سحر و افطار :رمضان کے بابرکت لمحات

تحریر : ڈاکٹر فرحت ہاشمی


’’سحری کھانا باعث برکت ہے، اسے ترک نہ کیا کرو‘‘ (مسند احمد: 11086)

روزہ نفس کو اللہ کی اطاعت کا پابند بناتا ہے۔ بندہ اللہ کے حکم سے ایک خاص وقت تک کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور ایک مخصوص وقت میں (سحری) خواہ اس کا دل نہ بھی چاہ رہا ہو تو اللہ کی خوشنودی کیلئے کھاتا ہے۔ بعض اوقات سحری کھانے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے بعض لوگ سحری کرتے ہی نہیں، بعض وقت سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں جب کہ تاخیر سے کھانا اخلاق نبوت میں سے ہے۔ 

ابودرداؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تین کام اخلاق نبوت میں سے ہیں افطاری میں جلدی، سحری میں تاخیر اور نماز میں دائیں (ہاتھ) کو بائیں پر رکھنا۔ (صحیح الجامع الصغیر، ج2، 3038)

سحری کا اہتمام ضروری

بندہ مومن کیلئے سحری کھانے میں برکت ہے اور سحری کھانا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے (صحیح بخاری: 1923)۔ حضرت عِرباض بن ساریہؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سحری کیلئے بلایا اور فرمایا ’’آؤ مبارک کھانا کھا لو‘‘ (ابو داؤد : 2344)۔

سحری اللہ کی عطا

ایک صحابیؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ نبی کریم ﷺ سحری کھا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ سحری برکت ہے جو اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہے اس لیے اسے مت چھوڑا کرو‘‘ (مسند احمد:23142)۔  رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’سحری کھانا باعث برکت ہے، اس لیے اسے ترک نہ کیا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو‘‘ (مسند احمد: 11086)۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یقینا اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں اور فرشتے ان کیلئے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں‘‘ (المعجم الأوسط الطبرانی: 6430)

کھجور بہترین سحری

 نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:’’کھجور مومن کی بہترین سحری ہے۔ سحری میں متوازن غذا استعمال کریں تاکہ دن بھر تروتازہ رہیں اور صحیح طور پرفرائض اور دیگر عبادات ادا کر سکیں‘‘ (ابو داؤد:2345)۔

افطار خوشی کا وقت

حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے تو خوشی محسوس کرتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہو گا‘‘(صحیح بخاری: 1904)

افطار جلدی کرنا

سورج غروب ہوتے ہی روزہ افطار کر لینا چاہیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے بھلائی پر رہیں گے‘‘(صحیح بخاری 1957)۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی نے روزہ رکھا ہو تواسے چاہیے کہ کھجور سے افطار کر ے، اگر کھجور نہ پائے توپانی سے افطار کر ے، بلاشبہ پانی پاک کرنے والا ہے (صحیح الجامع الصغیر: 746)۔رسول اللہ ﷺ نماز سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے۔ اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجور تناوّل فرما لیتے۔ یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے۔ (ابو داؤد: 2356)

افطاری کروانے کا اجر

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے روزہ دار کو روزہ افطارکرایا اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزہ دارکیلئے ہو گا اور روزہ دار کے اس اجرسے کم کوئی چیز نہیں ہو گی‘‘ (الترمذی:807)۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ عبادہ ؓ کے پاس روزہ افطار کیا اور پھر یہ دعا دی: ’’روزے دار تمہارے ہاں روزہ افطار کرتے رہیں اور نیک لوگ تمہارا کھانا کھاتے رہیں اور فرشتے تمہارے لیے دعائیں کرتے رہیں۔ (ابو داؤد: 3854)

کرنے کے کام

سحری و افطاری کا اہتمام اعتدال کے ساتھ کریں کیونکہ یہ شھرالطعام نہیں بلکہ شھرالصیام ہے۔ بہت مرغن غذاؤں اورپیٹ بھر کر کھانے سے پرہیز کریں تاکہ جسم میں سستی پیدا نہ ہو۔بچا ہوا کھانا ضائع نہ کریں بلکہ کسی ضرور ت مند کو دے دیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 04)

چوتھے پارے کا آغاز سورہ آل عمران سے ہوتا ہے، پہلی آیت میں بیان ہوا کہ نیکی کا مرتبۂ کمال یہ ہے کہ اپنے پسندیدہ اور محبوب مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 04)

چوتھے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے‘ جب تک اس چیز کوخرچ نہیں کرتے‘ جو تمہیں محبوب ہے اور جوکچھ تم خرچ کرتے ہو‘ اللہ اس کو خوب جانتا ہے‘‘۔

خلاصہ قرآن (پارہ 03)

تیسرے پارے کے شروع میں اس امر کا بیان ہے کہ اس حقیقت کے باوجودکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی اور رسول علیہم السلام معزز و مکرم ہیں اور ان کی شان بڑی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں ایک کیلئے دوسرے کے مقابلے میں فضیلت اور درجے کی بلندی رکھی ہے۔ آیت 254 میں فرمایا کہ قیامت کے دن (نیکیوں کا) لین دین‘ دوستی اور سفارش نہیں چلے گی اور کفار ہی حقیقت میں ظالم ہیں۔

خلاصہ قرآن (پارہ 03)

تیسرے پارے کا آغاز بھی سورہ بقرہ سے ہوتا ہے۔ تیسرے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے بعض رسولوں کو دوسرے رسولوں پر فضیلت حاصل ہے‘ ان میں سے بعض نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے درجات کو اللہ رب العزت نے بلند فرما دیا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمام رسولوں میں سے سب سے زیادہ بلند مقام ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں احکام صوم

قصداً قے کرنے، کوئی چیز نگل لینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

رمضان الکریم ‘ عبادت و ریاضت کا مہینہ

نفل کا ثواب فرض اور فرض کا ثواب 70فرائض کے برابر ملتا ہے