ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


استاد نے شاگرد سے پوچھا: ارشد! پی ڈبلیو آر سے کیا مراد ہے؟

شاگردفوراً بولا: پکوڑوں والی ریڑھی۔

٭٭٭

جج: بڑے شرم کی بات ہے تم نے ایک ہفتے کے دوران سات چوریاں کیں۔ 

ملزم: جی اس میں شرم کی کون سی بات ہے۔ ہفتے میں سات ہی تو دن ہوتے ہیں آٹھ ہوتے تو آٹھ چوریاں کر کے دکھا دیتا۔

٭٭٭

ایک آدمی (ڈاکٹر سے) : ڈاکٹر صاحب! میرے بیٹے کا قد نہیں بڑھ رہا، اس کا کوئی علاج بتائیں؟۔ 

ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:اس کا نام مہنگائی رکھ دیجئے خود بخود بڑھنے لگے گا۔

٭٭٭

دو بچے فرنیچر اٹھانے میں اپنے والدین کی مدد کر رہے تھے کہ ان کے والد نے دیکھا کہ ایک بچہ کپڑوں کی الماری اٹھانے کی کوشش میں پسینے سے شرابور ہے۔

والد نے بچے کو مخاطب کر کے کہا: میں نے تم سے کہا تھا کہ دونوں بھائی مل کرالماری اٹھانا، تم اکیلے آخر کیوں اٹھا رہے ہو؟۔ 

بچے نے جواب دیا: ابو! بھائی مدد کر تو رہا ہے، وہ الماری کے اندر ہینگر سنبھالے کھڑا ہے۔

٭٭٭

استاد (لطیف سے): تم نے جغرافیہ کا سوال یاد کیوں نہیں کیا؟۔ 

لطیف: جناب! کل ایک سیاستدان کہہ رہا تھا کہ عنقریب ہم دنیا کا نقشہ بدل دیں گے۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حضرت سیّدنا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ

آسمان تصوف کا روشن ستارہ:اسلام کے عظیم مبلغ کا فیضان آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ

حضرت سید علی ہجویریؒ کا عقیدہ توحید

منبع حکمت و معرفت:’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو اکیلا جاننا اور اس اکیلے جاننے پر صحیح علم رکھنا اس کا نام توحید ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، وہ اپنی ذات و صفات میں بے نظیر اور اپنے افعال میں لاشریک ہے۔ موحدین نے اللہ تعالیٰ کو انہیں خوبیوں کے ساتھ جانا اور اس جاننے کو توحید کی یکتائی کہتے ہیں‘‘ (کشف المحجوب، ص245)

کشف المحبوب

حضرت علی ہجویریؒ کا بے مثال تصنیفی شاہکار

ہار نہیں مانی

ہر سال کی طرح اس بار بھی، سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی، گورنمنٹ ہائی سکول کے سرسبز میدان میں دوڑ مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شہر کے مختلف اسکولوں سے منتخب کیے ہوئے بہترین طالب علم حصہ لے رہے تھے۔

ملی نغمہ کہانی !

’’یہ وطن تمھارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے ‘‘

تاخیر نہیں!

میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا ’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘ طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔