ملی نغمہ کہانی !
’’یہ وطن تمھارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے ‘‘
اسکول کی لائبریری میں غیر معمولی خاموشی تھی ۔ اگست کا مہینہ تھا اور یومِ آزادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ آٹھویں جماعت کے چند بچے ملی نغموں کے مقابلے کی تیاری کر رہے تھے ۔
علی نے کتاب بند کرتے ہوئے کہا : ہم ہر سال وہی نغمے گاتے ہیں ، مگر کبھی سوچا ہے کہ ان الفاظ کا مطلب کیا ہے ؟
کون سا نغمہ ؟: احمد نے پوچھا ۔ علی نے دھیرے سے گنگنایا :
یہ وطن تمھارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمھارا ہے ، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اتنے میں لائبریری کے دروازے پر دستک ہوئی ۔ سفید داڑھی ، جھریوں بھرے چہرے اور روشن آنکھوں والے ایک بزرگ اندر داخل ہوئے ۔لائبریرین نے کہا : بچو! یہ کرنل ریٹائرڈ ساجد صاحب ہیں ۔ یہ آج ہمارے مہمان ہیں ۔ تمام بچے ادب سے کھڑے ہوگئے ۔
کرنل صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا : ’’ کیا بات ہو رہی تھی ؟ ‘‘ علی نے جواب دیا : سر ! ہم اس نغمے کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔
کرنل صاحب چند لمحے خاموش رہے ، پھر بولے : ’’ اگر تم واقعی اس نغمے کا مطلب جاننا چاہتے ہو تو میں تمھیں ایک کہانی سناتا ہوں ۔ تمام بچے ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ یہ 1947 ء کے بعد کی بات ہے ۔ ہم چار دوست تھے اور ہم سب کے خواب الگ الگ تھے ۔
میرا دوست یوسف کسان کا بیٹا تھا ۔ وہ کہتا تھا کہ میں زمین کو سونا بنا دوں گا ۔دوسرا دوست رحیم کہتا تھا کہ میں اُستاد بنوں گا۔تیسرے دوست اکر م کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے اور میں فوج میں جانا چاہتا تھا ۔
’’ پھر کیا ہوا ؟ ‘‘ علی نے پوچھا ۔ ہم سب اپنے اپنے راستوں پر چل پڑے ۔کرنل صاحب کھڑکی سے باہر لہراتے درختوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ چند سال بعد میں فوج میں تھا ۔ سرحدوں پر کشیدگی تھی ۔ ایک رات ہمیں اطلاع ملی کہ دشمن دراندازی کی کوشش کر سکتا ہے ۔ اس رات مجھے اپنے دوست یاد آئے ۔ میں نے سوچا کہ اگر میں سرحد پر کھڑا ہوں تو وہ بھی کہیں نہ کہیں وطن کیلئے کام کر رہے ہوں گے ۔
بچوں نے سوال کیا: کیا واقعی ایسا تھا ؟ ہاں، بعد میں مجھے ان کے خطوط ملے ۔ یوسف نے لکھا تھا : ساجد ! اس سال گندم کی پیداوار پہلے سے کہیں زیادہ ہوئی ہے ۔ اگر کسان محنت نہ کرے تو فوجی بھی بھوکا رہ جائے ۔ میں کھیتوں کی حفاظت کرتا ہوں ، اور تم سرحدوں کی ۔بچے مسکرا دیے ۔
پھر رحیم کا خط آیا : میں گائوں کے بچوں کو پڑھا رہا ہوں ۔ اگر قوم تعلیم یافتہ نہ ہو تو ترقی نہیں کر سکتی ۔ میں قلم کی سرحد پر پہرہ دے رہا ہوں ۔’’ قلم کی سر حد ؟ ‘‘ احمد نے حیرت سے پوچھا ۔ ہاں ، بیٹا ! جہالت بھی دشمن ہوتی ہے ،کرنل صاحب نے کہا۔
اکرم نے لکھا : میں اسپتال میں ڈیوٹی کر رہا ہوں ۔ زخمیوں اور مریضوں کا علاج کرنا بھی وطن کی خدمت ہے ۔ صحت مند قوم ہی مضبوط قوم بنتی ہے ۔
علی نے آہستہ سے کہا : تو چاروں اپنے اپنے محاذ پر تھے ۔
بالکل ! کرنل صاحب نے جواب دیا ۔ پھر ایک دن مجھے ایک اور سبق ملا ۔ علی نے سوال کیا : کون سا ؟
جنگ کے دوران ایک گائوں میں تعیناتی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت اپنے چھوٹے سے گھر کے سامنے جھاڑو دے رہی ہے ۔ میں نے اس سے پوچھا : اماں ! آپ اس عمر میں اتنی محنت کیوں کرتی ہیں ؟
بوڑھی عورت نے جواب دیا : بیٹا ! میں پورا پاکستان تو صاف نہیں کرسکتی ، مگر اپنے حصے کا پاکستان ضرور صاف رکھ سکتی ہوں ۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ وطن سے محبت صرف نعروں سے نہیں ، عمل سے ثابت ہوتی ہے ۔
کرنل صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا تم جانتے ہو ، اس نغمے میں وطن کو چمن کیوں کہا گیا ہے ؟۔ کیوں سر ؟ ،ایک بچے نے پوچھا۔ کیوں کہ چمن میں مختلف پھول ہوتے ہیں ۔ ان کے رنگ الگ ہوتے ہیں ، خوشبو الگ ہوتی ہے ، مگر وہ سب مل کر باغ کو خوبصورت بناتے ہیں ۔ پاکستان بھی ایسا ہی چمن ہے ۔ یہاں مختلف زبانیں ، ثقافتیں ، رسم و رواج اور علاقے ہیں ۔ لیکن سب مل کر ایک قوم بنتے ہیں ۔
احمد نے کہا : اور نغمہ خواں کا کیا مطلب ہے؟ ۔ نغمہ خواں وہ ہے جو اپنے وطن کی خوبصورتی، اس کی اچھائیوں اور اس کی اُمیدوں کو زندہ رکھے ،کرنل صاحب نے جواب دیا ۔
صرف گانا گا کر ؟ ایک بچے نے سوال کیا۔ نہیں، اپنے کردارسے، کرنل صاحب نے جواب دیا ۔ اگر تم سچ بولتے ہو تو تم نغمہ خواں ہو۔ اگردرخت لگاتے ہو تو تم نغمہ خواں ہو ۔ اگرقانون کا احترام کرتے ہو تو تم نغمہ خواں ہو ۔ اگر نفرت کے بجائے محبت پھیلاتے ہو تو تم نغمہ خواں ہو ۔
بچوں کی آنکھوں میں چمک آگئی ۔ چند دن بعد یومِ آزادی کی تقریب منعقد ہوئی ۔ اسکول سبز اور سفید رنگوں سے سجا ہوا تھا۔ پرچم فضا میں لہرا رہے تھے ۔ طلبہ نے ملی نغمے پیش کیے ، تقاریر کیں اور ٹیبلو بھی دکھائے ۔ ہوا میں ملی نغمے کی آواز گونج رہی تھی :
یہ وطن تمھارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمھارا ہے ، تم ہو نغمہ خواں اس کے
اس لمحے بچوں کو محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک نغمہ نہیں ، ایک ذمہ داری ہے ۔ ایک عہد ہے ۔ ایک پیغام ہے ۔ اور اس پیغام کا خلاصہ صرف اتنا تھا کہ وطن کی محبت زبان سے نہیں ، کردار سے ثابت ہوتی ہے ۔ جو اپنے حصے کا کام دیانت داری سے انجام دیتا ہے ، وہی اس چمن کا سچا مالی اور اس وطن کا حقیقی پاسبان ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments