مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری
مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کی 21 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج نے علاقے کی آئندہ سیاست کی سمت بڑی حد تک واضح کر دی ہے۔
دوسرے مرحلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 15 جبکہ پیپلز پارٹی چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔ مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری رہا۔ پنجاب سے مہاجرین کی 10 نشستیں مسلم لیگ (ن) کو ملیں جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار عامر عبدالغفار لون سندھ اور بلوچستان کی نشست سے کامیاب ہوئے۔ خیبر پختونخوا سے پیپلز پارٹی کے امیدوار عبدالماجد خان نے مسلسل پانچویں مرتبہ کامیابی حاصل کی۔
انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج کو پہلے مرحلے کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی کل 45 نشستوں میں سے اب تک 34 نشستوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں مسلم لیگ (ن) 24 نشستوں کے ساتھ واضح برتری حاصل کر کے سادہ اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔یہ انتخابی اعداد و شمار اس لحاظ سے اہم ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اب کسی اتحادی جماعت کی مدد کے بغیر تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، تاہم حتمی سیاسی منظرنامہ تیسرے مرحلے کے نتائج اور باقی نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کے بعد مزید واضح ہوگا۔ البتہ موجودہ نتائج نے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے لیے مضبوط پوزیشن فراہم کر دی ہے۔اب سیاسی نظریں انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے پر ہیں جو راولاکوٹ ڈویژن میں 10 اگست کو ہوگا۔ تیسرے مرحلے میں باغ کی تین، حویلی کی ایک، سدھنوتی کی ایک اور راولاکوٹ کی پانچ نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
ایل اے 24 سدھنوتی کی دوسری نشست پر ایک امیدوار کے انتقال کے باعث پولنگ بعد میں ضمنی انتخاب کے ذریعے کرائی جائے گی جس کے باعث اس نشست کا نتیجہ بھی مستقبل میں سیاسی حساب کتاب پر اثرانداز ہوگا۔موجودہ سیاسی صورتحال اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کو سامنے رکھا جائے تو ضمنی انتخاب سمیت راولاکوٹ ڈویژن کی 11 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) تقریباً آٹھ نشستوں پر کامیابی کی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ باغ اور حویلی کی تینوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی اب تک کی پوزیشن بہتر قرار دی جا رہی ہے تاہم انتخابات کے آخری مرحلے میں حتمی نتیجہ عوام کے ووٹ سے ہی سامنے آئے گا۔
انتخابات کے تیسرے مرحلے میں بھی اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان متوقع ہے۔ دونوں بڑی جماعتیں راولاکوٹ ڈویژن میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گی تاہم بعض حلقوں میں مقابلہ روایتی جماعتی سیاست سے ہٹ کر شخصیات اور مقامی سیاسی اتحادوں کے گرد گھومتا دکھائی دے رہا ہے۔دھیرکوٹ کی نشست اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں سابق وزیراعظم اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان کو عوامی دست بازو کے امیدوار ساجد عباسی کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اس حلقے کا نتیجہ نہ صرف دونوں امیدواروں بلکہ مسلم کانفرنس کی آئندہ سیاسی پوزیشن کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب راولاکوٹ ڈویژن میں 10 اگست کو ہونے والے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ حساس پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ آزاد جموں و کشمیر پولیس کے علاوہ پنجاب پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق تیسرے مرحلے میں 11 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
راولاکوٹ ڈویژن میں 1800 سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ اب تک کے انتخابی نتائج نے مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری ضرور دے دی ہے لیکن آزاد کشمیر کی سیاست میں آخری مرحلہ ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ راولاکوٹ ڈویژن کے نتائج نہ صرف قانون ساز اسمبلی میں جماعتوں کی نشستوں کی حتمی تعداد متعین کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ مسلم لیگ (ن) اپنی موجودہ برتری کو بڑھاتی ہے یا پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں آخری مرحلے میں بازی لے جاتی ہیں۔فی الحال سیاسی منظرنامہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں ہے، 34 نشستوں کے نتائج میں 24 نشستوں کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) حکومت سازی کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ اب 10 اگست کا انتخابی مرحلہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ مسلم لیگ (ن) کی برتری کتنی وسیع ہوتی ہے اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں ایوان میں اپنے سیاسی کردار کو کس حد تک مضبوط کر پاتی ہیں۔
یوں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا آخری مرحلہ محض چند نشستوں کا مقابلہ نہیں بلکہ آئندہ حکومت کے سیاسی حجم، اپوزیشن کے کردار اور علاقے کی مستقبل کی سیاست کا تعین کرنے والا مرحلہ بن چکا ہے۔ 2016ء میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملی تھی اور اس وقت مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر فاروق حیدر کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا تھا۔ 2021ء میں الیکشن ہارنے اور بطور پارٹی صدر و وزیر اعظم ناقص کارکردگی پر انہیں پارٹی صدارت سے ہٹا کر جماعت کی نچلی سطح پر تنظیم سازی کیلئے شاہ غلام قادر کو پہلے چیف آرگنائزر اور پھر جماعت کا صدر بنا دیا گیا جنہوں نے بھر پور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت کو اب تک سادہ اکثریت دلوا دی۔ صدر مسلم لیگ( ن) شاہ غلام قادر کی اس کارکردگی سے مسلم لیگ(ن) کے قائدین خوش ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوا ز شریف ماضی کی جماعتی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے شاہ غلام قادر کو ہی وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کا امید وار نامزد کریں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments