سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
قبول اسلام سے پہلے بھی آپؓ موحد تھے قبول اسلام کے بعد سیدنا ابوذر غفاریؓ دین کے داعی بن گئے ،جلد ہی ان کا آدھاقبیلہ مسلمان ہوگیا
اگر ہم مکہ مکرمہ سے مدینہ شریف کا سفر کریں تو راستے میں ایک وادی الصفراء آتی ہے۔ یہاں پر صدیوں سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک قبیلہ بنوغفار آباد تھا۔ اسلام سے پہلے، یعنی زمانہ جاہلیت میں اس علاقے کا ایک باشندہ جُندب بن جُنادہ غفاری صحرا میں لوگوں کو لُوٹا کرتا تھا۔ لمبے قد، گہرے رنگ اور مضبوط جسم کا جُندب ابوذر کی کنیت سے معروف تھا۔ قبل از اسلام بھی ابوذر کے اندر کچھ خوبیاں تھیں۔ وہ اپنے باپ دادا سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے عقیدے پر تھے اور اس کے مطابق عبادت کرتے،وہ بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ اکیلے رب کی عبادت کرتے تھے۔
ایک مرتبہ کسی قافلے والوں نے ابوذر غفاری کو بتایا کہ مکہ مکرمہ میں عبداللہ ہاشمی کے بیٹے محمد ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اللہ ایک ہے، وہی سچا معبود ہے، صرف اسی کی عبادت کی جائے، بتوں سے نہ مرادیں مانگی جائیں اور نہ ان کی عبادت کی جائے۔ گویا وہ توحید کا درس اور اللہ کی عبادت کا سبق دیتے ہیں۔ابوذر غفاری کیلئے یہ باتیں ان کے دل کی آواز تھیں۔وہ تو پہلے سے دین ابراہیمی پر قائم تھے۔ انھوں نے اپنے بھائی انیس کو مکہ مکرمہ بھیجا اور کہا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے نبی کے بارے میں معلومات لے کر آئو۔انیس مکہ مکرمہ پہنچے، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں چند معلومات لیں اور جلد ہی واپس آگئے۔
ابوذر غفاری نے اپنے بھائی سے پوچھا:سنائو مکہ میں اس عظیم شخصیت کی کیا خبر ہے؟ بھائی نے بتایا کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں۔ ابوذر اپنے بھائی کی باتوں سے مطمئن نہ ہوئے اور خود ہی مکہ مکرمہ جانے کی ٹھانی۔سیدنا ابوذر غفاری مکہ پہنچے تو وہاں کسی کو جانتے پہچانتے نہ تھے اورنہ ہی کسی سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھا۔ بیت اللہ میں بیٹھے تھے تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے۔ان کی نظر ابو ذر غفاری پر پڑی ،دیکھا کہ ایک اجنبی اورپردیسی شخص لگتا ہے۔ سوال کیا کہ کس کام سے مکہ آئے ہو؟ انہوں نے عرض کی کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک نبی کا ظہور ہوا ہے اور میں ان سے ملنے کا خواہشمند ہوں۔ سیدنا علیؓ نے کہا کہ میں انھی کے پاس جا رہا ہوں۔ تم میرے پیچھے پیچھے چلے آئو ۔سیدنا ابوذرؓ ، سیدنا علی ؓکے پیچھے چل دیے۔ سیدنا علیؓ ایک گھر میں داخل ہوئے توابوذرؓ بھی ان کے پیچھے اس گھر میں داخل ہوگئے۔ سامنے کائنات کے امام جناب محمد رسول اللہ ﷺ تشریف فرماتھے۔ آپﷺ کا دیدار ہوا تو ابوذر غفاری ؓ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ عرض کیا:اللہ کے رسولﷺ!مجھے اسلام کے بارے میں بتلائیے۔آپ ﷺ سیدنا ابوذرؓ کو اسلام کی تعلیمات پیش کرتے ہیں اور سیدنا ابوذر ؓوہیں کلمہ شہادت کی گواہی دیتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ابوذر!مصلحت اسی میں ہے کہ اپنے دین کو چھپائے رکھو۔ اپنی قوم کے پاس واپس چلے جاو۔ قریش کو اپنے اسلام کے بارے میں مت بتانا۔ جب تمھیں معلوم ہو یا خبر ملے کہ اسلام غالب آگیا ہے تو پھر آجانا۔
توحید، اللہ کی وحدانیت کا مزہ اور ایمان کی لذت بڑی عجیب ہے۔ یہ دل کو ہر طرح کے خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ سیدنا ابوذر ؓ نے عرض کیاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے!میں تو لوگوں کے درمیان اس دعوتِ حق کا اعلان ضرور کروں گا۔سیدنا ابوذر غفاریؓ توحید کے جذبے سے سرشار بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے۔ صحن کعبہ میں قریش اپنی اپنی ٹولیوں میں بیٹھے تھے۔ انھوں نے بلند آواز سے صدا لگائی اَشْھَدُ اَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ۔یہ آوازِ توحید قریش سے کہاں برداشت ہوسکتی تھی۔ وہ اسے سنتے ہی بولے ’’اس بے دین کو پکڑو اور پھر ہر طرف سے قریش مارنا شروع ہو گئے۔ سیدنا عباس بن عبدالمطلب ؓنے انہیں پہچان لیااورانہیں اپنی پناہ میں لے لیا۔ قریش سے مخاطب ہوئے کہ تمھاری ہلاکت ہو،جانتے ہو یہ کون ہے؟ یہ بنی غفار سے ہے۔ کیا تم بنی غفار کے آدمی کو قتل کرو گے،تمھارا تجارتی راستہ بنی غفار کی بستیوں سے گزرتا ہے۔ اگر یہ قتل ہوگیا تو تمھارا تجارتی راستہ بند ہو جائے گا۔ لوگوں کوان کے بارے میں معلوم ہوا تو پیچھے ہٹ گئے۔ اس طرح اس مردِ حق نے توحید کے کلمے کو بلند کرنے کی خاطر مار کھائی۔
گھر پہنچے تو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ اسے اپنے اسلام لانے کا بتایاتو وہ بھی مسلمان ہوگئے۔ والدہ بھی قریب بیٹھی تھیں، انھوں نے بھی اسلام قبول کر لیااوریوں قافلوں کو لوٹنے والا ابوذر غفاریؓ دین کے داعی بن گئے، رہزن سے رہبر بن گئے۔ اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ جلد ہی ان کے قبیلے کے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے۔
سیدنا ابوذر غفاریؓ نے بہت سے غزوات میں شرکت فرمائی ۔ آپؓ کی وفات سیدنا عثمان بن عفانؓ کی خلافت کے دور میں32 ہجری میں ہوئی (اسد الغابۃ، 345/1)۔احادیث کی کتابوں میں ان سے 281احادیث مروی ہیں۔ ان کے مشہور شاگردوں میں سیدنا انس بن مالک ؓ بھی شامل ہیں۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی وصیت کے مطابق انھیں غسل اور کفن دے کر حاجیوں کی گزر گاہ پر رکھ دیا گیا۔ وہاں سے سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓایک قافلے کے ہمراہ گزر رہے تھے۔ انھوں نے ان کا جنازہ پڑھایا۔ اپنے ہاتھوں سے قبر میں دفن کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments