سُوءِ ادب:ادب لطیف
1935ء سے مسلسل شائع ہونے والے اس ادبی جریدے کا تازہ شمارہ مظہر سلیم مجوکہ اور شہزاد نیّر کی ادارت میں شائع ہو گیا ہے جس میں حسبِ معمول ملک کے نامور ادیبوں کی نگارشات شامل ہیں۔
سخن آغاز کے حصے میں مظہر سلیم مجوکہ اور شہزاد نیر نے جنگ نہیں امن اور ادب کی سرکاری سرپرستی کے عنوان سے اداریے لکھے ہیں۔حصۂ حمد میں قیوم طاہر اور حسنین مظہری کا کلام شامل ہے جبکہ اقتدار جاوید اور آمنہ روشنی رشانے نعت نبی پاک ﷺ لکھی ہے۔ گیان کے حصے میں ادب لطیف کا گیان کے عنوان سے آفتاب جاوید کی تحریر شامل ہے۔ توشہ ٔ خاص میں افتخار بخاری کی نظمیں بارش، گاردونورد کے پلیٹ فارم پر، ایک متروک ریلوے ٹریک کے پاس، پرانے جوتوں کے نام، میں کہاں جاؤں گا، قبروں پر بارش، گمشدہ مترادف۔ نظموں میں جلیل عالی کی میں لکھتا ہوں، نصیر احمد ناصر کی کیفے ڈی اناطولیہ، صفدر صدیق رضی کی رفتگاں، فیروز ناطق خسرو کی پھیری والا، قیوم طاہر کی کہاں ہو تم اور سید رضی حیدر کی سب اچھا ہے شامل اشاعت ہیں۔ طلسم کاری کے عنوان سے افسانوں کے حصے میں محمود احمد قاضی کا نیند نہیں آتی، محمد الیاس کا رحم دل حاکم، نیلم احمد بشیر کا خاک ہو جائیں گے، ڈاکٹر عدیل احمد کا سخت کوش، رینہو بہل کا شور برپا ہے اور ملکیت سنگھ مچھانہ کا آدمی میں موجود ڈسٹ بن شامل ہے۔
اس کے علاوہ شاہانہ جاوید کے دو افسانچے جن کے عنوان سفید پوش اور مالی آسودگی ہیں وہ بھی اس اشاعت میں شامل ہیں۔ حسن عباسی نے تخلیق کار کی تنہائی اور اس کا کرب کے عنوان نے مضمون خاص لکھا ہے، ، سیمیں کرن نے متن حیات کے سرخ حاشیہ زدہ ایام کے عنوان سے رپورتاژ اور کنول بہزاد نے دنیائے ادب کا ایک لازوال نام…ثمینہ سید کے عنوان سے مضمون لکھا ہے۔ سوانح حیات میں حفیظ طاہر کی ننگے پاؤں کی چھٹی قسط دی گئی ہے۔ گلزار بخاری، سعید اشعر اور محمد نصیر زندہ کی رباعیات شامل ہیں۔ حصہ غزلیات میں سحر انصاری ، جلیل عالی، صابر ظفر، گلزار بخاری، اشرف جاوید، رفیق سندیلوی، اعجاز روش، شاہین مفتی، ڈاکٹر ایوب ندیم ، راحت سرحدی، تاثیر نقوی، فیاض تحسین، سید افسر ساجد، صابرہ شاہین اور اکرام الحق سرشار اور دیگران کی غزلیں شامل ہیں۔اور اب اسی شمارہ میں سے شاہین مفتی کی یہ غزل:
غزل
کیوں تعاقب میں ہے آخر ترا مسئلہ کیا ہے
مُڑکے کیوں دیکھوں تجھے تُو میرا لگتا کیا ہے
ریت سے آ کے ہوا پوچھتی رہتی ہے بتا
یہ سمندر تیری پیشانی پہ لکھتا کیا ہے
بے طلب ہم کو ملا تھا یہ بیابان ِجنوں
عمر گزری تو کھلا قیمت ِ صحرا کیا ہے
میرا ہونا ہے تو اس لمحۂ موجود میں ہو
عہد ِ ماضی کی طرح وعدہ ٔ فردا کیا ہے
ریت نے پاؤں پکڑ کر یہ مسافر سے کہا
اک نظر دیکھ تو لے نیت ِ دریا کیا ہے
یوں تو اچھا ہے سبھی دنیا میں رہنے کے لیے
تیری دنیا میں مگر ہم سے بھی اچھا کیا ہے
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments