رئیس فروغ :میدان غزل کے شہسوار
44 ویں برسی:انہوں نے روایتی موضوعات کو اس خوبصورتی سے قلم بند کیا کہ انہی میں جدت کا پہلو نمایاں ہو گیا: رئیسؔ کچھ غزلیں ایسی ہیں کہ ان میں گیتوں کا لہجہ دیکھنے کو ملتا ہے‘ بحریں رواں ہیں اور شاعری مترنم‘ یوں لگتا ہے جیسے جھرنا بہہ رہا ہے
رئیس فروغ کا تعارف
محمد یونس حسن نام اور فروغ تخلص تھا۔ 15فروری1926ء کو مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ دوران تعلیم محفلوں، انجمنوں اور مشاعروں میں شرکت کے باعث رئیس فروغ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ شروع میں انہوں نے قمر مراد آبادی کی شاگردی اختیار کی۔قیام پاکستان کے بعد یہاں آگئے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازم ہوئے، ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے اور سکرپٹ رائٹرمقرر ہوئے۔آخری وقت تک اسی ادارے سے وابستہ تھے۔ رئیس فروغ نے غزلوں کے علاوہ بچوں کے لیے نظمیں اور نثری نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا مجموعہ’’ ہم سورج چاند ستارے‘‘ کے نام سے اور نثری نظموں اور غزلیات کا مجموعہ ’’رات بہت ہوا چلی‘‘ کے نام سے اشاعت پزیر ہوا۔5اگست1982ء کو رئیس فروغ کراچی میں انتقال کرگئے۔
جدید غزل گو شعرا نے نئی لسانی تشکیلات، استعاروں کا منفرد و برتائو، پیکر تراشی، تمثال کاری، منظر نگاری، موضوعات کی جدید پیشکش، نت نئی علامتوں اور تلازموں کے بل پر اُردو غزل میں نیا لہجہ لانے کی کوشش کی جس کی بنا پر اردو غزل میں فکری اور فنی طور پر تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ اس طرح اردو غزل کلاسیکی لہجے سے آزادی حاصل کر سکی۔جدید غزل کے شعرا میں رئیس فروغ ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اگرچہ رئیس نے دیگر اصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی مگر غزل ان کا خاص علاقہ تھی جس میں وہ اپنی تخلیقی طبیعت کے تحت کئی بدلائو لائے۔ غزل کا یہ جدید لہجہ رئیس فروغ کواردو ادب میں ایک بلند مقام پہ فائز کرتا ہے۔
60 ء کی دہائی میں اردو ادب میں جدیدیت در آنا شروع ہوئی۔ جدیدیت سے چند دہائیاں ادھر ترقی پسند تحریک شروع ہوئی تھی جس نے علوم و فنون میں اپنا لوہا منوایا۔ اس صورتحال میں جدیدیت کی تحریک ایک نئی شناخت کا امکان لیے آ گئی۔ اس طرح شعرا دو حصوں میں تقسیم ہوئے، ایک گروہ ترقی پسندی کا قائل تھا جبکہ دوسرا جدت کا۔ اس جدت نے اُردو غزل کے موضوعات پر خاطر خواہ اثر ڈالا۔
رئیس فروغ نے روایتی موضوعات کو اس خوبصورتی سے قلم بند کیا کہ روایتی موضوعات میں جدت کا پہلو نمایاں ہو گیا۔ رئیس فروغ کو موضوعات کو برتنے کا سلیقہ آ گیا۔کلاسیکی لہجے کے اشعار کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں جدید لہجہ بھی ملتا ہے ۔یہ جدید لہجہ وہ دیگر شعر اسے بہت قبل استعمال کر رہے تھے۔ عموماً شعرا جدید لہجہ اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور لاکھ کوشش کے باوجود وہ اس میں کامیاب ہوتے نظر نہیں آتے مگر رئیس فروغ اس فن میں طاق تھے۔ وہ آگاہ تھے کہ شاعری میں جدت کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس لئے ان کی شاعری ہمیشہ تازہ ہوا کے جھونکے کی صورت رہی۔ انہوں نے ندرت اور جدت سے مضامین کو نئے ڈھنگ میں برتا اور ہر بار ایسی صورت میں منظر سامنے آتے کہ لوگ چونک جاتے تھے۔ان کی جدید شاعری میں غنایت سے بھرپور روایتی لہجے کو جھلک نظر آتی ہے۔انہوں نے مشرق کی تہذیبی قدروں کو سامنے رکھا۔ یوں لگتا ہے کہ رئیس کی غزل میں پنجاب کے دیہات کی مٹی کی بو اور باس شامل ہے۔ وہی فصلوں کا اچھا ہونا، ساون میں پینگوں کا بڑھانا، آنگن آنگن آگ جلنا، مٹی کے کھلونوں کیلئے بچوں کا مچلنا۔تصوف کے مضامین اگرچہ رئیس فروغ کی شاعری میں کم نظر آتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان کے آثار ضرور ملتے ہیں۔پھران کی شاعری میں جہاں مسرت و انبساط کے پہلو آتے ہیں وہیں حزن و ملال جیسی اضطراری کیفیات کا اظہار بھی نظر آتا ہے۔
ان کی غزل اپنے عہد کی ترجمان بھی ہے۔ ایسے عالم میں کہ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کیلئے وقت بھی نہیں ، ہر کوئی اپنی دوڑ میں مصروف ہے، معاشرے میں تبدیلیاں اس سرعت سے آئیں کہ ایک عجیب رویہ اور لہجہ پنپ اٹھا، بیگانگی نے جان پہچان کی جگہ لے لی اور کراچی جیسے روشنیوں کے شہر(جہاں وہ رہتے تھے) جہاں لاکھوں لوگوں کا بسیرا ہے وہاں لوگ اپنی اپنی زندگی میں مست اور مگن ہو گئے اورراتوں کو بھی جاگ جاگ کر محنت کرنے لگے۔رئیس فروغ کے ہاں زمانے کے انہی تلخ حقائق کا بیان ملتا ہے۔ شاعر بہتر عصری شعور رکھتا ہے اس لئے وہ زمانے کو سمجھ جاتا ہے۔ ان مصائب کا تذکرہ وہ اپنی تخلیق میں ظاہر کرتا ہے۔ ان کے ہاں زندگی کا المیہ نظر آتا ہے۔ اس دکھ اور رنج کے اظہار میں انہوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
رئیس کی غزلیں منفرد انداز اور لطیف لہجے کی حامل ہیں۔ ان میں کومل خیالات اور لطیف اشیا کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر شعر الگ جہان کی طرف لے جاتا ہے۔ سادگی، خوبصورتی، سلاست اور روانی رئیس کی غزل کو منفرد لہجہ عطا کرتی ہے۔ ان کی غزل فلسفوں سے تہی تھی اس لئے سنجیدہ قاری کے ذوق سلیم کی آبیاری کیلئے کافی تھی۔ ان کی باتوں میں گہرائی کی بجائے خوبصورتی ہوتی تھی۔ بھاری بھر کم لفظوں سے گریز کیا اس لئے ناصحانہ لہجہ نہیں ملتا بلکہ جمالیاتی آہنگ ملتا ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ رئیس فروغ کے ہاں مختلف زبانوں کا استعمال ان کے عمیق مطالعے کا ترجمان ہے ۔جیسا کہ رئیس فروغ کی غزل میں ہندی عناصر شامل ہیں اور ان کی غزل میں رواں مترنم ہندی بحریں اور گیتوں کا تاثر بھی موجود ہے اس سے یہ طے ہے کہ رئیس فروغ کا اسلوب قدرے ہندی آمیز ہے۔ ان کے ہاں اس کثرت سے ہندی الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ ہندی گیتوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کا استعمال اس خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ الفاظ غزل کے لہجے سے غیر مانوس بالکل نہیں لگتے بلکہ اسی ڈکشن کا حصہ نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں ہندی علامات مخصوص تہذیبی پس منظر رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی غزل میں انفرادیت اور تازہ کاری ہے۔ ان کی غزل میں نغمگیت اور روانی لانے میں ہندی لفظیات کا اہم کردار ہے۔اردو غزل میں ہندی زبان کے اثرات در آنے میں ایک اہم وجہ برصغیر کی تہذیبی روایت ہے ان ہندی الفاظ کی آمیزش نے رئیس فروغ کے کلام کو تازگی شگفتگی، ندرت، نزاکت اور تخیل کی رعنائی عطا کی ہے۔ یوں رئیس کی غزلوں کے اشعار غنایت اور کو ملتا سے لبریز ہو گئے۔
ان کی کچھ غزلیں ایسی ہیں کہ ان میں گیتوں کا لہجہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس لہجے میں بحریں رواں ہیں اور شاعری مترنم ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے جھرنا بہہ رہا ہے۔ اس موسیقیت اور غنائیت کے پس پشت رئیس فروغ کا ہندی زبان و ادب سے واقفیت کے ساتھ ساتھ ان کا ایک بطور گیت نگار کے طور پر بھی سامنے آنا ہے۔ انہوں نے کئی گیت لکھے جنہیں کئی معروف گلوکاروں نے گایا ۔ اس لئے ان کی غزلوں میں بھی انہی گیتوں کا ردھم نظر آتا ہے۔اور غزلوں میں حلاوت کی وجہ بھی یہی گیت نگاری ہے۔ تاثر اور ترنم سے بھرپور ان کی غزلیں ان کے فنِ غزل گوئی میں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
بنیادی طور پر رئیس فروغ کی شاعری کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔غزل، پابند، معریٰ و نثری نظم، قومی و ملی نغمے، ٹیلی ویژن کے گیت اور نونہال ادب۔رئیس فروغ کا انتقال 5اگست 1982ء کو ہوا۔
منتخب غزلیں
پھول زمین پر گرا پھر مجھے نیند آ گئی
دور کسی نے کچھ کہا پھر مجھے نیند آ گئی
ابر کی اوٹ میں کہیں نرم سی دستکیں ہوئیں
ساتھ ہی کوئی در کھلا پھر مجھے نیند آ گئی
رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈرے
میں بھی ذرا ذرا ڈرا پھر مجھے نیند آ گئی
اور ہی ایک سمت سے اور ہی اک مقام پر
گرد نے شہر کو چھوا پھر مجھے نیند آ گئی
اپنے ہی ایک روپ سے تازہ سخن کے درمیاں
میں کسی بات پر ہنسا پھر مجھے نیند آ گئی
تو کہیں آس پاس تھا وہ ترا التباس تھا
میں اسے دیکھتا رہا پھر مجھے نیند آ گئی
ایک عجب فراق سے ایک عجب وصال تک
اپنے خیال میں چلا پھر مجھے نیند آ گئی
…
گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے
ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے
بوجھل آنکھیں کب تک آخر نیند کے وار بچائیں گی
پھر وہی سب کچھ دیکھنا ہوگا صبح سے جو کچھ دیکھا ہے
دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے
گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے
آدھی عمر کے پس منظر میں شانہ بہ شانہ گام بہ گام
تو ہے کہ تیری پرچھائیں ہے میں ہوں کہ میرا سایہ ہے
ہم ساحل کی سرد ہوا میں خوابوں سے الجھے ہیں فروغ
اور ہمارے نام کا دریا صحرا صحرا بہتا ہے
…
گھر میں صحرا ہے تو صحرا کو خفا کر دیکھو
شاید آ جائے سمندر کو بلا کر دیکھو
دشت کی آگ بڑی چیز ہے آنکھوں کے لیے
شہر بھی خوب ہی جلتا ہے جلا کر دیکھو
تم نے خوشبو سے کبھی عہدِ وفا باندھا ہے
روشنی کو کبھی بستر میں لٹا کر دیکھو
کس نے توڑا ہے زمیں اور قدم کا رشتہ
آج کی رات یہی کھوج لگا کر دیکھو
یہ برستے ہوئے بادل تو نہ سونے دیں گے
کوئی بچپن کی کہانی ہی سنا کر دیکھو
ہجر اچھا ہے نہ اب اس کا وصال اچھا ہے
اس لیے اور کہیں عشق لڑا کر دیکھو
…
فضا ملول تھی میں نے فضا سے کچھ نہ کہا
ہوا میں دھول تھی میں نے ہوا سے کچھ نہ کہا
یہی خیال کہ برسے تو خود برس جائے
سو عمر بھر کسی کالی گھٹا سے کچھ نہ کہا
ہزار خواب تھے آنکھوں میں لالہ زاروں کے
ملی سڑک پہ تو بادِ صبا سے کچھ نہ کہا
وہ راستوں کو سجاتے رہے انہوں نے کبھی
گھروں میں ناچنے والی بلا سے کچھ نہ کہا
وہ لمحہ جیسے خدا کے بغیر بیت گیا
اسے گزار کے میں نے خدا سے کچھ نہ کہا
شبوں میں تجھ سے رہی میری گفتگو کیا کیا
دنوں میں چاند ترے نقش پا سے کچھ نہ کہا
………
رئیس کے چنداشعار
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
…
حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے
آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے
…
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اُتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مرجاتے ہیں
…
اپنے حالات سے میں صلح تو کر لوں لیکن
مجھ میں روپوش جو اک شخص ہے مر جائے گا
…
ہوا جانے کیا کہہ رہی ہے ہوا سے
جہاں شہر ملتا ہے دشتِ بلا سے
…
میں جن دنوں ترے خوابِ وفا نمود میں تھا
عجیب سا ترا دشمن مرے وجود میں تھا
…
بدن فشارِ مہہ و سال سے غبار ہوا
فقیر محو تماشائے ہست و بود میں تھا
…
اس ہری شاخ نے بازو تو بہت پھیلائے
ابرِ آوارہ تلک ہاتھ نہ جانے پائے
…
آنکھ جو ہم کو دکھاتی ہے وہ ہم کیا دیکھیں
دیکھنا ہے تو کسی خواب سے کم کیا دیکھیں
…
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments