حضرت سید علی ہجویریؒ کا عقیدہ توحید
منبع حکمت و معرفت:’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو اکیلا جاننا اور اس اکیلے جاننے پر صحیح علم رکھنا اس کا نام توحید ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، وہ اپنی ذات و صفات میں بے نظیر اور اپنے افعال میں لاشریک ہے۔ موحدین نے اللہ تعالیٰ کو انہیں خوبیوں کے ساتھ جانا اور اس جاننے کو توحید کی یکتائی کہتے ہیں‘‘ (کشف المحجوب، ص245)
عقیدہ توحید اسلام کا سب سے بنیادی عقیدہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس پر بہت سارے دلائل قائم کئے گئے ہیں۔ حضرت علی بن عثمان ہجویری ؒ نے اس بحث کو ’’کشف الحجاب الثانی فی التوحید‘‘ کے عنوان کے تحت کشف ال محجوب میں صفحہ 244 تا 251 (نسخہ فارسی، تہران) سات صفحات میں بیان کیا ہے۔ حضرت علی ہجویری ؒ نے اس بحث میں آیات قرآنیہ، احادیث مبارکہ، اقوال سلف، حکایات اور ایک شعر سے اپنے موقف پر استشھادات پیش کیے ہیں۔ آپؒ نے چار ذاتی اجتہادات بھی بیان کیے ہیں۔ اسی طرح اس بحث کے آغاز میں توحید کی تعریف اور اقسام بھی بیان کی ہیں۔ اس بحث میں آپؒ نے اپنی تصنیف ’’الرعایۃ بحقوق اللّٰہ‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل درج ذیل ہے۔
تعریف
حضرت علی ہجویریؒ نے توحید کی جو تعریف بیان کی ہے اسے آپؒ نے حقیقت توحید کا نام دیا ہے۔ ’’توحید کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کو اکیلا جاننا اور اس اکیلے جاننے پر صحیح علم رکھنا اس کا نام توحید ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے، وہ اپنی ذات و صفات میں بے نظیر اور اپنے افعال میں لاشریک ہے۔ موحدین نے اللہ تعالیٰ کو انہیں خوبیوں کے ساتھ جانا اور اس جاننے کو توحید کی یکتائی کہتے ہیں‘‘ (کشف ال محجوب، ص245)۔
توحید کی اقسام
حضرت علی ہجویریؒ نے توحید کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ (1) حق تعالیٰ کی توحید اسی کیلئے یہ حق تعالیٰ کا علم ہے کہ وہ اکیلا ہے۔ (2) حق تعالیٰ کی توحید مخلوق کیلئے وہ خدا کا حکم ہے جو بندوں کی توحید کے ساتھ خاص ہے کہ اس وحدہ لا شریک نے بندے کے دل میں توحید پیدا فرمائی۔ (3) مخلوق کی توحید حق تعالیٰ کیلئے، وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ مخلوق کا علم ہے۔ لہٰذا جب بندہ حق تعالیٰ کے ساتھ عارف ہو جاتا ہے تو وہ اس کی وحدانیت پر حکم کر سکتا ہے۔ (کشف المحجوب، ص245)
آیاتِ قرآنیہ
سیّد ہجویریؒ نے اس ضمن میں تین آیات قرآنیہ کو بطور استشھاد ذکر کیا ہے۔
(1) ’’اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے‘‘ (البقرہ: 163)۔ یہ آیت قرآن حکیم کی عظیم ترین آیتوں میں سے ہے۔ اس کے پہلے ٹکڑے میں توحید کا ثبوت، دوسرے میں شرک کی نفی اور تیسرے میں دونوں کی دلیل ہے۔ یعنی جب اسی کی وسیع رحمت پر تمہارے وجود، تمہاری بقا، نشوؤنما اور تمہارے آرام و راحت کا دارومدار ہے تو اس کے علاوہ اور کون ہے جو معبود بننے کا حقدار ہو۔ (ضیاء القرآن، ج1،ص111)۔ اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کا معنی یہ ہے کہ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور عبادت کا مستحق ہونے میں وہ متفرد ہے اور اس کی کسی صفت میں کوئی اس کا مثیل، شبیہ اور نظیر نہیں ہے۔ (تبیان القرآن، ج1، ص652)
(2) ’’فرما دیجیے! وہ اللہ ایک ہے‘‘ (الاخلاص: 1)۔ اللہ تعالیٰ واحد اور احد ہے، اس جیسا کوئی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا کوئی ہمسر نہیں، اس کا کوئی ہم جنس نہیں اور اس کے سوا کسی میں الوہیت نہیں۔ (تفسیر القرآن العظیم، 5 718/ )
٭ …اللہ تعالیٰ کی ذات کی حقیقت خود اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس کی صفات عین ذات ہیں، اس سے جدا نہیں ہیں بلکہ صرف عقلی اعتبار سے فرق ہے، وہ اکیلا ہی ہے کثرت اعتباری ہے، جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے۔ (تفسیر ابن عربی، ج2، ص 438)
٭ …وہ ذات ربوبیت و الوہیت میں صفات عظمت و کمال کے ساتھ موصوف ہے۔ فعل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں۔ (خزائن العرفان فی تفسیر القرآن، ص1098)
٭ …اس کی ذات محض واحد نہیں بلکہ احد ہے جس میں کسی حیثیت سے بھی کثرت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ وہ اجزاء سے مرکب وجود نہیں ہے جو قابل تجزیہ و تقسیم ہو، جو کوئی شکل و صورت رکھتا ہو، جو کسی جگہ میں رہتا ہو ، جس کا کوئی رنگ ہو، جس کے کچھ اعضا ہوں، جس کی کوئی سمت اور جہت ہو اور جس کے اندر کسی قسم کا تغیر و تبدل ہوتا ہو۔ تمام اقسام کی کثرتوں سے بالکل پاک اور منزہ وہ ایک ہی ذات ہے جو ہر لحاظ سے اَحَد ہے۔( تفہیم القرآن، ج2، ص 537 )
(3) ’’دو خدا نہ بناؤ، وہ ایک ہی معبود ہے‘‘ (النحل :51)
مسائل و نصائح
جب الوہیت میرے ساتھ خاص ہے تو جو اس کے لوازم ہیں کمالِ قدرت وغیرہ وہ بھی میرے ساتھ ہی خاص ہوں گے تو انتقام وغیرہ کا خوف مجھ ہی سے چاہیے اور شرک انتقام مستدعی ہے، پس شرک نہ کرنا چاہیے (معارف القرآن، ج5، ص353)۔
٭ …جب تمام آسمانی و زمینی مخلوق ایک خدا کے سامنے بے اختیار سر بسجود اور عاجز و مقہور ہے، پھر عبادت میں کوئی دوسرا شریک کہاں سے آ گیا۔ جو سارے جہان کا مالک و مطاع ہے تنہا اسی کی عبادت ہونی چاہیے اور اسی سے ڈرنا چاہیے۔( تفسیر عثمانی، ص361)
احادیث مبارکہ
حضرت علی ہجویریؒ نے توحید کے بیان میں احادیث نبویﷺ کو اپنے موقف پر دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا کر راکھ کر دیا جائے اور اس کی راکھ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھی خشکی میں اڑا دی جائے اور آدھی سمندر میں بہا دی جائے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ اس (جان) پر قادر ہو گئے تو اسے ایسا عذاب دیں گے کہ تمام جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ جب وہ مر گیا تو اس کے گھر والوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی۔ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم فرمایا کہ اس کی راکھ جمع کر دو تو اس نے ساری راکھ جو کچھ روئے زمین کی خشکی میں تھی اکٹھی کر دی اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے بھی سمندروں کی گہرائیوں میں موجود ساری راکھ جمع کر دی۔ (پھر اسے گویائی اور حیات دے کر) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے عرض کی: اے میرے رب! آپ کے ڈر کی وجہ سے اور آپ حقیقت خوب جانتے ہیں (کہ میں نے آپ کے خوف سے ہی ایسا حکم دیا تھا) اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی‘‘ (صحیح بخاری، رقم 3481)۔
’’میں تم میں سے کسی کی مانند نہیں ہوں، میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں، وہ مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے‘‘ (صحیح بخاری: 7242)۔حضرت علی ہجویریؒ نے اس حدیث کے مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: یعنی میری زندگی اور پائندگی اسی ذات سے ہے۔ (کشف المحجوب، ص249)
اقوالِ سلف
حضرت علی ہجویریؒ نے توحید کے بیان میں آئمہ و صوفیاء کے کچھ اقوال کو بھی اپنے موقف کی تائید میں ذکر کیا ہے۔ حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں ’’اصل توحید یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ اپنی قدرت کی گزرگاہ میں اپنی تدبیر کا تصرف اس پر جاری فرمائے تو وہ خدا کے سامنے ایک پتلا بن جائے، دریائے توحید میں اپنے اختیار و ارادہ سے خالی ہو جائے، اپنے نفس کو فنا کرے اور لوگوں کے بلانے پر کان نہ دھرے اور ان کی طرف التفات نہ کرے۔ محل قربت میں اپنی حس و حرکت ختم کر دے اور وحدانیت کی معرفت و حقیقت کے سبب وہ حق کے ساتھ قائم اور حق نے جو اس کیلئے ارادہ فرمایا اسے قبول کرے تاکہ اس محل میں بندے کا خیر پہلے کی مانند ہو جائے اور وہ ایسا ہو جائے کہ جو کچھ اپنی ہستی سے پہلے ہے‘‘ (کشف المحجوب، ص248)۔
ابوالحسن حصری ؒ کا قول نقل کرتے ہیں ’’توحید میں ہمارے پانچ اصول ہیں۔ ایک حدث کا اٹھانا، دوسرے قدم کا ثابت کرنا، تیسرے وطنوں کو چھوڑنا، چوتھے بھائیوں کی جدائی، پانچویں بھول جانا جو جانا یا نہ جانا۔ لیکن حدث کے اٹھانے کا مطلب توحید کے نزدیکی (مقارنت) سے محدثات کی نفی ہے اور خدا کی ذات قدس سے حوادث کو محال جاننا ہے اور اثبات قدم کا مطلب اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ سے ہونا مانا ہے، اس کی تشریح حضرت جنیدؒ کے قول میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور وطنوں کو چھوڑنے سے مطلب نفس کی الفتوں، دل کی راحتوں اور طبیعت کی قرار گاہوں سے ہجرت کرنا اور چھوڑنا ہے اور مریدوں کیلئے دنیاوی رسموں، بلند مقاموں، عزت کی حالت اور اونچی منزلتوں سے ہجرت کرنا ہے اور مفارقت برادران یعنی بھائیوں کی جدائی سے مطلب لوگوں کی صحبت سے کنارہ کرنا ہے۔ ہر وہ خطرہ جو موحد کے دل پر غیر کے اندیشہ سے لاحق ہو حجاب اور آفت ہے۔ اور جس قدر دل میں غیر کا اندیشہ غالب ہو اسی قدر وہ محجوب ہوتا ہے۔
اس لیے کہ تمام امتوں کا اجماع ہے کہ توحید، تمام ہمتوں کا جمع کرنا ہے اور غیر کے ساتھ آرام پانا ہمت کا تفرقہ ہے۔ جاننے یا نہ جاننے کو بھول جانے کا مطلب توحیدمیں یہ ہے کہ مخلوق کا علم یا تو خوبی سے ہو گا یا کیفیت سے یا جنس سے ہو گا یا طبیعت سے اور مخلوق کا جو علم بھی، حق تعالیٰ کی توحید میں ثابت کرو گے توحید اس کی نفی کرے گی اور جو کچھ اپنے جہل سے ثابت کرو گے وہ اپنے علم کے برخلاف ہو گا۔ کیونکہ توحید میں توجہل ہے ہی نہیں۔ اور توحید کے متحقق ہونے میں علم، تصرف کی نفی کے بغیر درست نہیں ہو گا۔ اور علم و جہل تصرف کے بغیر نہیں، ایک بصیرت پر ہے اور دوسرا غفلت پر ہے۔ (کشف المحجوب، ص247،248)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments