مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی ناکامی

تحریر : محمد صغیرقمر


پھر پانچ فروری آیا،پھراہل کشمیر کی یاد آئی اورکچھ روز بعد ان سوختہ جانوں کو ہم بھول کر غم روز گار میں لگ جائیں گے۔انسانی آزادیوں کے اس دور میں مسلم دنیا کی دو ریاستیں فلسطین اور کشمیر عالمی استعمار کی پشت پناہی کی وجہ ظالم کے پنجے تلے کراہ رہے ہیں۔

 امت مسلمہ کے یہ دونوں مسائل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔دونوں تنازعات کی شروعات 1947ء سے ہوئی تھی۔اقوام متحدہ نے 1948ء میں فلسطین اور کشمیر دونوں کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا اور سچ یہ ہے کہ اقوام متحدہ آج تک مسلمانوں کا کوئی بھی مسئلہ حل کرانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔دنیا کی غالب اقوام کے تما م مسائل حل کرنے میں اقوام متحدہ کے ساتھ یورپی اقوام کھڑی ہو جاتی ہیں لیکن مسلم دنیاکا کوئی بھی مسئلہ ہو، اپنے ساتھ دیتے ہیں نہ اقوام متحدہ نہ اقوام عالم۔ فلسطینی اپنی ریاست بحال نہیں کر ا سکے تو کشمیریوں کو بھی اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والے استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ 

عالمی ادارے اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطین اور کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکامی کی وجہ سے دونوں مغربی اور جنوبی ایشیائی خطے فوجی تنازعات کی صورت میں عدم استحکام کا شکار ہوئے ہیں۔لاکھوں مرد و خواتین، نوجوان اور بچے اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے، کروڑوں زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ جب کہ شہری انفراسٹرکچر اور لوگوں کی زندگیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا حساب لگانا مشکل ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ناکامی دونوں خطوں میں موت اور بربادی لارہی ہے۔اس بربادی کے مناظر چہار جانب پھیلے ہوئے ہیں۔فلسطین اور کشمیر کے لوگ اگر اپنے اپنے خطے پرناجائز قبضوں کے خلاف مسلح مزاحمت کرتے ہیں تو یہ حق  ان کو اقوام متحدہ کا چارٹر دیتا ہے۔ انہیں بین الاقوامی قانون نے بھی یہ حق دے رکھا ہے کہ وہ غیر ملکی سامراج کیخلاف جدوجہد کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ان دونوں خطوں کے عوام کا نہ صرف قتل عام کیا جارہا ہے بلکہ ان کی بستیوں کو ملیا میٹ کیا جارہا ہے۔

ہندوستان کو آزادی نوآبادیات کے خاتمے کی وجہ سے ملی، لیکن کسے معلوم تھا کہ یہی بھارت آگے چل کر کشمیر میں استعمار کا روپ دھارلے گا۔ بھارت نے پون صدی تک یہی استعماری رول ادا کیا۔اس ملک میں موجود اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس پر۔اس عرصے میں اسرائیل کی پشت پناہی میں بھارت خود ’اسرائیل‘بن گیا۔ جس طرح پوری دنیا میں یہودیوں کو ایک ہی ریاست میسر آئی ہے اسی طرح ہندوؤں کو بھی ایک ہی ریاست نصیب ہوئی۔ دونوں استعماری ملک بنے اوراپنے اپنے فرسودہ مذاہب کو بچانے کے لیے وہ ہر حد پار کر گئے۔دنیا جانتی ہے کہ بھارت اوراسرائیل کا گٹھ جوڑ ایک حقیقت ہے، دونوں مشترکہ اقتصادی اور فوجی پالیسیوں اور ہتھکنڈوں کو خاص طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔

جموں کشمیر میں گو بھارت کا ستم عام ہے،انسانوں کی آزادیاں چھن گئی ہیں لیکن امید کی چنگاری باقی ہے۔ لاکھ روک کر رکھا جائے،شہیدوں کا خون رنگ لاکر رہتا ہے۔ بھارتی استعمار کشمیریوں کو پاکستان سے کاٹنے کے لیے جھوٹ کا سہارالے کر ریاست جموں کشمیرمیں ایک ایسے انتشار کو جنم دے رہے ہیں جس سے یہاں خانہ جنگی کے ماحول کا تاثررقائم کیا جارہا ہے۔کچھ عناصر غیر ملکی ایجنڈے کو نہ صرف سپورٹ کر رہے ہیں بلکہ کشمیر یوں کی حقیقی جدوجہد کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں۔

موجودہ حالات میں آزاد کشمیر میں جو نظریاتی اور سیاسی انتشار کی کوششیں ہو رہی ہیں اور نوجوان نسل کو نظریاتی اعتبار سے کنفیوز کیا جا رہا ہے، بیس کیمپ کی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کومتحد اور منظم کریں،ان کے مسائل کی طرف توجہ دیں۔ایسی ہر سازش کا سد باب ابھی ہو جانا چاہیے جس سے بیس کیمپ کی نوجوان نسل کو انتشار کا شکارکیا جارہا ہے۔آزادکشمیر کے نوجوانوں کو مایوسی سے بچانے کیلئے ایک بھرپور پلاننگ کی ضرورت ہے۔یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان کے چار صوبے اس قدر ترقی یافتہ نہیں ہیں جتنا آزادکشمیر۔کشمیری ہر لحاظ سے پاکستان کے عام شہری سے آگے ہیں۔اس کے باوجود کچھ لوگ بھارت کیلئے سہولت پیدا کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس نہ وژن ہے نہ سوچ اور نہ ہی روڈ میپ۔چند جذباتی اور نیم خواندہ چھوٹا سا جتھہ پڑھے لکھے نوجوانوں کویرغمال بنا کریہ ثابت کرنا چاہتاہے کہ کشمیریوں کیلئے پاکستان کی بجائے بھارت کا سیکولرزم بہتر ہے۔ اس بیانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ حریت پسند نوجوان ریاست کی آزادی کی بات نہ کریں اوربھارت ریاست جموں کشمیر پر اپنا قبضہ مستقل کر لے۔پانچ لاکھ شہیدوں کی قربانی کے بعد اب ایسا کو بیانیہ کارگر نہیں ہو سکتا۔یہ محض پاکستان سے فطری تعلق کو ختم کرنے  کی طرف فضول مشق ہے جسے اہل کشمیر نے کبھی قبول کیا ہے نہ کریں گے البتہ مقتدرحلقوں کو اب ان روٹین کے کاموں سے نکل کر کشمیر کی آزادی کیلئے عملی کام کرنا ہوگا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔