بلوچستان :سرکاری دعوؤں پر سوالیہ نشان
بلوچستان بے یقینی کی ایسی کیفیت میں ہے جہاں ہر دن نئے سانحے کی خبر لے کر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ صوبے میں حکومتی عملداری بتدریج سکڑتی جا رہی ہے۔ دہشت، تشدد اور خوف کی حکمرانی وسیع ہوتی جا رہی ہے۔
تازہ واقعات میں بارکھان میں پولیس افسر کااغوا، مستونگ میں سیشن جج کا قتل، تربت میں مزدور شناخت کی بنیاد پر اٹھا لیے گئے، چاغی میں درجنوں ٹرالر اور گیس باؤزر نذر آتش کر دیے گئے، نوشکی میں چند لمحوں کی فائرنگ نے پورے شہر کو سنسان کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک بلوچستان کے عوام مذمتی بیانات، اجلاسوں اور وعدوں پر گزارا کریں گے؟ اگر ریاست ایک جج، ایک پولیس افسر اور قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو بھی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو عام آدمی کس کے سہارے زندہ رہے؟گزشتہ چند روز کے واقعات نے بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے تمام سرکاری دعوؤں پر سوالیہ نشان لگادیا۔ بارکھان میں ڈی ایس پی مرید بگٹی کی شہادت اور ان کے محافظ رسول بخش کا اغوا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھلا چیلنج ہے۔ ایک ایسا افسر جو خود قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہا تھا،کو شاہراہ سے اتار کر لے جانا مسلح عناصر کی بے خوفی کی علامت ہے۔اسی طرح تربت میں سات مزدوروں کا اغوا اور ان میں سے ایک کا قتل اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ بلوچستان میں مزدور، ڈرائیور اور محنت کش طبقہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ جو لوگ روزی کمانے آئے تھے وہ شناخت، زبان یا علاقے کی بنیاد پر موت اور اغوا کا شکار بن رہے ہیں۔ ایسے واقعات پورے ملک میں خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیتے ہیں۔خضدار میں ایک ترقیاتی منصوبے کے پروجیکٹ منیجر اور ان کی ٹیم کا اغوا ترقیاتی عمل کے لیے خطرات کو واضح کرتا ہے۔
جب انجینئر، ماہرین اور منصوبہ ساز ہی محفوظ نہ ہوں تو سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ ترقیاتی منصوبے کیسے مکمل ہوں گے؟ بلوچستان میں کئی قومی منصوبے سکیورٹی خدشات کے باعث سست روی کا شکار ہیں۔ ادھر چاغی میں قومی شاہراہ این40 پر سات ٹرالر اور گیس باؤ زرز کو آگ لگادی گئی جو محض املاک کو نقصان نہیں بلکہ ملکی معیشت پر حملہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران 100 سے زائد ٹرک، آئل ٹینکر اور گیس باؤ زر جلائے جا چکے ہیں۔ اگر قومی شاہراہیں مسلسل حملوں کی زد میں رہیں گی تو تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار بری طرح متاثر ہوں گے۔ان تمام واقعات کے ساتھ مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ کا قتل ایک ایسا واقعہ ہے جس نے صوبے کے عدالتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب انصاف دینے والے ہی غیر محفوظ ہوں تو عوام کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جج پر حملے کو ریاست پر حملہ قرار دیا ہے مگر عوام پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کب سامنے آئیں گے؟
سیکورٹی اداروں کی جانب سے صوبے کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہیں لیکن مسلح افراد کی کارروائیوں میں جولائی میں شدت آئی۔حکومت کو مستونگ کے قریب کھڈکوچہ اور نوشکی میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کرنا پڑا۔ کھڈکوچہ میں 12 سے 14 گھنٹوں کا کرفیو لگایا گیا جبکہ نوشکی میں 29 جولائی کی رات سے 31 جولائی تک کرفیو لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ ڈی سی نوشکی کی جانب سے جاری کئے گئے اس نوٹیفکیشن میں شہریوں کو اپنے اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ نوشکی سیکورٹی فورسز کو اطلاع ملی ہیں کہ کافی عرصہ سے اس علاقے میں کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کارروائیوں کے بعد رہائشی علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ کوئٹہ، اعلیٰ سطحی اجلاس، پولیس کی استعداد بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی یقین دہانی یقیناً مثبت پیش رفت ہے لیکن بلوچستان کے عوام صرف اجلاسوں اور بریفنگز سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ہر بڑے سانحے کے بعد اجلاس ہوتے رہے ہیں مگر زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ اگر منصوبے پہلے سے موجود تھے تو ان پر عمل درآمد کیوں نہ ہو سکا؟صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی بلوچستان میں ترقی، امن، سرمایہ کاری اور عوامی فلاح پر زور دیا ہے۔ یہ تمام نکات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن امن کے بغیر نہ سرمایہ کاری ممکن ہے نہ ترقیاتی منصوبے کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کو ترقیاتی پیکجز نہیں مو ٔثر گورننس، مضبوط سکیورٹی، شفاف احتساب اور سیاسی اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے آئین اور قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت پورا خطہ شدید بحران کا شکار ہے، عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں، شاہراہیں غیر محفوظ ہیں اور سیاسی ادارے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کے بعض سیاسی مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بلوچستان کے مسائل صرف سکیورٹی آپریشنز سے حل نہیں ہوں گے۔ اس بحران کے سیاسی، معاشی اور سماجی پہلوؤں کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ محض انتظامی یا سکیورٹی نہیں بلکہ بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے مذاکرات، آئینی بالادستی، قومی مکالمے، اعتماد سازی اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں امن صرف بندوق کے ذریعے قائم نہیں ہو سکتا۔
جہاں دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے وہیں سیاسی مفاہمت، نوجوانوں کے لیے روزگار، تعلیم، سرحدی تجارت، انصاف کی فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ریاست کو ایک طرف دہشت گردوں کیخلاف آہنی ہاتھ استعمال کرنا ہوگا تو دوسری طرف بے گناہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ آج بلوچستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مزید غفلت کی گنجائش نہیں۔ اگر پولیس افسر، جج، مزدور، ڈرائیور، انجینئر اور عام شہری سب غیر محفوظ رہیں گے تو اس کے اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں گے، پورا پاکستان اس عدم استحکام سے متاثرہو گا۔صوبہ بلوچستان پاکستان کی جغرافیائی، معاشی شہ رگ ہے۔ اگر یہ خطہ مسلسل خونریزی، خوف اور بدامنی کی لپیٹ میں رہا تو نقصان صرف بلوچستان کا نہیں پورے ملک کا ہوگا۔ اب فیصلہ ہونا چاہیے کہ ہر سانحے کے بعد صرف تعزیتی بیانات جاری کرنے ہیں یا ایسے عملی اقدامات بھی کئے جائیں گے جن سے واقعی یہ کہا جا سکے کہ بلوچستان میں حکومتی عملداری ہے اور عوام خوف کے بجائے امید کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments