کشف المحبوب

تحریر : روزنامہ دنیا


حضرت علی ہجویریؒ کا بے مثال تصنیفی شاہکار

 حضرت سید علی بن عثمان ہجویریؒ کی تصنیف کشف المحجوب برصغیر کی اسلامی، روحانی اور علمی تاریخ کا وہ تابندہ باب ہے جس نے صدیوں سے  اہلِ علم اور اربابِ تصوف کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ آپؒ نے اس شہرہ آفاق تصنیف کے ذریعے تصوف کی حقیقی روح کو قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت سادہ، مدلل اور جامع انداز میں پیش کیا۔ فارسی زبان میں لکھی جانے والی یہ کتاب نہ صرف برصغیر میں تصوف پر لکھی گئی اوّلین اور مستند تصانیف میں شمار ہوتی ہے بلکہ اسے اسلامی روحانیت، اخلاق، تزکیہ نفس اور معرفتِ الٰہی کا ایک ایسا علمی سرمایہ بھی سمجھا جاتا ہے جس کی افادیت ایک ہزار برس گزرنے کے باوجود آج بھی برقرار ہے۔ اس کتاب میں حضرت علی ہجویریؒ نے تصوف کی بنیادی اصطلاحات، صوفیائے کرام کے حالات، روحانی منازل، اخلاقی اقدار اور شریعت و طریقت کے باہمی تعلق کو نہایت متوازن انداز میں بیان کیا، جس کی وجہ سے کشف المحجوب ہر دور میں اہلِ علم، محققین کیلئے ایک معتبر رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔

حضرت علی ہجویریؒ کی مشہور کتاب کشف المحجوب میں تصوف کے اسرار و رموز پر آپؒ نے روشنی ڈالی ہے۔ ہندوستان میں  اسلامی تصوف پر یہ پہلی کتاب ہے۔ سرزمین لاہور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپؒ نے اپنی یہ معرکہ آرا کتاب یہیں تصنیف فرمائی۔ یہ آپؒ کی وہ ایمان افروز، باطل شکن، روح پرور، صراط مستقیم دکھانے والی کتاب ہے جو دنیائے تصوف ومعرفت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس کے مطالعہ سے کئی بھٹکی ہوئی روحیں راہ حقیقت پر گامزن ہو چکی ہیں۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا کوئی مرشد نہ ہو اس کو کشف المحجوب کے مطالعہ کی برکت سے مل جائے گا۔ ہر دور کے محققین، مورخین، مصنفین اور صوفیاء اصفیاء بہ صمیم قلب کشف المحجوب کی فضیلت و اکملیت کے معترف ہیں۔

 حضرت علی ہجویریؒ خود اس عدیم النظیر کتاب کے دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کتاب ایسے افراد کیلئے تحریر کی ہے جو حجاب غنیی میں گرفتار ہیں یعنی جن افراد کے قلوب میں حقائق و معارف کی تنویر موجود تو ہو لیکن وہ نور حق سے پرنور نہیں۔ فارسی کی تمام کتابوں میں جو شہرت اس کتاب کو ملی ہے وہ کسی کے حصہ میں نہیں آئی۔ یہ فارسی زبان میں لکھی جانے والی سب سے پہلی فقید المثال دستاویز ہے اور تصوف میں ایک کامل رہنما ہے۔

مخدوم الاولیاءؒ اسی کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عراق میں دنیا حاصل کرنے اور اسے لٹانے میں پوری طرح مشغول تھا۔جس کی وجہ سے میں قرض دار ہو گیا جس کسی کو بھی کسی چیز کی ضرورت پڑتی وہ میری ہی طرف رجوع کرتا اور میں اس فکر میں رہتا کہ ہر ایک کی آرزو کیسے پوری کروں گا۔ ان حالات میں ایک عراقی شیخ نے مجھے لکھا کہ اے فرزند! اگر ممکن ہو تو دوسروں کی حاجت ضرور پوری کرو مگر سب کیلئے اپنا دل پریشان مت کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا حاجت روا ہے اور اپنے محبوب کے صدقے سب کو دیتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حضرت سیّدنا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ

آسمان تصوف کا روشن ستارہ:اسلام کے عظیم مبلغ کا فیضان آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا سرچشمہ

حضرت سید علی ہجویریؒ کا عقیدہ توحید

منبع حکمت و معرفت:’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو اکیلا جاننا اور اس اکیلے جاننے پر صحیح علم رکھنا اس کا نام توحید ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، وہ اپنی ذات و صفات میں بے نظیر اور اپنے افعال میں لاشریک ہے۔ موحدین نے اللہ تعالیٰ کو انہیں خوبیوں کے ساتھ جانا اور اس جاننے کو توحید کی یکتائی کہتے ہیں‘‘ (کشف المحجوب، ص245)

ہار نہیں مانی

ہر سال کی طرح اس بار بھی، سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی، گورنمنٹ ہائی سکول کے سرسبز میدان میں دوڑ مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شہر کے مختلف اسکولوں سے منتخب کیے ہوئے بہترین طالب علم حصہ لے رہے تھے۔

ملی نغمہ کہانی !

’’یہ وطن تمھارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے ‘‘

تاخیر نہیں!

میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا ’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘ طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔

ناشپاتی: صحت بخش پھل

گرمیوں کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور پھلوں میں ناشپاتی بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ نرم، رسیلی اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے یہ پھل بچوں کو بہت پسند آتا ہے۔