آئرن، کیلشیم، وٹامنز اور متوازن خوراک خواتین کی اہم ضرورت

تحریر : فضہ جاوید


صحت مند زندگی کی بنیاد متوازن خوراک پر استوار ہوتی ہے۔ جسم کو روزانہ متعدد غذائی اجزادرکار ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنی تمام جسمانی اور ذہنی سرگرمیاں بخوبی انجام دے سکے۔ آئرن، کیلشیم، وٹامنز، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر اور پانی وہ بنیادی اجزاہیں جو جسم کو طاقت، نشوونما اور بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ مگر جدید طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ کے بڑھتے رجحان اور غیر متوازن غذائی عادات کے باعث غذائیت کی کمی کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

آئرن

آئرن انسانی جسم میں ہیموگلوبن بنانے کے لیے ضروری معدنی جزو ہے۔ ہیموگلوبن خون کے ذریعے آکسیجن کو جسم کے تمام حصوں تک پہنچاتا ہے۔ جب جسم میں آئرن کی کمی ہو جائے تو خون کی کمی (اینیمیا) پیدا ہو جاتی ہے جس کی علامات میں مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، چکر آنا، سانس پھولنا، سر درد اور توجہ میں کمی شامل ہیں۔خواتین خصوصاً نوجوان لڑکیاں آئرن کی کمی کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ آئرن کے بہترین ذرائع میں گوشت، کلیجی، مچھلی، انڈے، پالک، دالیں، چنے، لوبیا اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔ آئرن والی غذا کے ساتھ وٹامن سی سے بھرپور پھل استعمال کرنے سے اس کے جذب ہونے کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔

کیلشیم

کیلشیم نہ صرف ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے بلکہ دل کی دھڑکن، اعصابی نظام اور پٹھوں کی کارکردگی کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر جسم کو مناسب مقدار میں کیلشیم نہ ملے تو ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں، دانت متاثر ہوتے ہیں اور بڑھتی عمر میں آسٹیوپوروسس جیسی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دودھ، دہی، پنیر، تل، بادام، سبز پتوں والی سبزیاں اور بعض اقسام کی مچھلی کیلشیم کے بہترین ذرائع ہیں۔ تاہم کیلشیم کے جذب ہونے کے لیے وٹامن ڈی بھی لازمی ہے جو سورج کی روشنی، انڈوں، چربی والی مچھلی اور فورٹیفائیڈ غذاؤں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

وٹامنز

ہر وٹامن جسم میں الگ الگ ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ وٹامن اے بینائی، جلد اور قوتِ مدافعت کے لیے ضروری ہے، وٹامن بی کمپلیکس جسم کو توانائی فراہم کرنے اور اعصابی نظام کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتا ہے، وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا اور آئرن کے جذب میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی طرح وٹامن ای جسم کے خلیات کو نقصان سے بچانے اور جلد کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔پھل، سبزیاں، دودھ، انڈے، مچھلی، ثابت اناج اور خشک میوہ جات وٹامنز کے بہترین قدرتی ذرائع ہیں۔

 خواتین میں غذائی کمی کا مسئلہ

پاکستان میں غذائی کمی عوامی صحت کا اہم مسئلہ بن چکی ہے، خصوصاً خواتین اس سے زیادہ متاثر ہیں۔ نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 کے مطابق 15 سے 49 سال کی عمر کی تقریباً 42.6 فیصد پاکستانی خواتین خون کی کمی (اینیمیا) کا شکار ہیں جبکہ 18.2 فیصد خواتین میں آئرن کی کمی کے باعث خون کی کمی پائی گئی۔اسی سروے کے مطابق 26.5 فیصد خواتین میں کیلشیم کی کمی، 79.7 فیصد میں وٹامن ڈی کی کمی، 44.5 فیصد میں فولک ایسڈ کی کمی، 22.1 فیصد میں زنک کی کمی اور 20.3 فیصد خواتین میں وٹامن بی 12 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار نشاندہی کرتے ہیں کہ غذائی کمی صرف انفرادی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے۔

متوازن خوراک کیوں ضروری ہے؟

متوازن خوراک وہ ہے جس میں تمام ضروری غذائی اجزامناسب مقدار میں موجود ہوں۔ اس میں اناج، دالیں، گوشت یا دیگر پروٹین، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا، پھل، سبزیاںاور مناسب مقدار میں پانی شامل ہونا چاہیے۔متوازن غذا جسم کو توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس، دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔

صحت مند زندگی،چند اصول

روزانہ اپنی خوراک میں کم از کم دو سے تین اقسام کی سبزیاں اور دو موسمی پھل شامل کریں۔ دودھ یا دہی کا استعمال معمول بنائیں، دالیں، چنے اور ثابت اناج زیادہ کھائیں، تلی ہوئی اور زیادہ میٹھی غذاؤں سے پرہیز کریں، مناسب مقدار میں پانی پئیں اور روزانہ کم از کم تیس منٹ چہل قدمی یا ورزش کریں۔ ہلکی دھوپ سے بھی مناسب فائدہ اٹھائیں تاکہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی نہ ہو۔صحت مند معاشرے کی بنیاد صحت مند افراد پر ہوتی ہے، اور صحت مند افراد کی بنیاد متوازن غذا ہے۔ آئرن، کیلشیم، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزاکسی بھی عمر میں جسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اپنی روزمرہ خوراک پر خصوصی توجہ دیں، غذائیت سے بھرپور مقامی غذاؤں کو ترجیح دیں ۔

فضہ جاوید ماہرِ غذائیت ہیں، خواتین 

کی رہنمائی کیلئے لکھتی ہیں

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

برسات میں جلد کی حفاظت کریں

بارش کا موسم اپنے ساتھ خوشگوار ٹھنڈک، سرسبز مناظر اور تازگی لاتا ہے لیکن اس کے ساتھ جلد کے کئی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ فضا میں نمی بڑھ جانے، بار بار بھیگنے، پسینے اور آلودگی کی وجہ سے جلد چکنی، بے جان یا خارش کا شکار ہو سکتی ہے۔ اگر اس موسم میں جلد کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو دانے، فنگس، الرجی اور انفیکشن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔مگر چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر آپ اپنی جلد کو صحت مند، صاف اور تروتازہ رکھ سکتے ہیں۔

آج کا پکوان: برسات کے پکوان

بیسنی روٹی اجزا:بیسن: دو کپ،آٹا: ایک کپ،نمک آدھا چائے کا چمچ،کٹی لال مرچ: آدھا چائے کا چمچ،زیرہ: آدھا چائے کا چمچ کٹا ہوا دھنیا: آدھا چائے کا چمچ،کٹی ہری مرچ :دو عدد،کٹی ہری پیاز: ایک عدد،کٹا ہرا دھنیا: ایک چمچ، تیل :چار چمچ

عندلیب شادانی ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت

57ویں برسی:وہ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، نقاد، محقق، مورخ، مدیر اور معلم کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئے: شادانی صاحب نے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا‘ شاعری میں ان کا رنگ کسی سے متاثر نہیں‘ ساری زندگی اپنی منزل کے وہ خود ہی رہنما رہے

حلقہ ارباب ذوق کے افسانے

ترقی پسند ادبی تحریک کو شروع ہوئے ابھی تین سال ہی ہوئے تھے کہ بزم ’داستان گویاں‘کے نام سے29 اپریل1939ء کو ایک نئے ادبی رجحان(جو آگے چل کرحلقہ ارباب ِذوق کے نام سے مشہور ہوا) کا وجود عمل میں آیا۔

کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔