سندھ : نئے صوبے اور پیپلز پارٹی کا ردعمل
سندھ کو کئی صوبوں میں تقسیم کی بات ہر چند دن بعد دہرائی جاتی ہے حالیہ دنوں ایم کیو ایم رہنما اور وفاقی وزیر مصطفی کمال نے ایک بار پھر نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انتظامی بنیاد پر سندھ میں نئے صوبے بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سیاست بھی کرلی،ترمیم بھی پیش کی، اب سڑکوں پر آکر بات کرنے کا وقت آگیا ہے، اختیارات کو نچلی سطح تک لے جانے کے لیے جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں لاقانونیت عروج پر ہے، سندھ حکومت کو گزشتہ 18برس میں 22ہزار ارب روپے ملے، کراچی کو صرف 680 ارب روپے دیے گئے جو کہ تین فیصد سے بھی کم ہے حالانکہ اس رقم کا 90 فیصد سے زائد کراچی نے کما کردیا۔ خالد مقبول صدیقی نے بھی کہا ہے کہ صوبے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم لسانی بنیاد پر کی۔ انہوں نے یہ بات حیدرآباد میں ریلی سے خطاب کے دوران کہی اور اس کی وضاحت یوں کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں یہ تقسیم ہوئی کہ وزیراعلیٰ سندھی ہوگا تو گورنر اردو سپیکنگ ہوگا لیکن شہری اکثریتی پارٹی مہاجر کو گورنر شپ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے سندھ میں دوبارہ مردم شماری کی بات کی اور کہا کہ ہماری صحیح گنتی کی جائے اور اس کی بنیاد پر ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔ بقول چیئرمین ایم کیو ایم سندھ میں دو طبقے بستے ہیں،ایک سوفیصد سندھ کو پالتا ہے اور دوسرا صفر ٹیکس دیتا ہے اور 100فیصد کا مالک بنا بیٹھا ہے۔ سندھ میں نئے صوبے بنانے ی بات ہو اور پیپلز پارٹی کا ردعمل نہ آئے یہ کیسے ممکن ہے۔ خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کے بیانات پر سخت ردعمل میں ناصر شاہ بولے سندھ کی تقسیم کبھی نہیں ہوگی، سندھ کی تقسیم کا راگ الاپنے والوں کو سیاسی تنہائی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ سندھ کا آئینی اور جغرافیائی نقشہ کسی کی ذاتی خواہش پر تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اگر انہیں سڑک پر آنے کا اتنا ہی شوق ہے تو ضرور پورا کرلیں۔ مصطفی کمال پر طنز کرتے ہوئے ناصر شاہ بولے، ہم سے 18سال کا حساب مانگا جارہا ہے، وہ بتائیں کہ سیاسی لانڈری سے دھلنے کا کتنا حساب دیا؟ سندھ کا پیسہ دبئی منتقل کرنے کا دعویٰ بھی مسترد کردیا اور کہا کہ پہلے بہادر آباد کے فنڈز اور اپنی وفاقی وزارتوں کا آڈٹ تو کروائیں۔
ادھر مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد نے کراچی کے علاقے لانڈھی میں جلسہ کیا۔ انہوں نے سندھو دیش کے حامیوں کو بھی خبردار کیا اور بولے کہ سندھو دیش والے سن لیں جو پاکستان بنانا جانتے ہیں وہ تم سے پاکستان بچانا بھی جانتے ہیں۔ آفاق احمد نے بھی نئے صوبوں کے حق میں رائے دی اور کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق نئے صوبے بن سکتے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ بانیانِ پاکستان کی اولاد اپنے ہی ملک میں اجنبی کیوں ہے؟ غداری کی سند تقسیم کرنے کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔ گالی اور گولی نفرت میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ بات چیت ، مکالمہ اتحاد اور قربت بڑھاتا ہے۔ ادھرپاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ نے بھی سندھ حکومت کو نااہل قرار دے دیا۔ پارٹی کے سربراہ صدر الدین راشدی کے مطابق کرپشن اور رشوت سے ہر شعبہ زندگی تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ نااہل حکمرانوں نے صوبے کی زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا۔پارٹی کے تنظیمی اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری سردار عبدالرحیم، اسماعیل شاہ، سید شفقت شاہ، وقار جٹ، جسٹس (ر) آفتاب گرڑ اور دیگر نے شرکت کی۔ صدر الدین راشدی نے ضلعی عہدیداروں کو کونسل اور وارڈ کی سطح تک پارٹی کی تنظیم سازی مکمل کرنے ہدایت کی اورکہا کہ عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کی جائے۔
اب ذرا کچھ بات بارش کی جو لوگوں کے چہروں پر خوشی اور بشاشت لاتی ہے لیکن کراچی کے عوام کی گھبراہٹ بڑھ جاتی ہے۔ شہر کی بیشتر سڑکیں ادھڑی پڑی ہیں، لائنیں ڈالنے کے نام پر گلی محلوں اور مرکزی شاہراہوں تک کو کھود ڈالا گیا ہے جو مہینوں سے استرکاری کی منتظر ہیں۔ اگر ایسے میں زیادہ بارش ہوگئی اور زیادہ پانی آگیا تو نہ جانے شہریوں کا کیا ہوگا۔ کھدی ہوئی جگہیں بڑے بڑے گڑھوں میں بدل جائیں گی اور انسانی جانوں کے زیاں کا خطرہ ب بڑھ جائے گا۔ گو کہ شہر کے بعض نالوں کی صفائی ہوچکی ہے اور دیگر کی بھی جلد ہوجانے کی امید اور دعا ہے لیکن میئر ہوں یا ٹاؤن ناظمین سب کو مل کر استرکاری کو ہنگامی بنیاد پر مکمل کرنا چاہیے کہ کچھ تو حفاظت کا بندوبست ہوجائے۔ بجلی تو چھینٹا پڑتے ہی غائب ہوجاتی ہے، اس پر تو کچھ کہا بھی نہیں جاسکتا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خصوصی رین ایمرجنسی ڈیسک قائم کردیا ہے، انتظامیہ ہائی الرٹ ہے،ٹریفک پولیس کو ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے ہدایت دی جاچکی ہیں، دیکھتے ہیں جب بارش ہوگی تب منصوبہ بندی کس حد تک کارآمد ثابت ہوگی۔
کراچی میں رہائشی علاقوں کو ایک اور خطرہ بھی لاحق ہوگیا ہے۔ رہائشی علاقوں میں اچانک ایل پی جی فلنگ کے غیرقانونی مراکز میں اضافہ ہونا شروع ہوچکا ہے۔ رکشہ، ٹیکسی یا سلنڈروں میں کھلے عام بڑے سلنڈروں سے ایل پی جی بھری جاتی ہے،عملہ بھی غیرتربیت یافتہ ہوتا ہے، سلنڈروں کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں ہوتی۔ سیاسی بیان بازی تو ہوتی رہتی ہے، نئے صوبوں کی بات بھی گاہے بگاہے اٹھتی رہی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہوگا لیکن اگر کسی ایل پی جی فلنگ کے غیرقانونی مرکز سے دوبارہ سانحہ حیدرآباد کی طرح کا کوئی حادثہ رونما ہوگیا تو وہ نہ صرف مدتوں یاد رہے گا بلکہ حکومت کا پیچھا بھی کرتا رہے گا۔ حکومت کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments