صبا اکبر آبادی زندہ روایت کے شاعر

تحریر : پروفیسر صابر علی


ان کی شاعری میں شائستگی اور شگفتگی کے عنصر کے ساتھ ساتھ تاریخی تنقیدبھی ہے:شاعری تہذیبوں کی تہذیب ہے اور شاعر ان تہذیبوں کا صورت گر‘ یہ صورت اپنے مکمل خدو خال کے ساتھ نظر آنی چاہئے‘صرف ایک جذبہ بیان کیا تو گویا آپ نے زندگی کا آدھا چہرہ دیکھا :صباؔنے داغ کی طرح زبان و بیان کو مستند بنایا تو ساتھ ہی غزل میں غالب کی طرح عروجِ خیال اور عروج ِفکر کو شامل کیااور بڑے سے بڑے موضوع کو بھی سہل انداز میں بیان کیا

سوانحی خاکہ

خاندانی نام: خواجہ محمد امیر

تاریخ پیدائش: 14اگست 1908

مقام: آگرہ( اکبر آباد)

تعلیم: ابتدائی تعلیم گھرپر حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1927ء میں میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کیا۔

ملازمت اور کاروبار:1930ئمیں محکمہ تعلیم میں ملازمت شروع کی۔ 1940ء میں ملازمت چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کر دیا۔

ہجرت: ستمبر 1947ء میں آگرہ سے براستہ بمبئی پاکستان پہنچے۔ کراچی میں کاروبار کا آغاز کیا۔ حیدر آباد اور کراچی میں زیادہ قیام رہا۔

سلسلۂ ملازمت:مختلف النوع ملازمتیں کیں۔1961 ء میں تقریباً ایک سال محترمہ فاطمہ جناح کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔

تصانیف: ’’اوراقِ گل‘‘ اور ’’چراغِ بہار‘‘ (شعری مجموعے)۔ دیوانِ غالب کی تضمین۔ عمر خیام کی بارہ سو رباعیات کو اردو رباعی میں ترجمہ کیا جس کا مختصر انتخاب ’’دستِ زرفشاں‘کے نام سے شائع ہوا۔ ترجمے کی دوسری کتاب’’ہم کلام‘‘ ہے جس میں غالب کی رباعیات کا ترجمہ پیش کیا گیا۔مرثیوں کی تین کتابیں ’سربکف‘، ’شہادت‘اور ’خوناب‘ کے نام سے شائع ہوئیں۔

وفات: 29اکتوبر1991ء کو اسلام آ باد میں وفات پائی۔ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

اردو غزل گوئی میں صبا اکبر آبادی کا نام اور مقام نمایاں اور ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ 1920ء سے آغازِ شاعری کرکے 29اکتوبر1991ء تک انہوں نے تقریباً72سال کی شعری زندگی گزاری ۔ اس عرصہ میں انہوں نے کتنے انقلابات اپنی آنکھوں سے دیکھے ،ماحول بدلتے دیکھا،پرانی روایات ٹوٹتے دیکھیں، نئی اقدار کو سامنے آتے بنتے اور بکھرتے دیکھا۔ صباؔ کا کمالِ فن یہ ہے کہ ان کی شاعری ان تمام تبدیلیوں کے ساتھ چلتی رہی اور مستقبل کی نوید سناتی رہی۔ انہوں نے ماضی کو فراموش نہیں کیا،روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش میں حال کو بھی نظر انداز نہیں کیا، لہٰذا انہوں نے ماضی کی روشنی سے عہدِ حاضر میں ایسے چراغ جلائے جو آئندہ طویل عرصہ تک مستقبل میں بھی جگمگاتے رہیں گے۔صبا اکبر آ بادی کی شاعری کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مزاج میں قناعت ہے، درویشی ہے اطمینان ہے۔ معاشرے کی افراتفری اور ہیجان کا ان کے مزج پر کوئی منفی ثر نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنی ذات کا جوہر محفوظ رکھا؛ چنانچہ وہ خصائص اور وہ ظرف جو ایک اعلیٰ شاعری کی بنیاد بنتا ہے ان کے یہاں جگمگاتا ہوا نظر آتا ہے۔صبا اکبرآ بادی کا انداز بیان ان کے اپنے ہم عصروں سے بہت مختلف ہے۔ ان کے الفاظ میں سادگی ہے۔ ان کے یہاں مشکل پسندی نہیں ہے۔

ان کی شاعری کا ایک بڑا کمال یہ ہے کہ روایات کی پاسداری اور عصر حاضر نے مل کر نئے ذائقے اور نئی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ جدیدیت پسند افراد کا عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ روایات کی پاسداری کلام و بیان میں پرانا پن پیدا کرتی ہے لیکن صبا ؔ کی شاعری کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خیال بے بنیادہے۔ روایت پسند شاعر اگر ان کی طرح قادر الکلام ہو، دیدۂ بیدار و دلِ زندہ رکھتا ہو، اس کی نگاہ دور تک دیکھتی ہو اور وہ اپنی بات کو پرُ اثر طریقے سے بیان کرنا جانتا ہو تو اس کی شاعری صبا اکبرآ بادی کی طرح روایت و اقدار کا اعتبار و تمکنت پا کر اور نکھر جاتی ہے؛ چنانچہ اسے ہم روایت سے جڑی ہوئی اعلیٰ شاعری کا نام دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں شائستگی اور شگفتگی کے عنصر کے ساتھ ساتھ تاریخی تنقید بھی ہے۔ کبھی زندگی کی صبح ہے کبھی دوپہر کا سورج اور کبھی شبنم بار رات کی ٹھنڈ کا لطف۔ان کے کلام میں ہزاروں ایسے اشعار ملیں گے جو کسی ایک فکر کو بیان کرتے ہوئے جذبے کو اس سطح پر لے آتے ہیں کہ پھر ان کا شعر یا آپ کے دل کو جگاتا چلا جاتا ہے یا ذہن کو جگمگاتا چلا جاتا ہے۔ آپ اس شعر کی کیفیت، فکر اور بلاغت کو محسوس کر سکیں گے بیان نہیں کر سکیں گے، اور اگر بیان کرنا بھی چاہیں تو آپ کی نثر ان کے شعر کے سامنے پھیکی پڑ جائے گی۔بلاغت کا یہ اعجاز یہ کمال کسی اور شاعر کے ہاں کبھی کبھی نظر آتا ہے اور صباؔ کے اشعار میں جا بجا۔

زبان کا صحیح استعمال لفظ کے درو بست کا خیال رکھتے ہوئے شعر کہے جائیں تو ہم انہیں روایت کا نہیں بلکہ زندہ روایت کا شاعر کہیں گے۔ صبا اکبرآ بادی کی شاعری زندہ روایات کی شاعری ہے۔ ان کی مرثیہ نگاری اور رباعی اور تضمین کے حوالے سے ایک بات بہرحال طے ہے کہ انہوں نے مرثیہ نگاری کو انقلابِ فکر اور تطہیرِ فکر کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کے مرثیے کے پس منظر میں بہت سے سوالات بھی ہوتے ہیں۔جہاں تک رباعی کا تعلق ہے ان کے تراجمِ غالب اور خیام پڑھ کر دیکھئے،یوں محسوس ہوگاکہ جیسے دو طلسمی آئینے رکھے ہیں۔ ایک میں خیام یا غالب کی فارسی رباعی ہے اور دوسرے میں صبا ؔ کی اردو رباعی۔ کبھی فارسی اصل محسوس ہوتی ہے اور کبھی اردو۔ یہ صباکا دونوں زبانوں پر قدرت کا ایک ایسا اظہار ہے کہ ان کے ترجمے ترجمے لگتے ہی نہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ صبا ؔکا خیال اور انہی کی تخلیق ہے۔

شاعری تہذیبوں کی تہذیب ہوتی ہے اور شاعر ان تہذیبوں کا صورت گر۔ یہ صورت جیسی بھی ہے اپنے مکمل خدو خال کے ساتھ نظر آنا چاہئے اور صرف ایک جذبہ ایک سلسلہ بیان کیا تو گویا آپ نے زندگی کا آدھا چہرہ دیکھا۔صبا اکبر آبادی کی شاعری میں زندگی اپنے ہر رویے میں نظر آتی ہے جو کبھی ہمارے دل و دماغ میں ایک یاس انگیز خوشی پھیلا دیتی ہے اور کبھی ایسی خوشی جس کو صبا صاحب کہتے ہیں۔

خونِ جگر سمٹ کے تبسم میں آ گیا

آ نکھوں کو آ نسوئوں کی ضرورت نہیں رہی

صبا اکبر آبادی جذبات سے عاری ہرگز نہیں تھے لیکن جذباتیت کو انہوں نے کبھی اپنا شعار نہیں بنایا، جس کی وجہ سے وہ جذبات کو عقل اور جوش کو ہوش کے تابع رکھنا جانتے تھے۔ ان کی اس خوبی کا اندازہ ان کی فکری شاعری سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ اس انداز کی شاعری میں انہوں نے روایتی فکر کو تازگی کے پیکر میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔صبا صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے داغ کی طرح زبان و بیان کو مستند بنایا تو ساتھ ہی ساتھ اپنی غزل میں غالب کی طرح عروج خیال اور عروج فکر کو شامل کیا ۔ اس طرح بڑے سے بڑے موضوع کو بھی وہ سادہ اور سہل انداز میں بیان کر دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ داغ اور غالب کے انداز اور لہجے کی یکجائی نے صبا کے لہجے اور انداز بیان کو شائستگی اور متانت سے ہمکنار کیا ہے۔ یہ وہ لہجہ ہے جو شاعری سے ذوق و شوق رکھنے والے ایک عام قاری کیلئے بھی قابلِ قبول ہے اور تخلیقی شعور و وجدان رکھنے والے کیلئے بھی پرکشش اور اہم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی انداز ِ بیان اختیار کرنے کے باوجود صبا اکبرآ بادی کے فن میں تازگی اور گھلاوٹ قائم ہے۔ صبا اکبرآ بادی ایک سچے شاعر اور چابک دست فنکار تھے۔ وہ شاعری کو صرف اپنے خون جگر کی نمائش تک محدود نہیں رکھتے جذبہ و احساس کے فنکارانہ اظہار کو شاعری سمجھتے ہیں۔لفظوں کے عام معنی سے ہٹ کر انہیں اس طرح استعمال کرنا کہ مفہوم اپنی تمام تر نزاکتوں اور لطافتوں کے ساتھ واضح ہو جائے دراصل شاعری یا ادب کا ہنر سے۔ صباؔ اس ہنر پر قدرت رکھتے ہیں۔ ان کے اس ہنر کا اظہار صرف غزلوں ہی سے نہیں بلکہ اردو کی تمام مروجہ اصناف میں ہوا ہے انہوں نے غزل، نظم، مرثیہ، منظوم تراجم، ملی ترانے۔ ہر صنف میں اپنی انفرادیت کو تسلیم کرایا ہے۔

غزلیات

جوانی زندگانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

یہ اک ایسی کہانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

محبت نے ہزاروں طرح دونوں کو سمجھایا

محبت غیر فانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

زمیں پر رہنے والوں کو خلش اہل محبت سے

بلائے آسمانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

ہمارے اور تمہارے واسطے میں اک نیا پن تھا

مگر دنیا پرانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

محبت ہم نے تم نے ایک وقتی چیز سمجھی تھی

محبت جاودانی ہے نہ تم مجھے نہ ہم سمجھے

ادائے کم نگاہی نے کیا رسوا محبت کو

یہ کس کی مہربانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

بقائے حسن و الفت پر یقیں کتنا تھا دونوں کو

یہاں ہر چیز فانی ہے نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے

……

نہ ہم عبا و قبا و لبادہ رکھتے ہیں

مزاج سادہ ہے ملبوس سادہ رکھتے ہیں

ہدف ہمیں کو بناتے اعتراضوں کا

جو ہم سے سلسلۂ استفادہ رکھتے ہیں

یہ اور بات کہ اظہار کم سے کم ہی کریں

ہم اپنے دل میں محبت زیادہ رکھتے ہیں

نہیں ہے حفظِ مراتب کا شاطروں کو لحاظ

جو بادشاہ کے آگے پیادہ رکھتے ہیں

جدھر چلیں گے اُدھر ساتھ جائے گی منزل

ہم اپنے زیر قدم اپنا جادہ رکھتے ہیں

صبا چلو خس و خاشاکِ باغ صاف کریں

وہ آج سیرِ چمن کا ارادہ رکھتے ہیں

……

غالباً میرے علاوہ کوئی گزرا بھی نہیں

تیری منزل میں کہیں نقش کف پا بھی نہیں

آپ کی راہ میں دنیا نظر آتی ہے مجھے

اک قدم اور جو بڑھ جاؤں تو دنیا بھی نہیں

آپ کیا سوچ کے غم اپنا عطا کرتے ہیں

ہمت دل تو بہ قدر غم دنیا بھی نہیں

حشر کی بھیڑ میں ایک ایک کا منہ تکتا ہوں

اس بھری بزم میں اک جاننے والا بھی نہیں

حسن نے دعوت نظارہ ہر اک رنگ سے دی

عشق نے آنکھ اٹھا کر کبھی دیکھا بھی نہیں

ایک تم ہو کہ تمناؤں کے دشمن ہی رہے

ایک میں ہوں مجھے احساس تمنا بھی نہیں

جزو دل بن کے سماتی ہے محبت دل میں

یہ وہ کانٹا ہے کہ ہے اور کھٹکتا بھی نہیں

منتخب اشعار

یہ ہمیں ہیں کہ ترا درد چھپا کر دل میں

کام دنیا کے بدستور کیے جاتے ہیں

……

روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہے

دل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتے

……

جو مجھے چھوڑ گیا ہے تنہا

شاید اب وہ بھی اکیلا ہوگا

……

کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگی

اور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامہ محفل سہی

……

خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیا

اک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیا

……

کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا

اسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلا

……

تم سے ملنے میں تھی سستی حائل

یہ بھی دیوار گرا دی ہم نے

……

اجالا کرکے ظلمت میں گھرا ہوں

چراغ رہگزر تھا، بجھ گیا ہوں

……

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ڈیجیٹل لٹریسی، ہر خاتون کیلئے ضروری

آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن خریداری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

ٹونر، سیرم اور موئسچرائزر کس چیز کی کیا ضرورت ہے؟

آج کل جلد کی دیکھ بھال کیلئے مارکیٹ میں بے شمار مصنوعات دستیاب ہیں۔ فیس واش، ٹونر، سیرم، موئسچرائزر، سن سکرین اور مختلف اقسام کی کریمیں دیکھ کر اکثر یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں سے کون سی چیز واقعی ضروری ہے اور کون سی صرف اضافی مرحلہ ہے۔

آج کاپکوان:کھیر

اجزا: باسمتی چاول : ایک چوتھائی کپ۔ دودھ:ایک لیٹر۔ چینی: آدھا کپ۔ الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ۔ بادام (باریک کٹے ہوئے) : دو چمچ۔ پستہ (باریک کٹا ہوا) : دو چمچ۔ کاجو : دو چمچ۔ کشمش : دو چمچ۔ عرق گلاب :ایک چائے کا چمچ۔

غالب بیسویں صدی کے شعرا کی زبانی

غالب کی شخصیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔اردو شعرو ادب میں ان پر سب سے زیادہ کام ہو ا ہے ،ہو رہا ہے اور ہو تا رہے گا۔ہر زبان میں ان کی شاعری پر کام ہو ا۔

ایشین گیمز2026ء:پاکستان کے 4برونز میڈل

پہلا تمغہ عاصم خان، دوسرا ویمن کرکٹ ٹیم نے جیتا، دو برونز میڈل سکواش کے کھلاڑیوں کے نام، قومی ہاکی ٹیم کی3فتوحات:بیڈ منٹن پلیئر ماحور شہزاد، ایتھلیٹ شجر عباس،خولہ عمر خان اور باکسرفاطمہ زہرا ،محمد عرفان کا ایشین گیمز میں سفر ختم ہو گیا:ایشین گیمز کے ڈرا کے مطابق پاکستان اور بھارت کو الگ الگ گروپس میں رکھا گیا ہے، روایتی حریفوں کا سیمی فائنل میں سامنا ہونا ناممکن ہے

ابراراحمد ٹی20 بائولنگ کابادشاہ

آئی سی سی کی تازہ رینکنگ:بیٹنگ میں پاکستان کے صاحبزادہ فرحان تیسری پوزیشن پر موجود:شوال ذوالفقار نے بیٹنگ رینکنگ میں 16 درجے ترقی کرکے 29ویں جبکہ عائشہ ظفر 31 درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے 40ویں پوزیشن سنبھال لی،سعدیہ اقبال ٹی ٹوئنٹی بالنگ میں 8ویں جبکہ فاطمہ ثناء 24ویں پوزیشن پرآگئیں۔