ایم ڈی کیٹ کے نتائج پر تنازع
نئے صوبوں کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس کی منطق سمجھ میں نہیں آتی، اگر اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھر واسیوں کے حوالے کردیا جائے۔
انہوں نے ایم کیو ایم کا نام تو نہیں لیا البتہ سیاسی یتیموں کی جماعت قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی جماعت کراچی میں نفرت کی سیاست کرتی ہے لیکن وہ اس نفرت کی سیاست کو ختم کرکے دم لیں گے۔ انہوں نے تھر کی کامیابیوں اور ایم ڈی کیٹ امتحان میں تھر کے طلبہ کی نمایاں کارکردگی کا ذکر کیا اور کہا کہ کچھ لوگوں کو یہ ترقی ہضم نہیں ہورہی۔تھر کے بچوں نے ٹاپ کیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان بچوں کو مبارکباد پیش کی جاتی لیکن یہ سیاسی یتیم نفرت کی سیاست کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے تھرکول بلاک ٹو پر فیز تھری کان کنی توسیعی منصوبے کا افتتاح بھی کیا۔ بلاول بھٹو کے مطابق تھر کی ترقی غیرمعمولی ہے اور پورا ملک حیران ہے کہ تھر کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہے۔
ایم ڈی کیٹ کا امتحان اس وقت سندھ میں وجۂ تنازع بنا ہوا ہے۔ ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے پیپلز پارٹی پر کرپشن کا الزام لگایا اور کہا کہ ان حالات میں ایم ڈی کیٹ کیسے بچ سکتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ پرچہ لیک نہ ہوا ہو۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے مطالبہ کیا کہ ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ 100بچوں کا دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے حقیقت سامنے آ جائے گی۔بقول ان کے اندرون سندھ 80فیصد نمبرز لینے والے جب کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی کا امتحان دیتے ہیں تو بمشکل 26فیصد نمبرز ہی حاصل کرپاتے ہیں۔البتہ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے کہا کہ تھر کے بچوں کی کامیابی پر کسی کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں، اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو ثبوت سامنے لائیں، نتائج پر اعتراض ہے تو دور کرنے کو تیار ہیں لیکن تھر کے بچے کیوں کامیاب ہوگئے اس کو بنیاد بنا کر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ تھر کے کسی بچے نے زیادہ نمبر لیے تو سوال یہ نہ کیا جائے کہ زیادہ نمبر کیوں لیے بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ مزید بچے بھی زیادہ نمبر کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے بچوں کو شہری اور اندرون سندھ کی تقسیم میں بانٹنے کی کوشش کی مذمت کی۔ادھر وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے ایم ڈی کیٹ میں مبینہ بے ضابطگی کا نوٹس لیا اور تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے۔وزارت صحت کی جانب سے نتائج کی تحقیقات کے لیے پی ایم ڈی سی کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔ پی ایم ڈی سے کہا گیا ہے کہ ہائی سکورز سینٹروں پر امیدواروں کی تعداد سمیت ہر ایک پہلو سے نتائج کا تجزیہ کیا جائے، اس کے ساتھ نتائج میں غیرمعمولی یا نمایاں فرق کی بھی جانچ کی جائے۔تحقیقات بھی ہوجائیں گی اور نتیجہ بھی سامنے آجائے گا لیکن منعم ظفر کے مشورے پر عمل سے بہت سے شکوک کا خاتمہ ہوجائے گا تاہم اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پرچہ غیرجانبدار اتھارٹی سے بنوایا جائے، چیک بھی اسی طرح کے افراد کریں تاکہ کسی کودوبارہ انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔
کراچی سے ایک اچھی خبر بھی سامنے آئی ہے، شہر کے پوش علاقے ڈیفنس اور اطراف کو اضافی ایک کروڑ گیلن پانی کی فراہمی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔پانی کی نئی پائپ لائن بچھانے پر 14ارب روپے لاگت کا تخمینہ ہے۔ منصوبہ ایک برس میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈیفنس کو پانی کی فراہمی کی کوشش خوش آئند ہے لیکن شہر کا یہ علاقہ بڑے بڑے گھروں اور بڑے لوگوں کی رہائش پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ ٹینکروں سے پانی خرید سکتے ہیں ، دوسری طرف شہر کا بڑا حصہ ایسا ہے جو پیسے دے کر پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا لیکن مجبور ہے، پیسے دے کر ٹینکروں سے پانی خریدتا ہے، ٹینکرز مافیا کو رشوت الگ دیتا ہے، سرکاری ریٹ پر خوش نصیبوں کو ہی پانی ملتا ہے ورنہ بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے، اس کے بعد بھی پینے کا پانی الگ سے خریدنا پڑتا ہے۔ شہری اور صوبائی حکومت کو شہر کے اس حصے پر بھی کچھ توجہ دینی چاہیے۔بڑے لوگوں کی ہی بات کریں تو میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر کے صرف 85افراد کا ذکر کرتے ہیں جن کے خلاف 9ارب 40کروڑ روپے کے قریب ٹیکس فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات ایف آئی اے نے درج کرلیے ہیں۔
جی ہاں، 85افراد اور ساڑھے 9ارب کے قریب ٹیکس فراڈ۔ حکام بتاتے ہیں کہ ان لوگوں نے دستاویزات میں تبدیلیاں کیں جس پر تحقیقات جاری ہیں۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ نجی ہسپتالوں اور کلینکس نے نئے ٹیکس قوانین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی کال پر ملک کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی گئی۔ پی پی اے نے واضح کیا کہ ٹیکس کا براہ راست بوجھ مریضوں پر ہی پڑے گایعنی انہوں نے حکومت کو بتادیا کہ ٹیکس لگایا تو ہم اپنا منافع کم نہیں کریں گے، اس ٹیکس کو عوام پر ڈال دیں گے۔ ایف بی آر کو چاہیے کہ ان ہسپتالوں، ان کے مالکان اور ڈاکٹروں کی آمدنی کی تحقیقات کریں تاکہ پتہ تو چلے کہ یہ لوگ کتنا کماتے ہیں اور کتنا ٹیکس دیتے ہیں، ان کے اثاثے کتنے ہیں۔ یہ بھی دھیان میں رکھیں کہ یہ لوگ بھی اسی تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کی تیاری کررہے ہیں جو 700ارب روپے کا سالانہ ٹیکس دیتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہسپتالوں کے اثاثوں کی معلومات عوام کے سامنے رکھے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments