مہاجرین کی نشستوں پر لایعنی بحث

تحریر : محمد اسلم میر


آزاد جموں و کشمیر کے پانچ وزرا، ڈپٹی سپیکر اور عوامی ایکشن کمیٹی اس وقت آنے سامنے آگئے جب عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر سے 1947ء اور اس کے بعد ہجرت کرکے پاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کی نشستیں اور سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مطالبے کو آزاد جموں و کشمیر کی اتحادی حکومت میں شامل مہاجرین مقیم پاکستان کے چھ انتخابی حلقوں کے ارکان اسمبلی نے نہ صرف مسترد کیا بلکہ اسے کشمیر کاز کے خلاف سازش قراردیا۔ مہاجرین مقیم پاکستان کے چھ ارکان قانون ساز اسمبلی عبد الماجد خان، چوہدری اکبر ابراہیم، جاوید بٹ، محمد اکمل سرگالہ، عاصم شریف بٹ اور چوہدری ریاض نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف پاکستان کے چاروں صوبوں میں آباد 27 لاکھ کشمیریوں کے منتخب نمائندے ہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ میں مقیم ایک کروڑ پچیس لاکھ کشمیریوں کی آواز بھی ہیں۔ ان چھ ارکان قانون ساز اسمبلی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 1989ء کے مہاجرین کو آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوران ووٹ لینے کے لیے مقامی اور الیکشن ختم ہونے کے بعد مہاجر ظاہر کیا جاتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1989ء کے مہاجرین کو بھی قانون ساز اسمبلی میں دو نشستیں دی جائیں، جن میں ایک وادی کشمیر جبکہ دوسری جموں کے مہاجرین کو دی جائے۔مہاجرین نمائندگان نے کہا کہ سیاسی طور پر آزاد جموں و کشمیر اور کشمیر کاز کو کمزور کرنے کیلئے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے اور معاشی طور پر پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے مفت تعلیم اور مفت صحت کی سہولیات کا مطالبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ مہاجرین کے منتخب نمائندوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا حصہ ہے جس کا ثبوت یہ کہ آزاد کشمیر کے40 سے 50 فیصد لوگوں کا کاروبار اور رہائش اسلام آباد اور راولپنڈی یا پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ بہت جلد مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت سے آزاد کرکے پورے جموں و کشمیر کو مستقل بنیادوں پر پاکستان کا حصہ بنایا جائے گا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے اس بیان سے مہاجرین مقیم پاکستان کے ساتھ ساتھ مہاجرین 1989ء بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ 84 ہزار مربع میل کی ریاست جموں و کشمیر کا تاج اور سیاسی وارث انہوں نے چار ہزار مربع میل سے زائد علاقے پر مشتمل حکومت آزاد جموں و کشمیر کو بنایا تھا کہ وہ بیس کیمپ کا کردار ادا کر کے مقبوضہ ریاست کو آزاد کرانے کیلئے اپنے وسائل استعمال کر ے لیکن وہ الٹا منقسم اور مہاجر کشمیریوں کے ووٹ اور نشستوں کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں، جو مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے قومی مؤقف کو کمزور کرے گا۔عالمی قوانین کے مطابق مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے ووٹ اور ان کی نشستیں ختم کرنے سے نہ صرف ان کا سیاسی حق مارا جائے گا بلکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہو گی۔ دنیا کے 21 ممالک میں مہاجرین کیلئے مخصوص نشستیں ہیں جن میں فرانس نے گیارہ، اٹلی نے دو جبکہ موزمبیق، رومانیہ، الجیریا، مراکش کروشیا سمیت دیگر ممالک نے بھی اپنی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں مہاجرین کیلئے نشستیں رکھی ہیں۔ماہرین بین الاقوامی قوانین کے مطابق مہاجرین مقبوضہ جموں وکشمیر مقیم پاکستان کی بارہ نشستیں عالمی مسلمہ قوانین کے مطابق ہیں اور ان میں کمی کرنے کے بجائے مہاجرین 1989ء کو بھی مزید دو نشستیں دینے میں تاخیر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا۔تاہم یہ بات درست ہے کہ ان نشستوں پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اور ان کے ووٹرز کے سٹیٹ سبجیکٹ کی جانچ پڑتال ضروری ہے اور اس وقت دو ارکان اسمبلی کے جعلی سٹیٹ سبجیکٹ کے حوالے سے کیس عدالتوں میں ہیں اور ان کا فیصلہ آنا چاہیے کہ آیا ان دو ارکان اسمبلی کے ریاستی باشندہ سرٹیفکیٹ اصلی ہیں یا جعلی، اور کیا واقعی وہ مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر ہیں یا نہیں؟مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی ووٹر لسٹوں پر بھی بہت سے تحفظات ہیں اور مبینہ جعلی ووٹرز کا اندراج کیا گیا ہے جس کیلئے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ان بارہ نشستوں سے جعلی ووٹرز کا اخراج کر کے درست اور اصل کشمیری مہاجرین ووٹرز کا اندراج یقینی بنایا جائے۔

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح آزاد جموں و کشمیر میں بھی یوم تکبیر ملی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ دارالحکومت مظفرآباد سمیت تمام اضلاع میں وطن سے محبت کے اظہار کیلئے ریلیوں، جلسوں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔مظفرآباد میں برہان وانی چوک سے نکالی گئی ریلی میں منقسم کشمیری خاندانوں کے افراد، طلبا و طالبات، سول سوسائٹی اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔یومِ تکبیر کے موقع پر مرکزی ریلی کا آغاز سنٹرل پریس کلب مظفرآباد سے ہوا جو قائداعظم پل پر پہنچ کر ختم ہو گئی۔آزاد جموں و کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی یومِ تکبیر کے موقع پر تقاریب کا انعقاد کیا گیا جہاں عوام نے ملک کے دفاع میں افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیوں کو سلامِ پیش کیا۔ یوم تکبیر کے حوالے سے آزاد جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں بالخصوص آزاد کشمیر یونیورسٹی میں تقریری، مصوری اور مضمون نویسی کے ساتھ ساتھ دستاویزی فلموں کے بھی مقابلے ہوئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔