ہار نہیں مانی

تحریر : دانیال حسن چغتائی


ہر سال کی طرح اس بار بھی، سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی، گورنمنٹ ہائی سکول کے سرسبز میدان میں دوڑ مقابلہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں شہر کے مختلف اسکولوں سے منتخب کیے ہوئے بہترین طالب علم حصہ لے رہے تھے۔

 میدان تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، ہر طرف رنگ برنگے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ 

سلمان اور عمر دونوں گہرے دوست تھے اور ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ عمر شروع ہی سے کھیلوں میں بہت اچھا تھا، جبکہ سلمان پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس بار دوڑ کے اس مقابلے کیلئے بے حد پرجوش تھا۔ دونوں میدان میں پہنچے تو ہر طرف تالیوں کی گونج تھی۔ تمام کھلاڑی اپنی اپنی پوزیشن سنبھال کر کھڑے ہو گئے۔ سب کی نظریں سامنے لگی سرخ پٹی پر تھیں، جس تک پہنچ کر کامیابی کا تاج اپنے سر سجانا تھا۔

ریفری کی سیٹی بجی اور تمام لڑکوں نے دوڑنا شروع کیا۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی سرتوڑ کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ تماشائیوں کے ساتھ ساتھ سلمان بھی اپنے دوست عمر کی حوصلہ افزائی کیلئے زور سے نعرے لگا رہا تھا۔ عمر بہت خوب تیز دوڑ رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پہلی تین پوزیشنز میں ضرور جگہ بنا لے گا۔

مگر ابھی دوڑ آدھے راستے تک ہی پہنچی تھی کہ اچانک عمر کی رفتار دھیمی ہونے لگی۔ اس کا سانس بری طرح پھول رہا تھا اور چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ اس نے اپنی ہمت جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن نقاہت اس پر غالب آ گئی اور وہ لڑکھڑا کر میدان میں نیچے گر پڑا۔

یہ دیکھ کر سلمان تڑپ اٹھا، وہ دوڑ کر ٹریک کے قریب آیا اور وہیں سے اونچی آواز میں چلایا، عمر! جلدی اٹھو، دوڑو میرے بھائی! تم یہ کر سکتے ہو!

عمر نے زمین پر بیٹھے ہوئے بے بسی سے سلمان کی طرف دیکھا، اپنا ہاتھ ہلایا اور پھولتے ہوئے سانس کے ساتھ کہا، نہ بابا! میں اب مزید نہیں دوڑ سکتا، جان ہے تو جہان ہے، مجھے اپنی زندگی پیاری ہے۔ 

کچھ ہی دیر میں دوڑ ختم ہو گئی اور جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کر دیے گئے۔ مقابلہ ختم ہونے کے بعد سلمان اور اسکول کے دیگر ساتھی عمر کے پاس آئے، جو اب تک میدان کے کونے میں بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔ سلمان نے افسردہ لہجے میں کہا، افسوس ہوا کہ تم دوڑ ہار گئے۔ ہمیں پوری امید تھی کہ تم اس بار ٹرافی جیتو گے۔

عمر کے چہرے پر مایوسی کے بجائے مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنے دوستوں کو دیکھا اور بولا، افسوس کی کیا بات ہے؟ میں اگلے سال دگنی تیاری کروں گا اور یہ دوڑ جیت لوں گا۔ ایک بار ہارنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں نے ہمیشہ کیلئے ہار مان لی ہے۔

سلمان نے حیرت سے پوچھا، مگر تم اس بار دوڑتے ہوئے کیوں گر پڑے؟ تمہاری تیاری تو بہت اچھی تھی۔

عمر نے لمبا سانس لیا اور جواب دیا، میری طبیعت پچھلے دو دن سے کچھ خراب تھی اور مجھے ہلکا بخار تھا، مگر میں نے پھر بھی ہمت کر کے دوڑ میں حصہ لیا تاکہ اپنے اسکول کی نمائندگی کر سکوں۔ تم لوگ فکر مت کرو، ان شاء اللہ اگلے سال میں یہ دوڑ ضرور جیتوں گا۔

عمر کی زبان سے نکلے ہوئے ان پرعزم الفاظ نے وہاں موجود تمام دوستوں کے دل جیت لیے۔ سلمان نے آگے بڑھ کر عمر کا ہاتھ تھاما اور بولا، ہمیں تم پر فخر ہے عمر! تم دل نہیں ہارے۔

 اس کے بعد عمر نئے عزم اور امید کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا، اس کے دوستوں کو یقین تھا کہ اگلا سال عمر کی کامیابی کا سال ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ملی نغمہ کہانی !

’’یہ وطن تمھارا ہے ، تم ہو پاسباں اس کے ‘‘

تاخیر نہیں!

میڈیکل کالج کا پروفیسر زبانی امتحان لے رہا تھا۔ اس نے طالب علم سے پوچھا ’’تم ان میں سے کتنی گولیاں اس شخص کو دو گے جس کو دل کا دورہ پڑا ہو‘‘ طالب علم نے جواب دیا ’’چار‘‘۔

ناشپاتی: صحت بخش پھل

گرمیوں کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور پھلوں میں ناشپاتی بھی ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ نرم، رسیلی اور میٹھے ذائقے کی وجہ سے یہ پھل بچوں کو بہت پسند آتا ہے۔

علم اک لازوال دولت ہے

علم اک لازوال دولت ہے،علم اک بے مثال نعمت ہے

ذرا مسکرائیے

استاد نے شاگرد سے پوچھا: ارشد! پی ڈبلیو آر سے کیا مراد ہے؟

پہیلیاں

رکھی تھی چپ چاپ وہ کیسی،لگتی تھی بس ایسی ویسی