نئے صوبوں کی بحث نے ماحول گرما دیا!
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پر اسرار موت معمہ بنے ہوئی ہے۔ آئی بی اے کراچی سے گریجویٹ اس نوجوان کی لاش پر اسرار حالات میں گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
لاش ملنے سے ایک روز قبل وہ رات گئے اپنے گھر سے نکلا، دکان سے جاکر اپنے سکیورٹی گارڈ کا پستول لیا اور پھر آن لائن ٹیکسی میں گلستانِ جوہر کے اس مقام تک پہنچا جہاں سے اس کی گولی لگی لاش ملی جس پر بظاہر جلنے یا تشدد کے نشانات موجود تھے۔ اس مقام سے کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی گئیں اور اب تک ایک درجن سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ موت سے قبل میر رضا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ کیے گئے اور جو پستول وہ اپنے ساتھ لایا تھا وہ موقع سے نہ مل سکا تاہم اس کا ہولسٹر ضرور مل گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان آن لائن ٹریڈنگ میں کافی سرمایہ لگا کر اس میں نقصان کر بیٹھا تھا اور کئی لوگوں کا مقروض تھا۔ پوسٹ مارٹم تو کر لیا گیا ہے تاہم موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے کیمیکل ایگزامینیشن کی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس نوجوان کی موت پر سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہے جبکہ اس کے اہلخانہ بھی پولیس تفتیش سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے جس کے دیگر اراکین میں ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ عثمان سدوزئی شامل ہیں۔ ابھی تک اس موت کو قتل یاخودکشی ظاہر نہیں کیا گیا لیکن بظاہر لگتا ہے کہ پولیس قتل کے پہلو پر اپنا وزن ڈالنے کو کم ہی تیار دکھائی دیتی ہے۔
تاہم اس پر اسرار موت پر کئی سوال ذہنوں میں آتے ہیں، اگر یہ قتل نہیں اور خودکشی ہے تو اس نوجوان کے پاس خودکشی کرنے کو کئی جگہیں تھیں وہ کیوں گھر یا اپنے کاروبار کے مقام سے دور جاکر ایک سنسان مقام پر طور پر یہ کام کرے گا۔ دوسرا یہ کہ جب اس کی لاش ملی تو اس کے جسم پر جھلسنے جیسے نشانات کیسے پائے گئے؟ کیا پوسٹ مارٹم کسی جونیئر ڈاکٹر نے کیا اور اس اہم کیس کے لیے پولیس سرجن نے خود لاش کا معائنہ نہیں کیا؟ منظر عام پر آنے والی وڈیوز میں پہلے ایک موٹرسائیکل کو جائے وقوعہ پر رکتے دیکھا گیا جبکہ ایک کچرا چننے والے کو بھی لاش کے قریب دیکھا گیا، کیا ان میں سے کسی کو حراست میں لے کر اس سے تفتیش کی گئی؟ موبائل سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ڈی ایکٹیویٹ تو کردئیے گئے ‘ کیا موبائل فون کے فارنزک سے تحقیقاتی ٹیم اسے ریکور نہیں کرسکتی؟ بظاہر یہ کیس اتنا سادہ نظر نہیں آتا البتہ کیمیکل اگزامینیشن کی رپورٹ اور تحقیقاتی کمیٹی کی تفتیش ہی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔
سندھ کی سیاست میں ایک طرف نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث نے ماحول گرم کر رکھا ہے تو دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر اتوار کو ہونے والے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوالات اٹھادیئے ہیں کہ کراچی کے مینڈیٹ اور اس کے مسائل حل کرنے کے دعوے کرنے والے جب اپنے اختلافات ہی نہیں نمٹا پارہے تو شہریوں کے مسائل کے ٹھوس حل میں کیسے معاون ثابت ہوسکتے ہیں؟وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی بات کا ملک بھر میں چرچا ہے۔ لوگ اس کے حق میں دلائل دے رہے ہیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کے باعث نئے یونٹس یا صوبے جو بھی نام دے لیں ‘کا قیام ضروری دکھائی دیتا ہے، اس سے اختیارات کی منتقلی کے ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہوگا۔ اسی طرح وسائل کی تقسیم بھی منصفانہ بنیاد پر ہوسکے گی۔ البتہ پاکستان پیپلز پارٹی نے یہ کہتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کیا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق نئے صوبوں کی تجویز گھسی پٹی ہے، سندھ کے عوام اسے قبول نہیں کریں گے۔ صوبائی وزیر محنت سعید غنی بولے کہ صوبے کسی کے کہنے سے نہیں بن سکتے، آئین کے تحت ہی چلنا ہوگا اور اسی کے تحت صوبے بن سکتے ہیں۔
نئے صوبے کے لیے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کرنا ہوگی، قرارداد دوتہائی اکثریت سے منظور ہوگی تب صوبے بنیں گے۔ پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ ون یونٹ کا تجربہ کیا جاچکا ہے۔لیکن مصطفی کمال کے بقول آئین کوئی صحیفہ نہیں کہ تبدیل نہیں ہوسکتا یا اس میں ترمیم نہیں کی جاسکتی، یہی جمہوریت ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے بھی صوبوں کی تقسیم کی بات کو غداری کہنے والوں کو لتاڑ دیا اورکہا کہ تقسیم کی بات کو غداری کہنے سے بڑی غداری نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ناقابلِ تقسیم چیز صرف پاکستان ہے، دھرتی ماں صرف پاکستان ہے، نئے انتظامی یونٹس پر پیپلز پارٹی سے زیادہ ذمہ داری ریاست کی ہے۔فاروق ستار نے نئے انتظامی صوبوں کے معاملے پر آئین کے تحت عوامی ریفرنڈم کی بات کی۔تاہم مسلم لیگ فنکشنل سندھ نے نئے صوبوں کی مخالفت کی، فنکشنل لیگ سندھ کے سیکرٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کو پہلے بھی دوٹوک انداز میں مسترد کیا تھا آج بھی اسے مسترد کرتے ہیں۔
ادھرصوبے میں جرائم روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔چند روز قبل میرپورخاص میں کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا دلخراش واقعہ پیش آیا۔ بچیوں کی عمریں دس اور گیارہ سال ہیں۔ حکومت کو خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے معاملات پر سختی دکھانی چاہیے،ملزمان کو عبرتناک سزا دینی چاہیے اور اگر قانون میں کہیں سقم ہے تو اسے دور کیا جانا چاہیے تاکہ ایسے ملزمان سزا سے نہ بچ سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments