نئے صوبوں کی بحث عالمی سطح پر پہنچ گئی

تحریر : میروسلاف زفیروف


تیزی سے بڑھتی آبادی کیلئے انتظامی اصلاحات :، ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں 16 سے 30 انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کئی :ممالک اپنی آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں کو بارہا تبدیل کر چکے ہیں:ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، اس طرح پہلی سطح کی انتظامی حکومتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی :ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی ڈھانچے کو آگے بڑھایا جائے اور 30 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں

بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں آبادی کی شرحِ نمو ان اداروں کی صلاحیت سے آگے نکل رہی ہے جنہیں اس آبادی کو  منظم کرنے اور اس پر حکمرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ یہ صورتِ حال حکمرانی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج پیدا کر رہی ہے۔جب چھوٹے معاشروں کیلئے بنائے گئے انتظامی نظام سے کہیں بڑی، زیادہ شہری آبادی والی اور معاشی اور سماجی عدم مساوات کی شکار آبادیوں کی ضروریات پوری کرنے کی توقع کی جاتی ہے تو فیصلہ سازی ان شہریوں سے بہت دور ہو سکتی ہے جن کی خدمت کیلئے یہ نظام قائم کیے گئے تھے۔

پاکستان کی صورتحال اس کو واضح کرتی ہے کہ یہاں اصلاحات کیوں ضروری ہیں اور ان کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ 1951ء کے بعد سے پاکستان کی آبادی میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 26 کروڑ افراد اب بھی انہی چار بڑے انتظامی صوبوں میں رہتے ہیں، تاہم ان کے درمیان نمایاں فرق موجود ہیں۔ مثال کے طور پر صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان کا رقبہ زیادہ ہونے کے باوجود وہاں کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کم ہے۔

انتظامی حدود اس بات کا  تعین کرتی ہیں کہ حکومتیں محصولات کیسے جمع کرتی ہیں، عوامی فنڈز کیسے تقسیم کرتی ہیں، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کیسے کرتی ہیں، ہنگامی حالات کا مقابلہ کیسے کرتی ہیں اور کارکردگی کو کیسے جانچتی ہیں۔ جب یہ انتظامی نقشے آبادی اور معیشت کی بدلتی ہوئی حقیقتوں سے مطابقت کھو دیتے ہیں تو حکمرانی کے مسائل مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ مسئلہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب صوبائی دارالحکومت دور دراز اضلاع سے مزید دور محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کا اپنے حکومتی اداروں سے تعلق کمزور پڑ تا ہے جس سے سماجی و معاشی استحکام کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ 

پاکستان کی آبادی میں مسلسل اضافے کے باعث، جس کے 2030 ء تک 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، انتظامی اصلاحات ایک مسلسل توجہ طلب معاملہ بن جاتی ہیں۔

آبادی میں تبدیلی کے ساتھ قدم ملا کر چلنا

اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے گزشتہ برسوں میں آنے والی یکے بعد دیگرے حکومتوں نے ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں۔مثال کے طور پر 18ویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے ساتویں ایوارڈ کے ذریعے صحت اور تعلیم جیسی خدمات سے متعلق اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں۔ 

اس کے ساتھ وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ بھی 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔اگرچہ یہ اقدامات امید افزا ہیں لیکن بہت سے فیصلے اب بھی ان آبادیوں سے دور کیے جاتے ہیں جو اِن فیصلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ لاہور ضلع کی آبادی تقریباًایک کروڑ 30 لاکھ ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادی صرف ایک لاکھ 28 ہزار ۔ اس لیے صوبائی دارالحکومت میں تیار کی گئی کسی پالیسی کو بالکل مختلف حالات رکھنے والے علاقوں کی ضروریات بھی پوری کرنا ہوتی ہیں۔

تعلیم کا شعبہ بھی ان تفاوتوں کو واضح کرتا ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس(District Education Performance Index) کے مطابق جانچے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی کارکردگی کے ’’بہت اعلیٰ‘‘ درجے تک نہیں پہنچ سکا۔حالیہ ہاؤس ہولڈ سروے کی رپورٹوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 28 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔

 صوبائی سطح پر یہ شرح پنجاب میں 21 فیصد اور بلوچستان میں 45 فیصد ہے۔یہ فرق پالیسی سازوں اور اضلاع کے درمیان، بجٹ اور نتائج کے درمیان اور اختیارات اور جوابدہی کے درمیان فاصلوں کو ظاہر کرتا ہے۔

شہریوں کے قریب حکومتی نظام

پاکستان اس حوالے سے کوئی منفرد مثال نہیں ہے۔ دوسرے بڑے اور متنوع ممالک نے بھی اپنی آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں کو بارہا تبدیل کیا ہے۔مثال کے طور پر، نائجیریا نے اپنے اندرونی انتظامی نقشے میں بار بار تبدیلیاں کیں۔ آزادی کے وقت موجود تین خطوں کے ڈھانچے کو 1967ء میں 12 ریاستوں میں تبدیل کیا گیا اور بالآخر 1996ء تک ریاستوں کی تعداد 36 ہو گئی۔

اسی طرح انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد 1991ء میں 27 تھی جو بڑھ کر آج 38 ہو چکی ہے۔ کینیا نے 2013 ء میں اپنے آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں قائم کیں۔انڈونیشیا، نائجیریا اور برازیل میں پہلی سطح کی انتظامی اکائیوں کی اوسط آبادی تقریباً 60 لاکھ سے 80 لاکھ ہے۔ 

یہ تعداد پاکستان کے موجودہ اوسط سے کہیں کم ہے، جہاں فی انتظامی اکائی اوسط آبادی تقریباً6 کروڑ ہے۔ اس کے باوجود یہ ممالک انتظامی لحاظ سے نسبتاً زیادہ پیچیدہ نظام رکھتے ہیں۔انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے سے بہتر حکمرانی ممکن ہو سکتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب حکومتی نظام کا حجم معاشرے کے حجم سے مطابقت نہ رکھے تو انتظامی ڈھانچے کو بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے۔

اس معاملے میں کینیا ایک اہم مثال ہے۔ اس ملک نے اپنے انتظامی نقشے کے ساتھ اپنے مالیاتی اور سیاسی نظام کو بھی تبدیل کیا۔ وہاں کاؤنٹیز صرف نئی جغرافیائی حدود نہیں تھیں بلکہ انہیں منتخب حکومتوں کی شکل دی گئی جنہیں آئین کے تحت محفوظ اختیارات اور قومی آمدنی میں فارمولے کی بنیاد پر حصہ دیا گیا۔ 

اس فارمولے میں آبادی اور غربت سمیت مختلف عوامل کو مدِنظر رکھا گیا۔تاہم لبنان اس کے برعکس ایک مختلف منظر نامے کو ظاہر کرتا ہے کہ مناسب مالیاتی اور ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر انتظامی تقسیم اتنی ہی نقصان دہ ہو سکتی ہے جتنی حد سے زیادہ مرکزیت۔

لبنان میں ایک ہزار سے زیادہ بلدیاتی ادارے موجود ہونے کے باوجود ان میں سے بہت سے ادارے اتنے چھوٹے اور مالی طور پر کمزور ہیں کہ مؤثر انداز میں عوامی خدمات فراہم نہیں کر سکتے۔

اداروں اور مالیاتی نظام میں بھی تبدیلی کی ضرورت

انتظامی حدود، مالی وسائل اور ذمہ داریوں میں تبدیلی ایک ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر چھوٹی انتظامی اکائیاں قائم کر دی جائیں مگر انہیں مالی وسائل کی منتقلی، محصولات جمع کرنے کے مؤثر اختیارات اور خدمات فراہم کرنے کی واضح ذمہ داریاں نہ دی جائیں، تو اختیارات کی مرکزیت صرف نچلی سطح پر منتقل ہو کر دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں اس بحث کو کسی ایک ’’درست‘‘ انتظامی نقشے کے انتخاب تک محدود نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے لیے حکمرانی کے متعدد ممکنہ ماڈلز پر غور کرنا ضروری ہے۔ایک نسبتاً محدود اصلاح کے تحت موجودہ ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح پہلی سطح کی انتظامی حکومتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی جبکہ فی انتظامی اکائی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ سے کم ہو کرڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔

زیادہ وسیع اصلاحاتی ماڈلز کے تحت آبادی میں توازن یا جغرافیائی ہم آہنگی کی بنیاد پر 23 سے 25 انتظامی اکائیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ایک اور طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر انتظامی ڈھانچے کو آگے بڑھایا جائے اور 30 سے زیادہ انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں۔ اس طرح ہر اکائی کی اوسط آبادی دوسری بڑی وفاقی ریاستوں میں پائی جانے والی آبادی کے زیادہ قریب ہو سکتی ہے۔ہر ماڈل کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں۔ 

کم تعداد میں بڑی انتظامی اکائیوں کے لیے قانون سازی اور مالی وسائل کی فراہمی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس زیادہ تعداد میں چھوٹی اکائیاں دارالحکومتوں، بجٹ اور سیاسی اختیارات کو شہریوں کے قریب لا سکتی ہیں لیکن ان کے قیام پر اخراجات بڑھیں گے اور انتظامی صلاحیت کو بھی مضبوط کرنا پڑے گا۔

دوسرے ممالک کے تجربات یہ بھی بتاتے ہیں کہ صرف انتظامی حدود تبدیل کرنے سے تمام مسائل حل نہیں ہوتے۔نئی انتظامی اکائیاں حکومتی ردِعمل کو بہتر بنا سکتی ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ باصلاحیت ادارے، مالی وسائل کی شفاف منتقلی، کارکردگی کے قابلِ موازنہ اعداد و شمار اور مقامی سطح پر محصولات جمع کرنے کے مؤثر ترغیبی نظام بھی موجود ہوں۔

صرف زیادہ انتظامی اکائیاں نہیں، بہتر حکمرانی ضروری ہے۔مثال کے طور پر پاکستان میں صوبوں پر عوامی خدمات فراہم کرنے کی بڑی ذمہ داریاں عائد ہیں لیکن ان کے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والے محصولات اب بھی محدود ہیں۔

مالی سال 2024-2025 ء میں صوبائی ٹیکسوں سے صرف 983 ارب روپے حاصل ہوئے، جو مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے 0.9 فیصد سے بھی کم تھے۔دوسری جانب زراعت کا ملک کی مجموعیvalue added میں 24 فیصد حصہ ہے لیکن تاریخی طور پر زرعی آمدنی پر ٹیکسوں سے اس شعبے کے حجم کے مقابلے میں بہت کم محصولات حاصل ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے تخمینے کے مطابق زراعت پر مؤثر ٹیکس کی شرح صرف 0.3 فیصد ہے اور 2025ء میں ٹیکس کی شرحیں بڑھائے جانے کے بعد بھی زرعی آمدنی سے حاصل ہونے والے ٹیکس توقعات سے کم رہے ہیں۔کئی دہائیوں سے صوبائی ٹیکس حکام محدود انتظامی صلاحیت، کمزور نفاذ اور ناکافی معلومات جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر زرعی آمدنی کی درست نشاندہی کرنا اور اس پر ٹیکس وصول کرنا مشکل رہا ہے۔

حالیہ اصلاحات کا مقصد ان میں سے بعض کمزوریوں کو دور کرنا ہے لیکن ان کی کامیابی کا انحصار فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ساتھ معلومات کے بہتر تبادلے، زیادہ خودکار نظام اور صوبائی سطح پر قوانین نافذ کرنے کی مضبوط صلاحیت پر ہوگا۔

مقامی سطح پر محصولات جمع کرنے کے کمزور نظام جوابدہی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ شہریوں کے لیے یہ سمجھنا  مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس کے بدلے انہیں کیا مل رہا ہے۔اگر مالیاتی اختیارات کو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شہریوں کے قریب لایا جائے تو حکومت اور عوام کے درمیان یہ تعلق مضبوط ہو سکتا ہے۔

مقامی سطح پر محصولات  کے نظام کو مضبوط بنانا

اس معاملے کا ایک سیاسی و معاشی پہلو بھی ہے۔ چھوٹی اور بہتر مالی وسائل رکھنے والی انتظامی اکائیاں سیاسی اور انتظامی قیادت کے لیے مواقع بڑھا سکتی ہیں۔ ان کی مدد سے مقامی معاشی صلاحیتوں کے مطابق منصوبہ بندی کرنا، موسمیاتی آفات سے پیدا ہونے والے بحرانوں کا انتظام کرنا، شہری آبادی میں اضافے کا مقابلہ کرنا اور ضلعی سطح کی ضروریات کے مطابق خدمات فراہم کرنا آسان ہو سکتا ہے۔

ایسے ملک کے لیے جو سیلاب، پانی کی قلت، تیز ی سے بڑھتی شہری آبادی اور نوجوانوں کے روزگار کے مسائل کا سامنا کر رہا ہو، حکومتی نظام کا شہریوں کے قریب ہونا مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ ہے۔تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ انتظامی ڈھانچے کی نئی تشکیل محض تقسیم در تقسیم کا عمل نہ بن جائے۔

 بعض ممالک میں اس کے برعکس مسئلہ سامنے آتا ہے کہ مقامی اداروں کی تعداد بہت زیادہ ہو لیکن ان کے پاس مناسب مالی وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت نہ ہوتو حکومت کا نظام تقسیم تو ہو جاتا ہے مگر مؤثر نہیں رہتا۔مقصد صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ان کے حجم، اختیارات، وسائل اور جوابدہی میں مناسب توازن پیدا کرنا ہے۔ 

اس لیے پاکستان ایک ایسا سوال سامنے لاتا ہے جس کا سامنا تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی والی بہت سی معیشتوں کو مستقبل میں کرنا پڑے گا۔وہ کون سا مرحلہ ہے جب انتظامی اکائیوں کا حجم خود ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے لگتا ہے؟

اس سوال کا کوئی ایک جواب موجود نہیں اور نہ ہی صوبوں، ریاستوں یا کاؤنٹیوں کی کوئی مثالی تعداد مقرر کی جا سکتی ہے۔تاہم اس کا بنیادی اصول انتظامی حدود سے کہیں وسیع ہے۔ جب آبادی میں اضافہ اداروں کی ترقی سے تیز ہو جائے تو حکومتوں کو ان اداروں کی ازسرِنو تشکیل کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ فیصلے، وسائل اور جوابدہی ان لوگوں کے اتنے قریب آ سکیں جو ان فیصلوں کے نتائج سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے انتظامی اصلاحات  پاکستان سے کیا سبق ملتا ہے؟

 آبادی میں غیر معمولی اضافہ اور انتظامی ڈھانچے کے مسائل

پاکستان کی آبادی 1951ء  کے بعد سے سات گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود ملک کا چار صوبوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچہ آبادی، جغرافیائی حالات اور عوامی خدمات کی ضروریات میں پائے جانے والے نمایاں فرق سے مؤثر طور پر نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

اختیارات کی صوبائی منتقلی اور اس کی حدود

اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے ذریعے اہم اختیارات اور ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں، جبکہ وفاقی ٹیکس آمدن میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا۔ تاہم، فیصلہ سازی کا عمل اب بھی بہت سی مقامی آبادیوں کی پہنچ سے دور ہے۔

تعلیم میں عدم مساوات، حکمرانی کی کمزوریوں کی عکاس

تعلیمی نتائج میں تفاوت انتظامی اور حکومتی نظام کی خامیوں کو نمایاں کرتا ہے۔ پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ شرح پنجاب میں 21 فیصد، جبکہ بلوچستان میں 45 فیصد ہے۔

 دیگر ممالک کے تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق

نائجیریا، انڈونیشیا اور کینیا کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے اختیارات عوام کے قریب لائے جا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، لبنان کا تجربہ بتاتا ہے کہ مناسب وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر انتظامی تقسیم عوامی خدمات کی فراہمی کو کمزور کر سکتی ہے۔

 پاکستان کیلئے انتظامی اکائیوں میں اضافے کے ممکنہ راستے

پاکستان چار صوبوں پر مشتمل موجودہ ڈھانچے کے بجائے اپنی پہلی سطح کی انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھا کر 16، یا 23 سے 25، یا پھر 30 سے بھی زیادہ کر سکتا ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں عوامی نمائندگی اور انتظامی ردِعمل کو بہتر بنانے کے فوائد کا موازنہ تبدیلی کے اخراجات اور انتظامی پیچیدگیوں سے کرنا ضروری ہوگا۔

 پائیدار اصلاحات کے لیے جامع اقدامات ناگزیر

مؤثر اصلاحات کے لیے محض انتظامی حدود تبدیل کرنا کافی نہیں۔ صوبائی محصولات کی وصولی کا نظام مضبوط بنانا، زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا، مالی وسائل کی صوبوں اور مقامی اکائیوں میں شفاف تقسیم یقینی بنانا، قابلِ اعتماد اعداد و شمار مرتب کرنا اور واضح جواب دہی کا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ 

ان اقدامات کے ذریعے عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھائی جا سکتی ہے اور ملک کی پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

تقویٰ انسان کی اصل پہچان

’’ اور تم مان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے‘‘(البقرہ) ’’تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگا ر ہو‘‘(سورۃ الحجرات) ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں حق اور باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرما دے گا‘‘(سورۃ الانفال)

تحفظ حرمین شریفین: مقدس امانت، اجتماعی ذمہ داری

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کیلئے ہدایت کا مرکز ہے‘‘(آل عمران:96)

اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت!

’’تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو‘‘ ( سورۃ الحجرات) اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف مت کرو کہ تم کمزور ہو جاؤ، اور تمہاری ہوا نکل جائے، اور صبر کرو بیشک! اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(سورۃ الانفال:46)

مسائل اور ان کا حل

فجر کی اذان کے بعد نوافل پڑھنا سوال: کیا نماز فجرکی جماعت سے پہلے 2سنت کے علاوہ تحیۃ المسجدکے نفل پڑھ سکتے ہیں ؟مسجدمیں ایک شخص نے فجرکی سنت سے پہلے 2رکعت تحیۃ المسجدوتحیۃ الوضوپڑھی تو ساتھ بیٹھے ایک بزرگ نے کہاکہ فجرکی اذان کے بعدنفل نہیں پڑھنے چاہئیں، آپ وضاحت فرما دیں۔ (چودھری محمد اسلم، اوکاڑہ)

لانگ مارچ کیا رنگ لائے گا؟

خیبر پختونخوا میں ایک جانب مسلسل دہشت گردی‘ امن و امان کے مسائل اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے تو دوسری جانب صوبے کی حکمران جماعت کی جانب سے لانگ مارچ نے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت اپوزیشن مذاکرات اور بلدیاتی انتخابات

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر غیر مشروط طور پر پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی مسائل سیاسی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر ہی ہو سکتے ہیں۔