئے بھی نہایت مفید ہے۔ملتانی مٹی کے فوائد بڑھانے کیلئے اس میں ایلوویرا جیل، روغن بادام، عرق گلاب، شہد، انڈے کی سفیدی، دودھ، لیموں کا عرق، کینو کے چھلکوں کا پاؤڈر اور بیسن وغیرہ شامل کیا جا سکتا ہے۔

 ملتانی مٹی میں ان اجزاء کے استعمال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ بالوں کی خوبصورتی اور سر کی جلد سے چکناہٹ کے خاتمے کیلئے ملتانی مٹی میں عرق گلاب اور لیموں کا رس ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے اور بعد ازاں جیسے سر سے مہندی دھوئی جاتی ہے ایسے ہی ملتانی مٹی بھی با آسانی دھل جاتی ہے۔ملتانی مٹی کی افادیت اب سائنس نے بھی مان لی ہے اسی لیے مختلف کاسمیٹک برانڈ کی بھی اب ملتانی مٹی سے تیار شدہ پراڈکٹس یا مَڈ ماسک کے نام سے مختلف ماسک مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں۔ملتانی مٹی سے بنایا گیا ماسک چہرے پر لگانے سے قبل چہرے کی جلد کا صاف اور دھلا ہوا ہونا لازمی ہے، اسی لیے اگر ممکن ہو تو ملتانی مٹی کا ماسک لگانے سے قبل چہرے پر 5 سے 7 منٹ کیلئے کسی مائلڈ کلینزنگ سے مساج کرنا مفید ثابت ہوتا ہے، ملتانی مٹی کا ماسک دھونے کے بعد چہرے کی جلد یا بالوں کو موسچرائز بھی کرنا چاہیے تاکہ اس کی افادیت بڑھ جائے۔

خشک جلد کیلئے ملتانی مٹی، کچا دودھ، چند قطرے زیتون کا تیل، صندل کی لکڑی کا پائوڈر اور کینو کے خشک چھلکوں کا پائوڈر حسب ضرورت لے لیں۔ اب ان سب اجزا ء کو کانچ کے برتن میں عرق گلاب کی مدد سے مکس کر لیں اور 20 سے 25 منٹ کیلئے چہرے پر لگا لیں۔نارمل جلد کیلئے کھیرے کا رس یا گاجر کا جوس لے لیں، ملتانی مٹی، صندل لکڑی کا برادہ، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف، ان سب اجزا ء کو مکس کر لیں اور چہرے پر لگا لیں۔چکنی جلد سے اضافی چکناہٹ اور کیل مہاسوں کے خاتمے کیلئے ایلوویرا یا لیموں کا عرق ( عرق گلاب بھی لیا جا سکتا ہے )، ملتانی مٹی، انڈے کی سفیدی، صندل لکڑی کا برادہ، کینو کے خشک چھلکوں کا سفوف لے لیں، ان سب اجزا ء کو یک جان ملائیں اور چہرے پر لگا لیں اور 20 سے 25 منٹ کیلئے سکون سے لیٹ جائیں، جلد کو پر سکون وقت دیں، سوکھنے پر چہرہ دھو لیں۔ جھریوں والی جِلد کو ٹائٹ کرنے کیلئے انڈے کی سفیدی، پھٹکری کا پاؤڈر، روغن بادام ، عرق گلاب، ملتانی مٹی، صندل کی لکڑی کا پائوڈر اور کینو کے چھلکوں کا سفوف یک جان ملائیں اور چہرے پر لگا لیں۔سوکھنے پر اس ماسک کو پانی کی مدد سے گیلا کریں اور چہرے پر ہلکے ہاتھ سے مساج کرتے ہوئے اتار لیں۔ملتانی مٹی کا ماسک چہرے کیلئے بہترین سکرب بھی ثابت ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آغا حشر کاشمیری اُردو کے بلند پایہ ڈرامہ نگار

اُردوکے شیکسپیئر کی آ ج91ویں برسی: یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے

کلامِ غالب کی معنویت

مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔