آزاد کشمیر انتخابات اور بلاول بھٹو کے تحفظات
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے نتائج پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شدیدتحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا گلہ ہے کہ انتخابات کے پہلے مرحلے میں بدترین مداخلت کی گئی۔
بلاول بھٹو اُن لوگوں میں سے تھے جن کا کہناتھاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں اور مفاہمتی فارمولے کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابات کروائے جائیں،لیکن ان کی بات نہ تو مقتدرہ نے تسلیم کی اور نہ ہی وفاقی حکومت نے ۔اب پیپلز پارٹی الزام لگا رہی ہے کہ وفاقی حکومت نے تمام تر اختیارات استعمال کر کے انتخابی نتائج کو اپنے حق میں کیا ۔ان کے خیال میں پہلے مرحلے کی بنیاد پر ہی دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات ہوتے ہیں تو ان انتخابات کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ انتخابی مہم میں بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کافی گرم جوشی دیکھنے میں آئی اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے پر کئی طرح کے الزامات عائد کئے ۔اب پہلے مرحلے کے جو نتائج سامنے آئے ہیں اس میں 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ(ن) نے9 حاصل کی ہیں اور پیپلز پارٹی کو 4 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔پہلے مرحلے کے انتخابی نتائج کے بعد امکان یہی ہے کہ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بھی (ن) لیگ برتری حاصل کر ے گی اور اس طرح آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائے گی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کی بنیاد پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں سیاسی دوریاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں،لیکن ایسا ہونے کے امکان بظاہر کم ہیں کیونکہ موجودہ سیٹ اَپ دونوں پارٹیوں کی حمایت کے ساتھ ہی کھڑا ہوا ہے۔
اگر پیپلز پارٹی (ن) لیگ کی حمایت سے دستبردار ہوتی ہے تو (ن) لیگ وفاق میں اپنی حکومت قائم نہیں رکھ سکے گی مگر اس صورت میں جو بڑے عہدے پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے حاصل ہوئے ہیں پیپلز پارٹی ان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔اس لیے امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی تمام تر ناراضگی کے باوجود کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرے گی جس سے سیاسی ڈیڈلاک پیدا ہو جائے۔بلاول بھٹو کی سخت تقریر پر پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بھی سخت رد عمل آیا۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پیپلز پارٹی بلا وجہ دھاندلی کا رونا رو رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس کارکردگی ہوتی، گورننس ہوتی، عوام کے لیے ایجنڈا ہوتا تو دوسروں پر حملوں میں وقت ضائع نہ کرتے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ سندھ میں 17 سال حکومت کے باوجود بتانے کو کچھ نہیں تھا۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے گرین بس، اپنی چھت اپنا گھر، اپنا کھیت اپنا روزگار، کسان کارڈ، پکی سڑکوں اور امن و امان کو ووٹ دیا۔
پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے مگر اس پالیسی نے پارٹی کے لیے کوئی اچھا ماحول پیدا نہیں کیا ۔پی ٹی آئی کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انتخاب کے بائیکاٹ سے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچا۔ پی پی آئی کی قیادت بہت سے سیاسی معاملات میں تقسیم نظر آتی ہے۔دوسری طرف آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک احتجاجی سیاست بھی چل رہی ہے جس سے کشمیر کے حالات کشیدہ نظر آتے ہیں۔بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ اس معاملے میں مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا جائے اورآزاد کشمیر کے لوگوں کے جو تحفظات ہیں اس پر بات چیت کی جائے۔ان رہنماؤں کے مطابق سیاسی مسائل سیاسی حکمت عملی سے ہی حل ہو سکتے ہیں، تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے تو حالات اور زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔راولا کوٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی صورت میں پاکستان کے مفاد میں نہیں ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھی چاہیے کہ انتخابی عمل کو خراب نہ کریں ۔ آزاد کشمیر کے حالات پاکستان کے لیے ایک حساس مسئلہ ہیں۔ بھارت وہاں کے خراب حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
اس وقت کشمیر کی سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر قومی تشویش پائی جاتی ہے اس لیے سب لوگوں کو اعتماد میں لے کر ایسی مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو لوگوں کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنے کا سبب بنے۔آزاد کشمیر کے انتخابات تین مراحل میں ہو رہے ہیں، یہ انتخابات متنازع نہیں ہونے چاہئیں۔اس لیے یہ ذمہ داری جہاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی ہے وہیں وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کی حکومت پر بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سازگار ماحول پیدا کریں اور الیکشن کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں تاکہ آزاد کشمیر کے لوگوں کا انتخابی نظام پر اعتماد برقرار رہ سکے۔اسی طرح مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو چاہیے کہ بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات کے بعد وہ بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کے ساتھ بات چیت کا راستہ نکالے اور ان کی جو بھی تلخیاں اور شکایات ہیں ان کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے۔ اس سیاسی نظام میں مسلم لیگ(ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر یہ حکومت کرنی ہے اور اسی بنیاد پر یہ نظام چلنا ہے۔اس لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن) کے درمیان تعلقات کی بہتری دونوں جماعتوں کے مفاد میں ہے۔ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر کی بھی ذمہ داری ہے کہ پیپلز پارٹی جن تحفظات کا اظہار کر رہی ہے ان معاملات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کا ازالہ کیا جائے۔
پاکستان اس وقت جن حالات سے دو چار ہیں اس میں حالات کی بہتری کے لیے مفاہمت کی سیاست کی اشد ضرورت ہے۔سیاست پاکستان سے لے کر آزاد کشمیر تک جاتی ہے اور اب جو کچھ آزاد کشمیر کے میں رہا ہے‘ آزاد کشمیر کی سیاست میں مفاہمت درکار ہے۔اس لیے بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی ذمہ داری بنتی کہ ان حالات میں مل بیٹھ کر آزاد کشمیر کے مسائل کا حل نکالیں اور کوئی ایسا راستہ تلاش کریں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو اور حالات کو پرامن بنانے میں بھی مدد کر سکے۔جیسے ہی انتخابات ختم ہوتے ہیں اس کے فوری بعد آزاد کشمیر کے معاملات پر مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو اور حافظ نعیم الرحمن کی جو سفارشات ہیں ان کی بنیاد پر ایک قومی کانفرنس منعقد کی جا سکتی ہے اور مقامی لوگوں کے تحفظات کو دور کرنے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے پہل وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو کرنی ہو گی کیونکہ وہ اس وقت حکومت میں ہے اور ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سب جماعتوں کو اعتماد میں لے کر چلیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments