5اگست کا جلسہ اور پارٹی کے اختلافات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ یہ وفاقی حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے نہیں پارٹی کے اندر اور ورکرز کی جانب سے ہے اور فی الحال اس سے نکلنے کی کوئی صورت نظرنہیں آتی۔
اسی دباؤ کے تحت انہوں نے پانچ اگست کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے جلسے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جلسہ پشاور میں ہورہا ہے جس سے بظاہر وفاق پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا صوبے میں امن وامان او ر انتظامی معاملات کے ساتھ سیاسی طورپر بھی دو محاذوں سے پالا پڑا ہے، ایک طرف علی امین گنڈاپور اور ان کے رفقا ہیں اور دوسری جانب علیمہ خان جو صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھارہی ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے سہیل آفریدی نے یہ حل نکالاکہ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کے روایتی حریف مولانا فضل الرحمن سے ہاتھ ملالیے۔ اس ملاقات کی تپش علی امین گنڈاپور نے محسوس کی تب ہی ان کی جانب سے مولانافضل الرحمن پرتنقیدشروع کردی گئی۔ معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہوا جواب الجواب علی امین گنڈاپور کے ہم خیال ایم پی ایز نے نہ صرف اسمبلی بلکہ پارلیمانی اجلاس میں بھی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ٹف ٹائم دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پارٹی میں موجود مخالفین کے پاس ان کی دکھتی رگ وہ آپریشنز ہیں جو مختلف قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف جاری ہیں۔ اگرچہ ان کارروائیوں کو متنازع نہیں بناناچاہئے تاہم سیاست اسی پر ہورہی ہے۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ کی جانب سے بلائے گئے پارلیمانی اجلاس میں علی امین گنڈاپور کے قریب سمجھے جانے والے ایم پی ایز نے بھی اس طرف اشارہ کیا اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پالیسیوں پر تنقید کی۔اس اجلاس میں جہاں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے پانچ اگست کے جلسے کے لیے فیصلے کئے جانے تھے وہاں بحث کا موضوع دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بنا رہا۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ان اراکین اسمبلی سے پوچھاگیا کہ اگر انہیں ڈرون حملوں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز پر اعتراض ہے تو وہ اس سے قبل کہاں تھے؟ یہ بات درست ہے کہ وہ اراکین اسمبلی جنہوں نے علی امین گنڈاپور کے دورمیں چپ سادھ رکھی تو وہ اب بڑھ چڑھ کر تنقید کررہے ہیں۔ خیبرپختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے لیکن صوبائی حکومت اس کے خاتمے کے لیے ایک پیج پر نہیں۔ اپوزیشن سے زیادہ تنقید پارٹی کے اندر سے کی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صوبائی حکومت ان آپریشنزکی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ختم نہ ہونے کا بڑا سبب سیاسی ہم آہنگی کا نہ ہونا بھی ہے۔ جب حکمران جماعت اس حوالے سے ایک پیج پر نہ ہو تو اس عفریت کاکیسے خاتمہ ممکن ہے؟فی الوقت اس معاملے کو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر دباؤ کے لیے استعمال کیاجارہا ہے۔
دوسرا محاذ علیمہ خان نے کھول رکھا ہے۔ اگرچہ وہ وزیراعلیٰ پر براہ راست تنقید نہیں کر رہیں لیکن انہوں نے جو جلسے یاسٹریٹ موومنٹ خیبرپختونخوا میں شروع کی ہے وہ کافی معنی خیز ہے اور اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شاید انہیں پی ٹی آئی کی قیادت یا صوبائی حکومت پر اعتماد نہیں۔علیمہ خان کی جانب سے دیراورچترال کے بعد گزشتہ دنوں شانگلہ کے علاقوں میں جلسے کئے گئے۔ ان جلسوں میں پارٹی یا صوبائی حکومت کی قیادت شریک نہیں تھی اور یہ جلسے زیادہ مؤثر نہیں تھے لیکن اس سے حکومت پر دباؤ ضرور بڑھا ہے۔
علیمہ خان کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ کے لیے پنجاب کے بجائے خیبرپختونخوا کو چنا گیا کیونکہ خیبرپختونخوا کو پی ٹی آئی کا قلعہ سمجھا جا ہے لیکن اب ورکرزجیسے بددل سے ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسے جلوسوں میں پہلے جیسی کاٹ نہیں رہی۔ گزشتہ ایک سال کے اندر پارٹی میں جو حالات بنے انہوں نے ورکروں کو متنفر کردیا ہے۔ سوشل میڈیا دیکھ لیں پارٹی قیادت تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ گزشتہ روز صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے بھی اس کا اظہار کیاگیا۔ان کا گلہ تھا کہ علیمہ خان کی پکار پرکارکن کیوں نہیں نکل رہے لیکن شاید وہ بھول گئے کہ ماضی میں جب ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں کو اسلام آباد لے جایاگیاتو پارٹی قیادت کیسے مشکل وقت میں کھسک گئی اور کارکنوں کو تنہاچھوڑ دیا۔24 نومبر کا دھرنا ہویا اس سے پہلے کے احتجاج کارکنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر پارٹی قیادت محفوظ پناہ گاہوں میں چلی گئی۔ اس دوران سینکڑوں کارکن گرفتار بھی ہوئے جن میں وہ سرکاری ملازمین بھی شامل تھے جنہیں صوبائی وزرا اور ایم پی ایز ساتھ لے گئے تھے۔ سرکاری مشینری بھی پنجاب کی حکومت نے تحویل میں لے لی جس کا بعد میں کوئی پرسان حال نہ تھا۔ان واقعات کے بعد کارکنوں کا اعتماد پارٹی قیادت سے اُٹھ گیا ہے جس کا اظہار وقتاً فوقتاًسوشل میڈیا پر کیاجارہا ہے۔ رہی سہی کسر پارٹی کے اندر گروپ بندی نے پوری کردی۔ کوئی سینئر رہنمانہیں جس کا تمام گروپوں پر اثرورسوخ ہو اور وہ سب کو ساتھ لے کر چلے۔
ان حالات میں اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپشاور میں کامیاب جلسہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔تنظیمی لحاظ سے پی ٹی آئی کی جو صورتحال ہے ایسے میں کارکنوں کوجمع کرنا اور وفاق پر دباؤ بڑھانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوسکتا ہے۔ جب تک پارٹی ان کی پشت پر کھڑی نہیں ہوگی سہیل آفریدی کبھی بھی دباؤبڑھانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ جس طرح کا ٹف ٹائم انہیں علی امین گنڈاپور کی جانب سے دیاجارہا ہے وہ اپوزیشن بھی نہیں دے سکتی۔ انتظامی طورپر بھی وہ کمزور ثابت ہورہے ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب دے دو ٹوک اندازمیں کہہ دیاگیا ہے کہ سہیل آفریدی کہیں نہیں جارہے لیکن عملی طورپر زیادہ عرصہ تک ان حالات میں ان کا برقراررہنا ممکن نظر نہیں آ تا۔یا تو انہیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کوئی لائحہ عمل دینا ہوگایاپھرکم سے کم صوبے کے انتظامی معاملات ہی بہتر بنانے ہوں گے۔ کسی ایک محاذ پر تو انہیں اپنی صلاحیتیں دکھانی ہوں گی۔
دونوں محاذوں پر ناکامی کی صورت میں انہیں کرسی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے پشاور جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا کہا گیا ہے لیکن ایسے ہی اعلانات ان کی طرف سے پہلے بھی کئے گئے مگر وہ اعلانات ہنوز اعلانات ہی ثابت ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بعض اراکین اسمبلی بھی مایوس نظرآرہے ہیں، جو اس جلسے میں بھی کسی نئے لائحہ عمل کے بتائے جانے کے حوالے سے مایوس ہیں۔ جب تک پی ٹی آئی کو تنظیمی سطح پر مضبوط نہیں کیاجاتا اور صوبائی حکومت کے ساتھ بہتر تعلق نہیں بنایاجاتا وفاق پر دباؤ بڑھانامشکل ہے۔ اراکین اسمبلی اسی طرح بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے نعرے لگاتے رہیں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments