میر پور ڈویژن مسلم لیگ (ن) کے نام
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں کے نتائج نے خطے کی سیاست میں نئی صف بندی کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی 4 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ مجموعی نتائج کو دیکھا جائے تو میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی محض چند حلقوں کی جیت نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ضلع بھمبر میں مسلم لیگ (ن) نے تینوں نشستیں جیت کر کلین سویپ کیا۔ نکیال سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عمیر نعیم، کھوئی رٹہ سے ایاز نثار، سہنسہ سے راجہ محمد آصف، چڑہوئی سے راجہ ریاست اور راج محل سے ملک ظفر کامیاب ہوئے جبکہ کوٹلی شہر کی نشست پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین کے حصے میں آئی۔ضلع میرپور کی چار نشستوں میں سے دو پیپلز پارٹی کے یاسر سلطان اور قاسم مجید نے جیتیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری رخسار احمد اور اظہر صادق بھی کامیاب قرار پائے۔ نکیال میں پیپلز پارٹی کا ایک کارکن جاں بحق ہوا جبکہ سماہنی اور بھمبر میں دو پولنگ سٹیشنز پر ناخوشگوار واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن تھا۔انتخابی عمل میں عوام کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی اختلافات اور احتجاج کے باوجود ووٹ کی طاقت پر اعتماد اب بھی موجود ہے۔
میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج میں کئی بڑے سیاسی اَپ سیٹ بھی سامنے آئے۔ سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری طارق فاروق سے 12 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست کھا گئے۔ پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین چڑہوئی کی نشست بچانے میں ناکام رہے تاہم کوٹلی شہر کی نشست پر کامیابی حاصل کرکے وہ اسمبلی میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئے۔پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں پانچ ایسے چہرے بھی شامل ہیں جو پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنیں گے۔ ان میں چڑہوئی سے راجہ ریاست، نکیال سے عمیر نعیم، سہنسہ سے راجہ محمد آصف، سماہنی سے چوہدری محمد عبدالرزاق اور کھوئی رٹہ سے ایاز نثار شامل ہیں۔میرپور ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی کئی وجوہ ہیں۔
پارٹی کارکنوں کی انتخابی مہم اور تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی پنجاب سے جغرافیائی قربت بھی اہم عنصر رہی۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت کے منصوبوں نے میرپور ڈویژن کی سیاست پر اثر ڈالا۔2021ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی شکست کے بعد پارٹی قیادت نے تنظیم نو کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر میں جماعت کو منظم کرنے کی ذمہ داری شاہ غلام قادر کو سونپی۔ شاہ غلام قادر نے اپنی ٹیم کے ساتھ گراس روٹ لیول تک تنظیم سازی پر توجہ دی اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو فعال کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں انہیں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کا صدر مقرر کیا گیا۔میرپور ڈویژن کے حالیہ نتائج کو اس تنظیم سازی کا نتیجہ سمجھاجا سکتا ہے۔ اس کامیابی میں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی کارکردگی سے متاثر ہونے والے ووٹرز کے رجحان کے ساتھ ساتھ شاہ غلام قادر کی تنظیمی حکمت عملی بھی نمایاں نظر آتی ہے۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں شاہ غلام قادر کو شائستگی، رواداری، سنجیدگی اور معاملہ فہمی کے حوالے سے نسبتاً ایک غیر متنازع سیاسی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کی بھاری اکثریت سے کامیابی نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ پارٹی قیادت نے آزاد کشمیر میں تنظیم کی باگ ڈور شاہ غلام قادر کے سپرد کر کے سیاسی طور پر درست فیصلہ کیا۔انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیش کیے گئے سیاسی بیانیے میں بھی پنجاب کے ماڈل کو خاص حیثیت حاصل رہی۔ پارٹی قیادت نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی صورت میں تعمیر و ترقی، شہری سہولیات اور فلاحی منصوبوں کے آغاز کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ میرپور ڈویژن کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ کم از کم اس مرحلے میں ووٹرز کے ایک بڑے حصے کو متوجہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے پہلے مرحلے کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے نتائج کو دھاندلی اور ووٹ چوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔بلاول بھٹو زرداری نے آج مظفرآباد میں ایک بڑے عوامی جلسے کا اعلان کیا ہے جس کا مرکزی نعرہ ’’آزاد کشمیر پر ڈاکہ نامنظور‘‘ رکھا گیا ہے۔مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے انتخابی نتائج سے پیدا ہونے والی سیاسی مایوسی قرار دیا ہے۔ صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر کا کہنا ہے کہ جہاں پیپلز پارٹی کامیاب ہو وہاں انتخابات شفاف اور جہاں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہو وہاں دھاندلی کا الزام عائد کرنا پیپلز پارٹی کا پرانا طرز عمل ہے۔مسلم لیگ (ن) نے میرپور ڈویژن کے نتائج کو عوام کی جانب سے ترقی، گورننس اور سیاسی استحکام کے حق میں فیصلہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق ووٹرز نے حکومت میں رہنے کے باوجود پیپلز پارٹی کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو اس امید پر ووٹ دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی پنجاب کی طرز پر ترقیاتی ماڈل نافذ کیا جائے گا اور تعمیر و ترقی، روزگار اور بہتر گورننس کے حوالے سے آزاد کشمیر کو ایک مثالی علاقہ بنایا جائے گا۔
میرپور ڈویژن کے نتائج نے اگرچہ مسلم لیگ (ن) کو واضح برتری دے دی ہے لیکن آزاد کشمیر کے مجموعی انتخابی منظرنامے کی حتمی تصویر ابھی سامنے نہیں آئی۔ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن و مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر مقیم پاکستان اور اس کے بعد 10 اگست کو راولاکوٹ ڈویژن میں ہونے والی پولنگ فیصلہ کرے گی کہ میرپور ڈویژن کا سیاسی رجحان پورے آزاد کشمیر میں کیا ثابت کرتاہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments