وزیرداخلہ کے خطاب پر سیاسی بھونچال

تحریر : سلمان غنی


نئے صوبے، گیند بڑی جماعتوں کی کورٹ میں:(ن )لیگ محاذ آرائی کے موڈ میں نہیں

وزیر داخلہ محسن نقوی کے گزشتہ جمعرات اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کے بعد یوں لگتا ہے پاکستان کی سیاست کسی بھونچال کا شکار ہو گئی ہے۔سیاسی بحث نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی کے ساتھ جڑ گئی ہے اور اس معاملے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کافی دباؤ میں نظر آرہی ہیں، اس لیے کہ دونوں جماعتوں کی سیاست موجودہ حالات میں سمجھوتوں کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ٹکراؤ کی پالیسی ان کے حق میں نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے اندر سے ایسی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں اور اس پر بحث ہونی چاہیے مگر ایک طبقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ آئین میں جو مقامی حکومتوں کے نظام کا تصور دیا گیا ہے اس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اختیارات دیں تاکہ مقامی سطح پر گورننس کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ لیکن موجودہ حالات میں نئے صوبوں کی حمایت بھی خاصی سرگرم ہو چکی ہے اور ہر طرف سے یہ آوازیں آ رہی ہیں کہ گورننس کے نظام کی بہتری کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے میں حمایت کی جائے۔  اگرچہ ابھی تک دونوں نے کھل کر اس منصوبے کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ نہیں کیا البتہ ان جماعتوں کے اندر سے نئے صوبوں کی حمایت اور مخالفت میں انفرادی آوازیں سننے کو مل رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں دونوں جماعتوں کو مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا کہ کیسے ان مسائل سے نمٹا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نئے صوبے بننے ہیں تو یہ بات تمام جماعتوں کی متفقہ رائے کے ساتھ سامنے آنی چاہیے اور یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ یہ معاملہ سیاسی ڈکٹیشن کے طور پر سامنے آیاہے کیونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس پر کسی قسم کی سیاسی تقسیم قومی مفاد میں نہیں۔نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملہ کو کسی بھی سطح پر متنازع نہیں ہونا چاہیے جبکہ مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی بھی اس وقت ہماری ترجیح ہونی چاہیے کہ یہ نظام مقامی سطح پر لوگوں کے لیے افادیت کا سبب بن سکتا ہے اور ان کے مسائل کو حل کر سکتا ہے۔دوسری جانب نئے صوبوں کی تشکیل سے قبل اس معاملے کے سیاسی، انتظامی، قانونی اور مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لینا چاہیے کہ نئے صوبے ہمارے گورننس کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔

نئے صوبوں کے حوالہ سے پیدا شدہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ کی جاتی عمرہ میں ہونے والی مشاورت کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں پارٹی کے لیڈر سابق وزیراعظم نوازشریف، وزیراعظم شہبازشریف، وزیراعلیٰ مریم نواز اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے شرکت کی اور سسٹم کی ناکامی کے حوالہ سے وزیر داخلہ کے بیان اور نئے صوبوں کی ضرورت و اہمیت کے حوالہ سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالہ سے بعض تحفظات پائے جاتے ہیں لیکن ملک کے اندر بڑھتے ہوئے مسائل، گورننس کی صورتحال اور بڑھتی آبادی سمیت دیگر مسائل پر سیاسی جماعتوں میں ایسی آراء بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ہمیں اپنے ملک کو جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور گورننس کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے پیش رفت کرنی چاہئے۔ ویسے تو مسلم لیگ( ن) کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کیلئے قراردادیں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور یہ قراردادیں پاس کرواتے وقت بھی ایسی ہی صورتحال طاری تھی جیسی اب ہے، لہٰذا جاتی عمرہ کی مذکورہ نشست کو اس حوالہ سے اہم قرار دیاجا رہا ہے کہ اس میں کسی کو ٹارگٹ کرنے یا نئے صوبوں کے حوالہ سے کسی ردعمل کے اظہار کی بجائے حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا اور اطلاعات یہ ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے اپنی جماعت اور حکومتی ذمہ داران کو ایک طرف تو اپنے کام سے کام رکھنے کی ہدایت کی تو دوسری طرف نئے صوبوں کی تجویز پر تفصیلی غورو غوص کا عندیہ بھی دیا کہ دیکھا جائے کہ نئے صوبوں کی تجویز کس طرح سے قابلِ عمل ہے اور پارٹی کو اس حوالہ سے کیا مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔

 ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ( ن) لیگ اس حوالہ سے پیپلزپارٹی کی حکمت عملی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ پیپلزپارٹی اس مرحلہ پر صوبوں کے حوالہ سے کیا فیصلہ کرتی ہے کیونکہ اس وقت تک پیپلزپارٹی ہی زیادہ تحفظات کا اظہار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور یہاں تک کہا گیاہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے لیکن ہم اپنی سیاست کو قربان کرنے کو تیار نہیں۔ البتہ پیپلزپارٹی کے حوالہ سے حتمی فیصلہ صدر آصف علی زرداری کا ہوگا جن کے حوالہ سے عمومی رائے یہ ہے کہ وہ اہم ایشوز پر جذباتی بیانات سے زیادہ حقیقت پسندانہ طرز ِعمل اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ ویسے تو ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے مرحلہ پر تو آئینی ترمیم ہی صوبوں کے حوالہ سے ترجیح ہو گی اور سیاسی جماعتوں کو اس حوالہ سے مثبت کردار کی ادائیگی پر زور دیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ پلان بی کے طور پر ریفرنڈم کا آپشن بھی زیر غور ہے جس میں گڈ گورننس کی فراہمی کے عمل کو جواز بنایا جائے گا، لہٰذا نئے صوبوں کے فیصلہ کے حوالہ سے آئندہ چند ہفتوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

شہرِ اقتدار میں ہلچل کیوں؟

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر گزشتہ کئی ماہ سے کسی نہ کسی صورت بحث جاری تھی، تاہم اس میں سنجیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ جمعرات وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔

نئے صوبوں کی بحث نے ماحول گرما دیا!

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پر اسرار موت معمہ بنے ہوئی ہے۔ آئی بی اے کراچی سے گریجویٹ اس نوجوان کی لاش پر اسرار حالات میں گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں!

سوات،ہنگو،دیر،اورکزئی،وزیرستان،ڈی آئی خان اورلکی مروت کے علاقوں کو دہشت گردی کی آگ نے لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن صوبائی حکومت پانچ اگست کے جلسے میں مصروف رہی جبکہ وفاقی حکومت کشمیر کے انتخابات میں۔

چھوٹے یونٹس، انتظامی بہتری کیلئے ناگزیر

گزشتہ دنوں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتی رٹ کمزور نظر آ رہی ہے جبکہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔

مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری

مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کی 21 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج نے علاقے کی آئندہ سیاست کی سمت بڑی حد تک واضح کر دی ہے۔

مائیں بچوں کی تعلیم میں کیسے مدد کر سکتی ہیں؟

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو مضبوط بنانے میں ماں کا کردار سب سے نمایاں ہوتا ہے۔ ماں بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔