بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں!

تحریر : عابدحمید


سوات،ہنگو،دیر،اورکزئی،وزیرستان،ڈی آئی خان اورلکی مروت کے علاقوں کو دہشت گردی کی آگ نے لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن صوبائی حکومت پانچ اگست کے جلسے میں مصروف رہی جبکہ وفاقی حکومت کشمیر کے انتخابات میں۔

 جہاں سیاسی جماعتوں کے ذاتی مفادات آجاتے ہیں وہاں یہ سب ایک ہوجاتی ہیں لیکن جب مسئلہ امن وامان کا ہو یا کوئی عوامی مسئلہ تب یہ پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہوجاتی ہیں جس کی حالیہ مثال خیبرپختونخوا میں اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق قانون تھا جس پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر تھیں بلکہ حزب اختلاف تو بڑھ چڑھ کر اس قانون کی حمایت کررہی تھی۔ افسوسناک امریہ ہے کہ دیر،ہنگو اور سوات میں پیش آنے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعات پر سیاسی رہنماؤں اور پارٹیوں کی جانب سے جو بیانات آئے اس سے قوم مزید تقسیم ہوئی۔چاہئے تو یہ تھا کہ اتنے بڑے واقعات کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر آجاتیں لیکن ایسا نہ ہوسکا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ہنگو اور سوات گئے جہاں انہوں نے زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی،مگر ان کی جانب سے جو کہاگیااس نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سیاسی قیادت کی تقسیم کو مزید واضح کردیا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق جو امن وامان کے ذمہ دار ہیں وہ ٹرانسفر پوسٹنگ میں مصروف ہیں۔ کیا اس بیان سے انہوں نے حکومت پر اپنی گرفت کی کمزوری ظاہر نہیں کی؟تبادلے اور تعیناتی بیوروکریسی کے کام کا حصہ ہے،مگربیوروکریسی کس کے تابع ہے؟ پولیس کس کے تابع ہے؟اگربیوروکریسی صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں تو کیا ایسی حکومت کو ٹھہرنے کاحق ہے ؟

حیران کن بات یہ ہے کہ علیمہ خان نے سٹریٹ موومنٹ خیبرپختونخوا سے شروع کی حالانکہ وہ یہ کام پنجاب سے بھی شروع کرسکتی تھیں، اور یہی بات ان کی جماعت کے لوگ بھی کہہ رہے ہیں۔پانچ اگست کا جلسہ پشاور کے بجائے راولپنڈی یا اسلام آباد میں بھی کیا جاسکتاتھا۔علی احمد کرد نے وکلاتحریک بھی خیبرپختونخوا سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اور تو اور دہشت گردوں نے بھی اسی صوبے کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے، یعنی کاروبارزندگی بند کرنے، عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے سمیت جتنے بھی کام ہیں وہ اسی صوبے سے شروع ہورہے ہیں۔ اگر نہیں ہورہا تو امن وامان کی بحالی کیلئے کوئی اجلاس،دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل،بڑوں کی بیٹھک، ایپکس کمیٹی میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد،وزیراعلیٰ کا خیبرپختونخوا کا دورہ، یہ سب نہیں ہورہا۔ لیکن جو کچھ ہورہاہے اس کی عوام کو کوئی ضرورت نہیں۔10فروری کو ایپکس کمیٹی میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا؟ایپکس کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلانے کی ضرورت کیوں نہیں محسوس کی گئی؟

کیا اس وقت صوبے کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ وزیراعلیٰ جلسے جلوسوں کے بجائے مقتدرہ اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بیٹھیں اور اس پر بات کریں، دہشت گرد پولیس کے مقابلے میں جو آلات اور حکمت عملی استعمال کررہے ہیں وہ زیادہ جدید اور پیچیدہ ہے، کیاہماری پولیس اس قسم کی دہشت گردی کے مقابلے کیلئے تیار کی گئی ہے؟ اگرچہ پولیس اہلکار توقعات سے بڑھ کر جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن جب انہیں پکڑ لیاجاتا ہے اور ان کو پیسے دے کر چھوڑنے کی ویڈیو وائرل ہوتی ہے تو کیا اس سے ان کا مورال نیچے نہیں آتا؟ گزشتہ سولہ سترہ سالوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے الگ فورس کیوں قائم نہیں کی جاسکی؟تمام تر تنقید کے باوجود سی ٹی ڈی کو کیوں اَپ گریڈ نہیں کیاجاسکا؟ان کے مختلف اضلاع میں تھانے کیوں نہیں بن سکے؟کیا کوئی ان سوالات کا جواب دینے کو تیار ہے ؟

پی ٹی آئی کی تمام تر توجہ اس وقت اندرونی کھینچا تانی پر لگی ہوئی ہیں۔پارٹی کے اندرونی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ وہ انہی میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شاید خیبرپختونخوا شامل ہی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جب تک سیاسی حمایت حاصل نہیں ہوگی اس وقت تک اس عفریت کاخاتمہ ممکن نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس جنگ کو اپنی جنگ ماننا ہوگا۔نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔اگرحالات یہی رہے تو نہ صرف جنوبی اضلاع بلکہ خدانخواستہ پورا صوبہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ دہشت گرد یہاں قبضہ کرلیں گے بلکہ امن وامان کی صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔لوگوں کی نقل مکانی شروع ہوگی، کاروباری طبقہ تو پہلے ہی اس صوبے سے ہجرت کرچکا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس طرف دیکھنا ہوگا، اس حوالے سے جامع پالیسی اپنانی ہوگی، افغانستان کا معاملہ بھی سیاسی طورپر دیکھنا ہوگا،سیاسی قیادت کو مقامی لوگوں اورمشران کو قائل کرناہوگا۔دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب عام لوگوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ ریاست ان کی جان ومال کی ذمہ دار ہے۔

اس وقت جو صورتحال بنی ہوئی ہے سیاسی قیادت اس سے لاتعلق نظرآرہی ہے۔وزرااور مشیر پشاور یا اسلام آبادمیں پائے جاتے ہیں جن علاقوں میں حملے ہو رہے ہیں وہاں کوئی جانے کو تیار نہیں۔ کیا منتخب نمائندوں کا کام صرف ووٹ لینا اور اسمبلی کے ٹھنڈے ہال میں تقریر کرنے کی حدتک تھا؟دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو جرگے بلائے گئے تھے اور وزیراعلیٰ نے ان کی سفارشات پر عملدرآمد کرنا تھا وہ کب ہوگا؟ان جرگوں میں کئے گئے فیصلوں کا کیابنا؟ اگر معاملات کہیں اور سے خراب ہیں تو پھر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے وزراکو اس پر کھل کر بات کرنی چاہئے، اشاروں کنایوں میں کی جانے والی باتوں سے بے یقینی کی کیفیت مزید بڑھتی ہے۔ان وزراکو اس بات کا پابند کیاجائے کہ وہ کم سے کم شہداکے جنازوں میں تو شرکت کیاکریں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت کمزور وکٹ پر کھیل رہے ہیں۔ ان کی نہ صرف پارٹی پہ گرفت کمزور ہے بلکہ حکومتی معاملات بھی مکمل طورپر نہیں سنبھالے جارہے۔ علیمہ خان کے خیبرپختونخوا میں جلسے نہ صرف ان کی بلکہ پارٹی کی صوبائی قیادت کی پوزیشن بھی کمزور کررہی ہے۔ اگرچہ یہ جلسے یا سٹریٹ موومنٹ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی لیکن ایسے سیاسی حربوں سے قیادت کمزور ہوتی ہے اور اس وقت یہی کچھ پی ٹی آئی میں ہورہا ہے۔تقسیم مزید بڑھ رہی ہے ساتھ میں کارکنوں کی بددلی میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس کا مظاہرہ ڈی آئی خان میں علیمہ خان کے جلسے میں ہواجہاں حاضرین کی تعداد کم تھی۔ اس کی ایک وجہ اس علاقے کا علی امین گنڈاپور کا آبائی علاقہ ہونا بھی ہے جن کی جانب سے الزام عائد کیاجاتا ہے کہ ان کی وزارت اعلیٰ کے جانے میں علیمہ خان کابھی ہاتھ ہے۔پی ٹی آئی کو اپنی سمت درست کرنی ہوگی اور اختلافات کا خاتمہ کرنا ہوگا ورنہ صوبے میں ایک بار پھر بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

شہرِ اقتدار میں ہلچل کیوں؟

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر گزشتہ کئی ماہ سے کسی نہ کسی صورت بحث جاری تھی، تاہم اس میں سنجیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ جمعرات وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔

وزیرداخلہ کے خطاب پر سیاسی بھونچال

نئے صوبے، گیند بڑی جماعتوں کی کورٹ میں:(ن )لیگ محاذ آرائی کے موڈ میں نہیں

نئے صوبوں کی بحث نے ماحول گرما دیا!

کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی پر اسرار موت معمہ بنے ہوئی ہے۔ آئی بی اے کراچی سے گریجویٹ اس نوجوان کی لاش پر اسرار حالات میں گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

چھوٹے یونٹس، انتظامی بہتری کیلئے ناگزیر

گزشتہ دنوں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کوئٹہ پہنچے جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتی رٹ کمزور نظر آ رہی ہے جبکہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔

مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری

مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کی 21 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج نے علاقے کی آئندہ سیاست کی سمت بڑی حد تک واضح کر دی ہے۔

مائیں بچوں کی تعلیم میں کیسے مدد کر سکتی ہیں؟

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو مضبوط بنانے میں ماں کا کردار سب سے نمایاں ہوتا ہے۔ ماں بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔