تاخیر نہیں!

تحریر : سائرہ جبیں


میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا ’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘ طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔

 ایک منٹ بعد طالب علم نے دوبارہ کہاپروفیسر، کیا میں اپنا جواب بدل سکتا ہوں؟۔ پروفیسر نے کہا ’’ہاں ضرور۔‘‘ اس کے بعد پروفیسر نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا مگر مجھے افسوس ہے کہ تمہارا مریض 40 سیکنڈ پہلے مر چکا ہے۔

ایک شخص جس کو دل کا دورہ پڑا ہوا ہو وہ نہایت نازک حالت میں ہوتا ہے۔ اس کو فوری طور پر دوا کی بھرپور خوراک دینا انتہائی ضروری ہے۔ اگر اس کو فوری طور پر بھرپور دوا نہ ملے تو اگلے لمحہ کا تقاضا صرف یہ ہو گا کہ اس آدمی کو ڈاکٹر کے بجائے گورکن کے حوالے کیا جائے۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ بعض معاملات اتنے نازک ہوتے ہیں کہ وہ بلاتا خیر درست کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں آدمی کو فی الفور قطعی فیصلہ کرنا پڑتا ہے اگر آدمی فوراً بھرپور فیصلہ نہ کر سکے تو وہ یقینی طور پر نا کام رہے گا۔ اگلا لمحہ جو اس پر آئے گا وہ صرف اس کی حسرت میں اضافہ کرنے کیلئے ہو گا نہ کہ اس کی کامیابی کے باب کو مکمل کرنے کیلئے۔

زندگی کے سفر کی مثال ٹرین کے سفر کی ہے۔ ٹرین ہمیشہ مقرر وقت پر اسٹیشن پر آتی ہے اور چند منٹ رک کر دوبارہ آگے کیلئے روانہ ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں صرف وہی شخص ٹرپن میں اپنی جگہ پا سکتا ہے جو ضروری تیاری کے ساتھ ٹھیک وقت پر پلیٹ فارم پر موجود ہو۔ ورنہ ٹرین آئے گی اور اس کو لئے بغیر آگے چلی جائے گی۔ اسی طرح مواقع ہمیشہ اپنے وقت پر آتے ہیں جو کسی کیلئے ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں اور کسی کیلئے محرومی کا اعلان۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

احمد فرازجو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

آ ج 18 ویں برسی: ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی شاعر کی تصویر بنتی ہے: فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود اپنی انقلابی شاعری میں سچ سے گریز پا نہ ہوئے۔ صورتحال کا تجزیہ کرتے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی فکر کے مطابق سوچنے پر مجبور کرتے:وہ اردو شاعری کی ایک عظیم میراث کے امانت دار تھے جس میں میر تقی میر سے لیکر فیض احمد فیض تک مشاہیر اور منفرد لہجے کے شعراء شامل ہیں‘ اور اسی آمیزہ سے ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور نظمیں ثروت مند وتو نگر ہوئیں

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا

جشن سے آگے !

دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔

ماں کی شان

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے دریافت کیا کہ رشتہ داروں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟

ہُد ہُد: قدرت کا حسین اور منفرد پرندہ

ہدہد ایک نہایت خوبصورت، منفرد اور دلکش پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی حضرت سلیمان ؑکے واقعے کے حوالے سے ملتا ہے۔